اپوزیشن کا بیانیہ احمد فراز والا اور سیاست شبلی فراز والی کیوں؟

مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں قائم اپوزیشن اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی جانب سے اسمبلیوں سے فوری استعفے دینے پر نظر ثانی کے فیصلے کو ہدف تنقید بناتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی کہتے ہیں کہ اپوزیشن قیادت کا بیانیہ احمد فراز والا ہے لیکن سیاست شبلی فراز والی یے۔
سلیم صافی اپنے تازہ تجزیے میں کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی قیادت نے ایک مرتبہ پھر اپنی سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مولانا کو آگے تو لگا لیا لیکن اب ان کے ساتھ دور تک چلنے کو تیار نظر نہیں آتی۔ انکا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن تو شروع سے حکومت کے خلاف میدان میں نکلنے کے لئے بےتاب تھے لیکن کبھی آصف زرداری انکا ساتھ دینے کو تیار نہیں ہوتے تھے اور کبھی نواز شریف۔ گزشتہ سال ان کے دھرنے سے فائدہ اٹھا کر دونوں جماعتوں نے اپنا اپنا الو سیدھا کرکے اُنہیں تنہا چھوڑ دیا جسکے بعد وہ اکیلے بھٹکتے پھر رہے تھے۔ یہی حالت قوم پرست جماعتوں کی بھی تھی۔
اس دوران نیب نے پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف گھیرا تنگ کیا تو اسنے مولانا فضل الرحمٰن سے رابطہ کر کے ان کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ اب وہ ان کے ہمراہ میدان میں نکلنے اور انقلابی بننے کو تیار ہے۔ مولانا پوری طرح یقین نہیں کررہے تھے لیکن جب پی پی پی نے سب کو اکٹھا کرنے اور اے پی سی کی میزبانی خود کرنے کا ذمہ اٹھایا تو مولانا کو کچھ نہ کچھ یقین آگیا۔
سلیم صافی کے مطابق دوسری طرف محمد زبیر کی آرمی چیف کے ساتھ مشہور زمانہ میٹنگ کے بعد نواز شریف بھی مکمل طور پر مایوس ہو گئے اور مولانا سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کو قائل کرنے میں لگ گئے کہ اب کی بار وہ ایسے نظریاتی بن گئے ہیں کہ لوگ انہیں دیکھ اور سن کر پرویز رشید کو بھول جائیں گے۔
چنانچہ پیپلز پارٹی کی بلائی گئی اے پی سی میں پی ڈی ایم اتحاد بنا۔ مولانا کو سربراہ بنایا گیا اور سب اس پر مطمئن ہو گئے کہ ماضی کے برعکس اب چونکہ یہ ایک اتحاد بن گیا ہے، اس لئے کسی جماعت کے لئے اس سے پسپا ہوکر نکلنا سیاسی موت کے مترادف ہوگا، اس لئے مولانا نے بھی اس کی خاطر کشتیاں جلانے کا فیصلہ کر لیا۔ پھر ابتدا میں استعفے دینے پر رضا مندی ظاہر کرکے پیپلزپارٹی نے اپنی اصل طاقت پی ڈی ایم کے پلڑے میں ڈال دی۔ دوسری طرف نواز لیگ کی اصل طاقت جو حکومت اور اُس کے سرپرستوں کو پریشان کر رہی تھی وہ نواز شریف کا فوجی قیادت مخالف بیانیہ تھا۔ نواز شریف نے پی ڈی ایم کے تاسیسی اجلاس میں اِس طرح کی زبان استعمال کرکے یہ تاثر دیاکہ وہ کشتیاں جلا چکے ہیں۔مولانا کی اصل طاقت اُن کا مذہبی اور جنونی ورکر اور اور اُن کے پاس موجود مذہبی کارڈ ہے۔ لیکن پھر پی ڈی ایم کا سربراہ بننے سے وہ ایک ایسی شخصیت بن گئے جنکی قیادت پر بیک وقت آصف زرداری اور نواز شریف متفق ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ مولانا بھی کشتیاں جلا کر پوری طرح میدان میں نکل آئے۔
لیکن سلیم صافی کہتے ہیں کہ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ اُس کی تینوں بڑی جماعتیں یعنی پی پی پی، نون لیگ اور پی ٹی آئی اب رتی بھر بھی نظریاتی نہیں رہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم اتحاد بن جانا اور اسکے بعد نون لیگ اور پیپلز پارٹی کا ابتدائی رویہ مقتدر حلقوں اور حکومت کے لئے بڑا سرپرائز تھا۔
سیاسی کارکنوں اور عوام کی طرف سے اس کو جو پذیرائی ملی، اُس نے اقتدار کے ایوانوں کو اور بھی ہلا کر رکھ دیا۔ ورکر اور ووٹر پی ڈی ایم کو نظریاتی سمجھ رہا تھا جبکہ مولانا اور پی ڈی ایم میں شامل قوم پرست جماعتیں بھی کچھ وقت کے لئے غلط فہمی کا شکار رہیں لیکن پھر اچانک پیپلز پارٹی اور نواز لیگ نے پاور پولیٹیکل شروع کر دی۔
چنانچہ فیصلہ یہ ہوا کہ استعفے دے کر سسٹم سے باہر نکلنے کی بجائے سسٹم کے اندر رہتے ہوئے تبدیلی لائی جائے گی۔
سلیم صافی کے مطابق نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ زبانی حد تک معاملہ سخت رکھیں گے اور دباؤ بھی بڑھائے رکھیں گے لیکن انکا ہدف سسٹم کی بجائے عمران خان کی رخصتی ہوگا۔ صافی کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی اس نئی سیاست کو سمجھانے کے لئے میں یہ سادہ فقرہ استعمال کرتا ہوں کہ اپوزیشن کا بیانیہ احمد فراز والا ہوگا لیکن اسکی سیاست شبلی فراز والی ہوگی۔
اب یہ گیم بن جانے کے بعد مولانا اور قوم پرست جماعتوں کے پاس دو راستے تھے۔ یا پی ڈی ایم توڑ دیتے یا پھر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی جوڑ توڑ کی سیاست کو مہلت دیتے۔ چنانچہ انہوں نے دوسرا آپشن اپنا لیا اور پی ڈی ایم اتحاد کو ایک رکھنے کے لئے بڑی جماعتوں کی بات مان لی۔چنانچہ اب پی ڈی ایم اتحاد باقی ہے اور باقی رہے گا لیکن اخلاقی برتری اس کے پاس نہیں رہی۔
صافی کے مطابق جس طرح عمران خان ایمپائر کے اشارے کے انتظار میں تھے، اسی طرح اب پی ڈی ایم اور بالخصوص پیپلز پارٹی اور نون لیگ والے بھی ایمپائر کا انتظار کریں گے۔
بس تھوڑا سا فرق یہ ہے کہ پی ٹی آئی ایمپائر کے قدموں میں بیٹھ کر جو کام اس سے لینا چاہ رہی تھی، پی ڈی ایم عوام اور زبان کے دبائو کو استعمال کرکے اسے اپنے ساتھ ایک پیج پر لانا چاہتی ہے۔ بہر حال مارچ تک یہ گیم واضح ہوجائے گی کہ آصف زرداری اور نواز شریف کی توقعات پوری ہوتی ہیں یا نہیں یا وہ ایک بار پھر ہاتھ ملتے ہوئے نظریاتی بننے پر مجبور ہوتے ہیں؟
