محسن پنجاب سے چیئرمین PCBبننے والے محسن نقوی کون ہیں؟

نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی بلامقابلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے بلامقابلہ چیئرمین منتخب ہو گئے ہیں۔ منگل کو پی سی بی ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے گورننگ بورڈ کے خصوصی اجلاس میں محسن نقوی کو تین سال کے لیے پی سی بی کا چیئرمین منتخب کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران پی سی بی کے تین چیئرمین تبدیل کیے جا چکے ہیں۔ دسمبر 2022 میں رمیز راجہ کی جگہ نجم سیٹھی نےکرسی سنبھالی تھی جبکہ گذشتہ برس جون میں ذکا اشرف کو پی سی بی کی مینیجمنٹ کمیٹی کا چیئرمین تعینات کیا گیا تھا تاہم گذشتہ ماہ 22 جنوری 2024 کو نگران وفاقی حکومت نے محسن نقوی کو پی سی بی کا چیئرمین نامزد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔جبکہ اِس سے ایک ہفتے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین ذکا اشرف نے اپنی مدت ملازمت ختم ہونے سے قبل ہی عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

خیال رہے کہ پی سی بی کا قیام 1949 میں لاہور جم خانہ میں عمل میں آیا تھا۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اس کے پہلے سرپرست اور نواب افتخار حسین ممدوٹ پہلے صدر منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد 31 افراد سربراہی سنبھال چکے ہیں۔

واضح رہے کہ ذکا اشرف کے دور میں پاکستان میں کرکٹ زوال پذیر رہی تھی اور ٹیم ایشیا کپ اور ورلڈکپ میں شکست کے علاوہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دوروں پر بھی شکست سے دوچار ہوئی تھی۔تاہم گذشتہ ماہ ذکا اشرف اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے جس کے بعد نگران وزیرِ اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کو بورڈ آف گورنرز میں شامل کیا گیا تھا اور اب ان کا انتخاب بطور چیئرمین کر دیا گیا ہے۔

تاہم ہر شخص یہ سوال پوچھتا دکھائی دیتا ہے کہ پنجاب میں نگراں حکومت کے دور اقتدار میں محسن پنجاب اور محسن سپیڈ کے لقب سے ملقب ہونے کے بعد بلامقابلہ چئیرمین پاکستان بورڈ منتخب ہونے والے محسن نقوی کون ہیں؟

بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق جھنگ کے سید گھرانے سے تعلق رکھنے والے سید محسن نقوی لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔انھوں نے کریسنٹ ماڈل سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج یعنی جی سی لاہور میں داخلہ لیا اور یہیں سے گریجویشن کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ میں اوہائیو یونیورسٹی چلے گئے۔امریکہ سے انھوں نے صحافت کی ڈگری حاصل کی جس کے بعد وہ امریکی نیوز چینل سی این این میں انٹرن شپ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔سی این این نے انھیں بطور پروڈیوسر پاکستان کی کوریج کے لیے بھیجا جہاں ترقی پا کر انھوں نے کم عمری میں ہی ’ریجنل ہیڈ ساؤتھ ایشیا‘ بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

یہ دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ ’وار آن ٹیرر‘ کا دور تھا جب 9/11 حملے کے بعد امریکی سمیت غیر ملکی افواج نے افغانستان کا رُخ کیا۔ ان دنوں محسن نقوی سی این این کے لیے رپورٹنگ کر رہے تھے اور اسی دوران انھوں نے اہم شخصیات سے تعلقات بھی بنائے۔

محسن نقوی کی لنکڈ ان پروفائل کے مطابق وہ سی این این کے ساتھ سنہ 2009 تک منسلک رہے۔محسن نقوی نے 2009 میں محض 31 برس کی عمر میں سٹی نیوز نیٹ ورک کی بنیاد رکھی اور صحافت کے پیشے میں اپنا سکہ جمایا۔بعد میں سٹی نیوز نیٹ ورک نے قومی سطح کی خبروں کے لیے 24 نیوز ڈیجیٹل، فیصل آباد کے لیے سٹی 41، جنوبی پنجاب کے لیے روہی ٹی وی، کراچی کے لیے سٹی 21 اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ’یو کے 44‘ نامی چینلز بنائے۔اسی ادارے نے لاہور سے ایک مقامی روزنامے ’ڈیلی سٹی 42‘ کا بھی آغاز کیا۔

میڈیا چینل کے مالک ہونے کے طور پر ان کی شہرت ایک ایسے شخص کی ہے جو اپنے ساتھ کام کرنے والوں کا خیال رکھتے ہیں اور انھیں بہتر مواقع دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

سید محسن نقوی ایک نجی چینل کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی حلقوں میں بھی جانی مانی شخصیت رہے ہیں۔صحافی ماجد نظامی کے مطابق ’محسن نقوی مرحوم ایس ایس پی اشرف مارتھ کے داماد، چوہدری پرویز الہیٰ کی بھانجی کے شوہراور مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت کے بیٹے سالک حسین کے ہم زلف بھی ہیں۔‘’محسن نقوی کو پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کے بہت قریب سمجھا جاتا ہے۔‘ صحافی حامد میر کے جیو نیوز کے لیے ایک انٹرویو میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ’میں آج بھی محسن نقوی کو اپنا بیٹا کہتا ہوں۔ محسن نقوی کا کام نیوٹرل رہنا ہے۔ اس کی آزاد سوچ ہے۔ وہ ن لیگ کا وزیر اعلی نہیں ہے۔ ہمیں پنجاب میں کوئی مشکل آتی ہے تو ہم ان کے نوٹس میں لاتے ہیں اور ہماری بات سنی جاتی ہے۔‘ماجد نظامی کے مطابق چوہدری شجاعت کو پی ڈی ایم کے ساتھ مذاکرات پر انھوں نے ہی آمادہ کیا تھا۔جب عمران خان کی جانب سے جنوری 2023 میں پنجاب حکومت تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی جانب سے نگران وزیراعلیٰ کے لیے بھیجے گئے دو ناموں میں محسن نقوی کا نام بھی شامل تھا۔ان کے نام پر پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو خاص طور پر اعتراض تھا جبکہ ن لیگ سمیت باقی جماعتوں کی جانب سے بھی انہی کے نام کی توثیق کی گئی۔

عمران خان نے محسن نقوی کو بطور وزیر اعلیٰ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے ان پر الزام عائد کیا تھا کہ ’وہ ہمیں ن لیگ سے بھی زیادہ نقصان پہنچانے والے شخص ہیں۔‘’ن لیگ کی تاریخ یہی رہی ہے کہ وہ اپنے امپائرز خود منتخب کرتے ہیں لیکن ناقابل یقین تو یہ ہے کہ کس طرح الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ایک حلیف دشمن کو نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر منتخب کیا۔‘

دوسری جانب سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا تھا کہ ’جمہوریت پسند، بے باک، بنیادی حقوق کے داعی، آئین و قانون کی سربلندی کے علمبردار، سید محسن رضا نقوی نگران وزیر اعلٰی پنجاب مقرر۔ آزادی صحافت کے پرچم کو سربلند رکھنے کے لیے محسن نقوی نے بارہا خندہ پیشانی سے جبر کا سامنا کیا۔‘

دوسری جانب پنجاب کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ محسن نقوی بُنیادی طور پر ’غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل صحافی تھے لیکن انھوں نے بطور صوبے کے نگراں وزیراعلیٰ بھی ذمہ داریاں اچھے طریقے سے نبھائیں۔‘سلمان غنی کے مطابق ‘ایک سال کے عرصے میں انفراسٹرکچر کی مضبوطی، ہسپتالوں کی بہتری اور خصوصاً گورننس کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔‘’پنجاب کے محاذ پر شہباز شریف کو ’شہباز سپیڈ‘ کے طور پر یاد کیا جاتا رہا ہے مگر محسن نقوی کی تگ دو اور نگراں حکومت کی کارکردگی پر خود شہباز شریف نے انھیں محسن سپیڈ کا نام دیا۔‘

سلمان غنی کہتے ہیں کہ ’محسن نقوی کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے انھیں پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنایا گیا ہے اور انھیں یقین ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ادارے سے سفارشی کلچر کو ختم کریں گے۔‘سلمان غنی نے مزید کہا کہ ’محسن نقوی کرکٹ بورڈ کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے بھی سُرخرو ہوں گے اور ہو سکتا ہے مستقبل قریب میں انھیں کوئی اور آئینی ذمہ داری بھی مل جائے۔‘محسن نقوی کی جانب سے رات گئے ہسپتالوں کے دورے، ترقیاتی منصوبوں کو التوا میں ڈالنے کی بجائے جلد از جلد نمٹانے کے ساتھ ساتھ پنجاب میں ڈرایونگ لائسنس بنانے کے حوالے سے مہم چلانا بھی ان کاموں میں سے ہیں جن کے بارے میں سوشل میڈیا پر ان کی تعریف کی جاتی رہی ہے۔

Back to top button