’’انتخابات میں قریبی رشتہ داروں کی بڑی تعداد مدمقابل‘‘

الیکشن 2024 میں جہاں سیاسی حریف مدمقابل ہیں وہیں قریبی رشتہ داروں کی بڑی تعداد بھی ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے مدمقابل کھڑی ہے، چاہے یہ معاملہ خاندانی رنجش کی وجہ سے ہو یا پھر کسی اور عداوت کے باعث، ایسی مثالیں موجود رہی ہیں کہ بھائی ایک پارٹی سے انتخاب لڑ رہا ہے تو دوسرا بھائی دوسری پارٹی کی طرف سے اپنے ہی بھائی کے خلاف کھڑا ہے۔اگر بات پنجاب سے شروع کی جائے تو تاریخ میں پہلی مرتبہ گجرات کے چوہدری آپس میں سیاسی طور پر دست وگریبان ہیں، پھوپھی بھتیجا ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں، گجرات کے حلقہ این اے 64 سے چوہدری پرویز الہٰی کی اہلیہ قیصرہ الہٰی اور چوہدری شجاعت حسین کے بیٹے چوہدری سالک حسین آمنے سامنے ہیں۔اسی طرح فیصل آباد کے علاقے تاندلیانوالہ کے حلقہ این اے 97 سے دو کزن علی گوہر بلوچ اور سعد اللہ بلوچ آمنے سامنے ہیں اگر جنوبی پنجاب کی بات کریں تو مظفر گڑھ کی پی پی 272 سے سگے بھائی باسط بخاری مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر جبکہ ہارون بخاری جمیعت علماء اسلام ف کے امیدوار ہیں۔ اسی طرح مظفر گڑھ کی قومی اسمبلی کی نشست این اے 177 سے باسط بخاری کی بیٹی شہربانو قریشی اپنے چچا ہارون بخاری کے مدمقابل ہیں۔ مظفر گڑھ ہی کے حلقہ این اے 176 سے نواب زادہ نصراللہ کے بیٹے نواب زادہ افتخار اپنے بھانجے نواب زادہ محمد احمد خان کے مدمقابل ہیں۔ کوٹ ادّو این اے 180 میں رضا ربانی کھر اپنے سوتیلے بھائی عبدالخالق کھر کے مقابلے میں ہیں جبکہ اسی سیٹ پر مصطفیٰ کھر بھی آزاد حیثیت سے میدان میں ہیں۔صوابی این اے 20 پر سابق صوبائی وزیر اور تحریک انصاف کے رہنما شہرام ترکئی امیدوار ہیں جبکہ ان کے مدمقابل ان کے چچا سابق ایم این اے عثمان خان ترکئی مدمقابل ہیں، نوشہرہ میں صوبائی نشست پر دو بھائی آپس میں مدمقابل ہیں، سابق وفاقی وزیر پرویز خٹک کا مقابلہ ان کے بھائی لیاقت خٹک سے ہوگا۔بلوچستان میں انتخابات میں باپ بیٹے، بھائی بھائی اور چچا بھتیجے کی جانب سے ایک دوسرے کے مقابلے میں اتر آنے کی مثالیں بھی سامنے آئی ہیں۔ بارکھان میں کھیتران قبیلے کے سربراہ سابق صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران اور ان کے بیٹے سردار زادہ انعام شاہ کھیتران کی ذاتی لڑائی اب سیاسی میدان میں بھی پہنچ چکی ہے۔ دونوں بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 4 موسیٰ خیل کم بارکھان پر مدمقابل ہیں۔ سردارعبدالرحمان کھیتران ق لیگ، جمعیت علماء اسلام، بلوچستان عوامی پارٹی کے بعد اب ن لیگ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان کے بیٹے انعام شاہ کھیتران پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے ہیں تاہم انتخابات میں آزاد حیثیت سے کھڑے ہیں۔نئی حلقہ بندیوں نے نواب اکبر بگٹی کے پوتے اور نواسے کو مدمقابل لا کھڑا کیا ہے۔ این اے 253 زیارت کم ہرنائی کم سبی کم ڈیرہ بگٹی کم کوہلو پر آمنے سامنے آگئے ہیں۔خضدار سے بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 18 پر زہری خاندان کے تین بھائیوں میں مقابلہ ہے۔میر ظفر اللہ زہری پی بی 35 سوراب پر جے یو آئی کے ٹکٹ پر اپنے دوسرے بھائی پیپلز پارٹی کے امیدوار سابق سینیٹر و سابق صوبائی وزیر میر نعمت اللہ زہری کے خلاف انتخاب لڑ رہے ہیں، پی بی 9 کوہلو پر مری قبیلے کے سابق سربراہ مرحوم نواب خیر بخش مری کے دو بیٹے آپس میں مد مقابل ہیں۔ سابق صوبائی وزیر نواب جنگیز مری ن لیگ جبکہ سابق صوبائی وزیر نوابزادہ گزین مری آزاد امیدوار ہیں۔ قلعہ عبداللہ میں بھی دو بھائیوں میں مقابلہ ہے۔ پی بی 51 قلعہ عبداللہ سے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کے مدمقابل ان کے بھائی پیپلز پارٹی کے امیدوار اکبر خان اچکزئی انتخاب لڑ رہے ہیں۔ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے حلقے این اے 260 چاغی کم نوشکی کم خاران کم واشک پر ن لیگ کے امیدوار سابق وفاقی وزیر سردار فتح محمد حسنی نے اپنے بیٹے عمیر محمد حسنی کو پی بی 32 چاغی پر اپنے بھائی سابق صوبائی وزیر پیپلز پارٹی کے عارف جان محمد حسنی کے خلاف میدان میں اتارا ہے ۔پی بی 7 زیارت کم ہرنائی پر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار نواب خان دمڑ کا مقابلہ اپنے سوتیلے بھتیجے جے یو آئی کے خلیل دمڑ سے ہے، سندھ کے قریب واقع بلوچستان کے اضلاع جعفرآباد، اوستہ محمد اور نصیرآباد میں انتخاب لڑنے والے جمالی قبیلے کے بیش تر امیدوار آپس میں کزن اور قریبی رشتہ دار ہیں۔ پی بی 17 اوستہ محمد سے بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار جان محمد جمالی کا مقابلہ بھی اپنے کزن پیپلز پارٹی کے فیصل خان جمالی سے ہے، پیپلزپارٹی کے اسرار ترین اور ان کے چچا زاد بھائی سردار اعظم خان ترین این اے 252 موسیٰ خیل کم بارکھان کم لورالائی کم دکی اور پی بی 6 دکی پر ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ پی بی 50 قلعہ عبداللہ پر مدمقابل اے این پی انجینئر زمرک خان اچکزئی، مسلم لیگ ن کے ملک فرید احمد اچکزئی اور آزاد امیدوار پشتون یار اچکزئی آپس میں چچا زاد ہیں۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر سابق صوبائی وزیر نواب ایاز جوگیزئی اور ان کے رشتہ دار ن لیگ کے نوابزادہ طور گل جوگیزئی این اے 251 شیرانی کم ژوب کم قلعہ سیف اللہ پر مدمقابل ہیں۔

Back to top button