اُسامہ ستی قتل کیس :واقعہ میں ملوث پانچوں پولیس اہلکاروں کو برطرف

اُسامہ ستی قتل کیس میں وفاقی پولیس نے اہم اقدام کرتے ہوئے قتل کے واقعہ میں ملوث پانچ پولیس اہلکاروں کو سروس سے برطرف کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ پانچوں پولیس اہلکاروں کو مس کنڈکٹ اور قصور وار ثابت ہونے پر سروس سے برطرف کیا گیا۔ اہلکاروں کی برطرفی کا باقاعدہ نوٹی فکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ سروس سے برطرف کیے جانے والے اہلکاروں میں سب انسپکٹر افتخار، کانسٹیبل مصطفٰی، شکیل، مدثر اور سعید شامل ہیں۔
یاد رہے کہ دو جنوری بروز جمعہ اور تین جنوری بروز ہفتہ کی درمیانی شب کی رات اسلام آباد کے سیکٹرجی 10 میں اے ٹی ایس اہلکاروں کی فائرنگ سے اُسامہ نامی طالبعلم قتل ہوگیا تھا جس کی ایف آئی آر تھانہ رمنا میں درج کی گئی تھی۔
مقتول کے والد کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ 7 اے ٹی اے کے تحت درج کر لیا۔ ایف آئی آر میں 302 کی دفعات میں لگائی گئی ہیں۔ واقعہ میں ملوث 5 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اہلکاروں نے 22 گولیاں فائر کی تھیں اور گاڑی کی فرنٹ اسکرین پر بھی گولیوں کے نشانات تھے۔ چھ جنوری کو اُسامہ ستی قتل کیس کی سماعت اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت میں ہوئی جہاں گرفتار پولیس اہلکاروں کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ عدالت نے ملزم سے سوال کیا کہ کیا آپ پر گاڑی سے فائرنگ کی گئی، اس پر ملزمان نے اعتراف کرتے ہوئے جواب دیا کہ ہم پر فائرنگ نہیں کی گئی۔ عدالت نے کہا کہ اسامہ کے پاس چھوٹی گاڑی تھی، تمہیں نہیں معلوم گاڑی کیسےروکنی ہے؟ کیا گاڑی پر گولیاں برسا دو گے؟ بعد ازاں اے ٹی سی اسلام آباد نے اسامہ قتل کیس کے ملزمان کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔ گزشتہ روز اسامہ ستی کے قتل کی تحقیقات خصوصی سائنٹفک ٹیم کی خدمات بھی لی گئی تھیں جس کےلیے لیزر ٹیکنالوجی کی مدد سے گولیوں کی سمت کا تعین کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے بتایا ہے کہ واقعے کی جوڈیشل انکوائری 2 روز میں مکمل کرلی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مقتول اسامہ ستی کے پاس سے کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا جب کہ یہ بات بھی واضح ہوچکی ہے کہ مقتول کسی بھی قسم کی ڈکیتی میں بھی ملوث نہیں تھا۔ تاہم اب وفاقی پولیس نے اُسامہ ستی کے قتل میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سروس سے برطرف کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button