ماضی میں کوئٹہ پہنچنے والے عمران اب کوئٹہ کیوں نہیں جا رہے؟

2012 میں سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی خاطر ہزارہ برادری کے افراد کے قتل کے فورا بعد کوئٹہ پہنچ کر اسلم رئیسانی کی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والے عمران خان اب کوئٹہ جانے سے انکاری ہیں جہاں سینکڑوں شیعہ ہزارہ پچھلے چار روز سے مغربی بائی پاس پر شدید سردی میں ان 11 مزدوروں کی لاشوں سمیت دھرنا دیے بیٹے ہیں جنہیں اغوا کرنے کے بعد زبح کردیا گیا تھا۔
خون جما دینے والی سردی میں کھلے آسمان تلے دھرنا دیے بیٹھے مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان ان کے پاس آئیں اور جام کمال کی حکومت ختم کرنے کا اعلان کریں جس کے بعد وہ اپنے پیاروں کی لاشیں دفن کریں گے۔ تاہم وزیراعظم نے کوئٹہ کہاں پہنچنا تھا ابھی تک وزیر اعلی جام کمال بھی کوئٹہ نہیں پہنچے اور اس افسوسناک واقعے کو چار روز گزرنے کے باوجود دبئی سے واپس آنے کو تیار نہیں ہیں۔
اس دوران چار جنوری کو وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کوئٹہ پہنچے اور مظاہرین سے ملاقات کر کے انہیں دھرنا ختم کرنے کی درخواست کی۔ تاہم انہوں نے وزیر داخلہ پر واضح کیا کہ وہ وزیراعظم کے آنے تک دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ تاہم وزیر اعظم کی بجائے ایک مرتبہ پھر 5 جنوری کو وفاقی وزیر علی زیدی اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری ہزارہ مظاہرین سے مذاکرات کے لیے کوئٹہ پہنچے۔ تاہم یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ وزیراعظم کی آمد کے بغیر لاشوں کی تدفین نہیں کریں گے۔ دوسری طرف ماضی میں اسطرح کے واقعات پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرنے والے عمران خان اسلام آباد میں چھپے بیٹھے ہیں اور ناگزیر وجوہات کی بنا پر کوئٹہ جانے کو تیار نہیں۔
خیال رہے کہ مچھ میں واقع کوئلہ فیلڈ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 11 کان کن اغوا کے بعد گلے کاٹ کر قتل۔کر دیےگئے تھے، ان سب مزدوروں کا تعلق بلوچستان کی ہزارہ کمیونٹی سے ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔ متحدہ مجلس کے رہنما اور سابق صوبائی وزیرآغا رضا کے مطابق قتل ہونے والوں کے لواحقین چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم ان کے پاس آئیں۔ یہاں آنے سے ان کی عزت اور حیثیت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک وزیر اعظم نہیں آئیں گے، وہ میتوں کو نہیں دفنائیں گے۔ دھرنے میں شریک ایک خاتون طاہرہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے وزیر اعظم کی زیارت کے لیے ان کو یہاں نہیں بلایا۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر وہ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ایسے واقعے پر اظہار یکجہتی کیلئے کوئٹہ سکتے ہیں تو اب ملک کا وزیراعظم ہوتے ہوئے تو ان کی زیادہ ذمہ داری بنتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ وزیر اعظم کو یہاں آنا ہوگا اور ان کو ہمیں یہ لکھ کر دینا ہوگا کہ آئندہ ایسے واقعات پیش نہیں آئیں گے۔‘
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں لاشوں سمیت دھرنے میں موجود زارا بیگی نے بتایا کہ دہشت گردی کے واقعے میں ہلاک ہونے والے اس کے ایک کزن کی عمر صرف 18 برس تھی، اس کی چند ماہ قبل شادی ہوئی تھی۔ اس کی نئی نویلی دلہن نے جب سُنا کہ اس کا شوہر اس دنیا میں نہیں رہا تو اس نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔ مجسم غم بنی زارا بیگی کا تیس سالہ بھائی چمن علی، اور دو چچا زاد بھائی، 18 سالہ نسیم علی اور 45 سالہ عزیر بھی بلوچستان کے ضلع مچھ میں مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے 12 غریب کان کنوں میں شامل ہیں۔
زارا بیگی بتاتی ہیں کہ ’چند ماہ قبل ہمارے خاندان میں خوشی ہوئی تھی۔ ہم نے اپنے چچا زاد بھائی نسیم علی کو دولہا بنایا تھا، اس کی عمر اٹھارہ سال ہوگئی۔ ہمارے خاندانوں میں جلدی شادی کا رواج ہے۔ جس کے بعد مرد محنت مزدوری کرنے چلا جاتا ہے۔‘ روایت کے مطابق نسیم علی بھی چند دن شادی کے بعد اپنی نوبیاہتا دلہن اور خاندان والوں کے پاس رہا جس کے بعد وہ روزگار کے سلسلے میں کوئلہ فیلڈ چلا گیا۔ زارا کہتی ہیں کہ ’شاید وہ سوچ رہا ہو گا کہ اب وہ شادی شدہ ہے اور اس پر ذمہ داریاں ہیں، مگر اب اس کی میت میرے سامنے پڑی ہے۔‘
’اس کی نئی نویلی دلہن بار بار فریاد کر رہی ہے۔ اسکی چیخیں اور آہ و بکا زمین و آسمان ہلا رہی ہیں۔ میں وزیر اعظم سے کہتی ہوں کہ وہ کوئٹہ کیوں نہیں آتے، وہ کیوں نسیم کی دلہن کی فریاد اپنے کانوں سے نہیں سنتے۔‘
زارا کا کہنا تھا کہ ’میں عمران خان سے کہتی ہوں یہ چند لاشیں نہیں ہیں۔ یہ خاندانوں کی تباہی ہے۔ ہر ایک خاندان کی اپنی الگ کہانی ہے۔ میں اپنے بھائی چمن علی کے پانچ بچوں کا سامنا نہیں کر پا رہی ہوں۔‘ زارا نے بتایا کہ ان کے سگے بھائی چمن علی کو اپنے بڑی سولہ بیٹی بارھویں کلاس کی طالبہ بیٹی اپنی جان سے زیادہ عزیز تھیں۔ ’وہ جب پیدا ہوئی تو چمن علی نے کہا تھا کہ میں اس کو ڈاکٹر بناؤں گا۔ بیٹی تھوڑی بڑی ہوئی تو اس نے ہر کلاس میں ٹاپ کر کے اپنے باپ کا خواب پورا کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔‘ زارا بیگی کا کہنا تھا کہ ’اب وہ بیٹی اپنے باپ کی میت پر کھڑی ہے اور بار بار اپنے مردہ باپ سے کہہ رہی ہے کہ تم مجھ سے کیوں ناراض ہوگے ہو۔ میں نے تو ہر صورت میں ڈاکٹر بننے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔’ اس نے کہا کہ ’میں وزیر اعظم سے کہتی ہوں کہ وہ آئیں اور دیکھیں کہ ایک بیٹی بار بار اپنے باپ کی میت کے سرہانے کھڑا ہو کر کہہ رہی ہے کہ بابا آپ مجھ سے کیوں ناراض ہیں۔۔۔‘
زارا بیگی کا کہنا تھا کہ قتل ہونے والے ان کے دوسرے چچا زاد بھائی عزیز کے 7 بچے ہیں۔ بڑی بیٹی کی شادی ہوچکی ہے۔ ’وہ چند دن قبل چھٹیوں پر آئے تھے، تو میرے گھر بھی آئے تھے۔ مجھ سے کہہ رہے تھے، کہ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم لوگوں کو اپنے بچوں کو پڑھانا چاہیے۔ وہ کب تک یہ محنت مزدوری کرتے رہیں گے۔ میں نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔‘
اسی طرح دھرنے پر موجود ایک اور لڑکی معصومہ یعقوب کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی کو کربلا کا منظر دیکھنا ہے تو وہ میرے خاندان کو دیکھ لے جس میں جنازہ اٹھانے والا کوئی مرد نہیں بچا۔ جس کے بعد ہم چھ بہنوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنے بھائی اور اپنے رشتہ داروں کے جنازے خود اٹھائیں گے۔ معصومہ کا اکلوتا بھائی محمد صادق اور چار دیگر رشتہ دار قتل ہونے والے کان کنوں میں شامل ہیں۔ ان پانچ افراد کی میتوں سمیت دھرنے میں شامل معصومہ نے بتایا کہ ان کے اکلوتے بھائی سمیت ان کے خاندان کے پانچ افراد کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ معصومہ کا بھائی چھ بہنوں کا اکلوتا بھائی اور دو بچوں کا والد تھا۔ جبکہ ان کے دیگر ہلاک ہونے والے رشتہ داروں میں اٹھارہ سالہ بھانجا احمد شاہ، دو ماموں 20 سالہ شیر محمد اور 30 سالہ محمد انوار اور ان کی خالہ کا بیٹا محمد احسن شامل ہیں۔ تھرڈ ایئر کی طالبہ معصوم کہتی یے: ’میں ریاست مدینہ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ یہ کیسی ریاست مدینہ ہے جس میں دن دہاڑے بے گناہ خاندانوں کے سہاروں کو اس بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے اور اس کے بعد صرف میڈیا پر تعزیتی بیانات کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے۔‘ ’میں کہتی ہوں کہ اگر یہ واقعی انصاف کی ریاست ہے، اگر یہ واقعی مسلمانوں کی ریاست ہے، اگر یہ واقعی ریاست مدینہ ہے تو ہمارے پیاروں کے سفاک قاتلوں کو فی الفور سامنے لایا جائے اور پھانسی دی جائے۔ آخر ہم کب تک اپنے لوگوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔‘
معصومہ نے اپنے بھائی محمد صادق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میرے والد ضعیف ہیں۔ میرا بھائی ہم چھ بہنوں، بوڑھے والد، اپنی اہلیہ اور اپنی دو بیٹیوں کا واحد کفیل تھا۔ وہ تو محنت مزدوری اور رزق حلال کمانے کے لیے اپنے شہر سے میلوں دور گیا تھا۔‘ ‘میرے بھائی، میرے رشتہ داروں اور سارے مارے جانے والوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان لوگوں کو تو سرنگوں میں مزدوریاں کرتے ہوئے یہ بھی پتا نہیں چلتا تھا کہ دن ہے کہ رات۔ کئی مرتبہ اس طرح ہوا ہے کہ بھائی مزدوری کرنے کے بعد فارغ ہو کر فون کرتے تو کہتے کہ مغرب کا وقت ہوا ہے۔ مغرب کی نماز پڑھ لوں، تو اصل میں اس وقت رات کا کافی حصہ بھی گزر چکا ہوتا ہے۔ میری بڑی بہنیں اکثر اپنے بھائی سے کہتیں کہ ہم نے کافی پڑھ لیا ہے اب ہمین اجازت دو کہ ہم بھی کام کریں، تو وہ کہتا کہ نہیں ابھی تم لوگ اچھے سے پڑھائی کرو تاکہ تم لوگوں کا مستقبل محفوظ ہو۔ بہنیں اس سے کہتیں کہ تم اس مزدوری سے آخر کتنا کام کر سکتے ہو تو وہ کہتا کہ میرے بازوں میں بہت دم ہے۔ میں اتنا کام کروں گا جتنی ہمیں ضرورت ہے۔’
معصومہ یعقوب علی کا کہنا تھا کہ ان کا بھائی مزدور تھا، کان کن تھا مگر وہ اتنی محنت کرتا تھا کہ ہماری تعلیم سمیت تمام ضرورتیں پوری ہوتیں تھیں، ہمارے بھائی اور والد کا کوئی بینک اکاوئنٹ نہیں ہے مگر ہمارے تمام مسائل حل ہوتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ اسی طرح میرے خالہ زاد، ماموں زاد، میرا کم عمر بھانجا یہ سب اپنے خاندانوں کے کئی کئی افراد کے لیے امیدیں اور سہارا تھے۔ ان کے قتل ہونے سے کئی گھروں کے چراغ اور کئی گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں لیکن وزیراعظم عمران خان سے اتنا نہیں ہو سکا کہ وہ ہمارے پاس آئیں اور ہمارا غم بانٹیں۔
