پاکستانی قومی اسمبلی کا سب سے بڑا حلقہ کونسا ہے؟

ملک میں الیکشن کی آمد آمد ہے، جبکہ انتخابی سرگرمیاں خوب عروج پر ہیں، سیاسی رہنما اپنے حلقوں میں خوب مہم چلا رہے ہیں لیکن جب بات ہو بلوچستان کے این اے 260 کی تو انتخابی مہم ذرا سنبھل کر چلانا پڑتی ہے کیونکہ پاکستان کا یہ حلقہ دنیا کے 86 ممالک کے حلقوں سے زیادہ بڑا حلقہ ہے۔بات یہ ہے کہ بلوچستان این اے 260 کے حلقے کا کُل رقبہ دنیا کے 86 ممالک سے بھی زیادہ ہے، جبکہ قومی اسمبلی کا یہ ایک حلقہ پورے خیبر پختونخوا صوبے کے نصف رقبے سے بھی زیادہ ہے، 98 ہزار کلومیٹر پر محیط رقبے کے لحاظ سے قومی اسمبلی کا سب سے بڑا حلقہ این اے 260 بلوچستان کے 4 اضلاع نوشکی، واشک، خاران اور چاغی پر مشتمل ہے، رقبے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو کُل رقبہ 98 ہزار 596 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، جو پورے خیبر پختونخوا صوبے کے رقبے سے محض 3 ہزار 145 مربع کلومیٹر کم ہے۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ دنیا کے 86 ممالک ایسے ہیں جو قومی اسمبلی کے اس ایک حلقے سے چھوٹے ہیں، ان ممالک میں سری لنکا، عرب امارات، قطر، کویت، اردن، بیلجیئم، سوئیٹزرلینڈ، ڈنمارک اور کروشیا سمیت کئی اہم ممالک بھی شامل ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق قومی اسمبلی کے اس حلقے کی کُل آبادی 10 لاکھ 44 ہزار نفوس پر مشتمل ہے، جس میں 3 لاکھ 65 ہزار 589 ووٹرز موجود ہیں جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 2 ہزار 289 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 63 ہزار 300 ہے۔این اے 260 سے 2 بین الاقوامی بارڈرز، افغانستان اور ایران بھی متصل ہیں، جبکہ سیندک اور ریکوڈک میں سونے اور تانبے کے بیش بہا ذخائر کے علاوہ ’راسکوہ‘ کا وہ پہاڑ بھی واقع ہے جہاں ایٹمی دھماکا کیا گیا تھا، اس حلقے میں آنے والے ضلع چاغی کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو قدرتی دولت سے مالا مال گردانے جاتے ہیں، جبکہ سرحدی تجارت کے لیے بھی اس علاقے کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ رقبے کے لحاظ سے قومی اسمبلی کے اس سب سے بڑے حلقے میں بے شمار مسائل ہیں، خیر محمد کے مطابق حلقے میں تعلیم، صحت، بجلی کی فراہمی پانی اور انفرااسٹرکچر بڑے مسائل میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بدامنی کی صورتحال اور بارڈر منیجمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے بیروزگاری ایک بڑا چیلنج ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہر انتخاب کے موقع پر عوامی نمائندے گھر گھر آکر دعوے اور وعدے تو کرتے ہیں مگر حقیقی معنوں میں یہاں کے مسائل کے حل میں وہ مکمل طور پر ناکام ہوجاتے ہیں۔قومی اسمبلی کے اس حلقے میں قومی سطح کی حامل جماعتوں سے زیادہ قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کا ووٹ بینک ہمیشہ سے موجود رہا ہے، 2018 کے انتخابات میں اس حلقے سے بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے ہاشم نوتیزئی منتخب ہوئے تھے، جو وفاقی وزیر بھی رہے۔ اس کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام کے عثمان بادینی بھی رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں، اس کے علاوہ سردار فتح محمد حسنی بھی کئی بار اسی حلقے سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں، قومی اسمبلی کا یہ حلقہ افراد بادینی، مینگل، محمد حسنی، جمالدینی سمیت دیگر بلوچ اقوام پر مشتمل ہے۔اس حلقے سے اس بار انتخابات میں حصہ لینے والے جمعیت علمائے اسلام کے عثمان بادینی کے مطابق وقت کم ہونے کی وجہ سے امیدوار حلقے میں مکمل طورپر انتخابی مہم نہیں چلاسکتے، یہ حلقہ اتنا بڑا ہے کہ یہاں پر قومی اسمبلی کی 3 نشستیں ہونی چاہئے تھیں، تاہم ہماری جانب سے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیا جا رہا ہے۔
