اپوزیشن کو دبانے کے لیے بغاوت کیس کا اندراج اور بھی آسان ہوگیا

شیخ رشید احمد کو وفاقی وزیر داخلہ بنائے جانے کے بعد اس امکان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اپوزیشن قیادت کے خلاف ریاست مخالف ہتھکنڈوں کے استعمال میں مزید تیزی آ جائے گی۔ اس امکان کو تقویت یوں بھی ملتی ہے کہ شیخ رشید کو وزیر داخلہ بنائے جانے کے دو دن بعد وفاقی کابینہ نے چھٹی کے دن ہنگامی طور پر ایک قانون میں ترمیم کی منظورئ دی جسکے ذریعے مقدمہ بغاوت کے اندراج کو مذید آسان بناتے ہوئے یہ اختیار وفاقی اور صوبائی سیکرٹری داخلہ کو دے دیا گیا۔ اس ترمیم کے بعد سیکرٹری داخلہ اپنی حکومتوں کی منظوری سے بھی بغاوت کا مقدمہ درج کروا سکیں گے۔ وفاقی کابینہ نے ہنگامی طور پر قانون میں یہ تبدیلی لاہور میں پی ڈی ایم کے جلسے سے صرف ایک دن قبل کی لہٰذا اِس بات میں کوئی شک نہیں رہا کہ آنے والے دنوں میں کپتان حکومت کے مخالف اپوزیشن رہنماوں کو ریاست کا دشمن قرار دے کر غداری کارڈ کا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔
سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر ر اپنے تازہ تجزیے میں کہتے ہیں کہ 13 دسمبر کو لاہور میں پی ڈی ایم کے جلسے سے دو دن قبل شیخ رشید کو جلدی میں وفاقی وزارتِ داخلہ کا قلم دان سونپا گیا جس سے یہ تائثر مضبوط ہوا کہ شیخ رشید احمد کو پی ڈی ایم سے نمٹنے کے لیے وزیر داخلہ بنایا گیا ہے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ انکے وزیر داخلہ بننے کے فوری بعد کابینہ نے چھٹی کے دن ایک قانون میں ترمیم کے ذریعے شر پسندوں کے خلاف بغاوت کے مقدمات کے اندراج کا اختیار وفاقی سیکرٹری داخلہ کو دے دیا گیا جسے حکومت مخالف جاری تحریک میں زور و شور سے اپوزیشن کیخلاف استعمال کیا جائے گا۔
حامد میر کے مطابق یہ نکتہ بڑا اہم ہے کہ جب ماضی میں شیخ رشید نے خود وزیر داخلہ بننے کی خواہش ظاہر کی تو وزیر اعظم عمران خان نے صاف انکار کر دیا تھا۔ شیخ صاحب کے ایک پرانے محسن نے وزیر اعظم سے کہا کہ اگر آپ شیخ رشید احمد کو وزیر داخلہ نہیں بنا سکتے تو وزیر ریلوے بنا دیں۔ یہ سُن کر وزیراعظم نے چند لمحوں کے لئے سوچا اور وزیر ریلوے بنانے پر ہاں کر دی۔ لیکن 11 دسمبر کو شیخ صاحب کو اچانک وزیر داخلہ بنانے کا فیصلہ اُن کے پرانے محسن کے لئے بھی حیرت کا باعث بنا جسکے بعد انکا کہنا تھا کہ اب شیخ صاحب یا تو آر ہوں گے یا پار۔ شیخ رشید کے وزیر داخلہ بننے سے یہ تو واضح ہو گیا کہ حکومت اور پی ڈی ایم میں میچ پھنس گیا ہے۔ ملتان کے بعد پی ڈی ایم نے لاہور میں بھی جلسہ کر دکھایا۔ بڑے بڑے اعلانات اور گرما گرم تقاریر بھی ہو گئیں۔ اب غداری کے مقدمات بھی درج ہوں گے اور اپوزیشن رہنماؤں کو گرفتار بھی کیا جائے گا۔ حامد میر کے مطابق اِن گرفتاریوں پر اپوزیشن نے مزاحمت کی تو مزید گرفتاریاں نہیں ہوں گی اور اگر مزاحمت نہ ہوئی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ سے پہلے پہلے اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہو سکتا ہے۔ اِس کریک ڈاؤن میں غداری کے مقدمات حکومت کا ایک اہم ہتھیار بن سکتے ہیں اور یہ وہ ہتھیار ہے جسے ہندوستان میں نریندر مودی کی حکومت نے اپنے مخالفین کے خلاف بڑے بھرپور انداز میں استعمال کیا ہے۔ یاد ریے کہ شہریت کے قانون میں تبدیلی کے خلاف ہندوستان میں اُٹھنے والی اکثر آوازوں کو ریاست کے خلاف بغاوت قرار دے کر دفعہ 124اے کے تحت مقدمات درج کئے گئے رھے۔
حامد میر کے مطابق یہ وہ قانون ہے جسے برطانوی سامراج نے تعزیراتِ ہند 1860 کے تحت تحریک آزادی کو دبانے کے لئے استعمال کیا۔ اِس قانون کے تحت تحریکِ آزادی کے کئی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔ یہ قانون سیاستدانوں کے علاوہ صحافیوں اور ادیبوں کے خلاف بھی استعمال کیا گیا۔ اِنہی میں ایک گنگا دھر تلک بھی تھے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ گنگا دھر تلک برطانوی راج کے شدید مخالف تھے اور ایک اخبار بھی شائع کرتے تھے جس میں غیرملکی تسلط پر بہت تنقید کی جاتی تھی۔ تلک پر تین دفعہ 124اے کے تحت مقدمات درج ہوئے اور دو مرتبہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے عدالتوں میں اُن کا دفاع کیا۔
1909میں اُنہیں قابلِ اعتراض تقاریر کرنے کے الزام میں چھ سال قید کی سزا سنا کر برما کی ایک جیل میں قید کر دیا گیا۔ 1916میں تلک ایک بار پھر غداری کے مقدمے کی زد میں آئے تو قائداعظمؒ دوبارہ اُن کے دفاع کو آئے۔ اِس مرتبہ جناح اپنے دوست کو سزا سے بچانے میں کامیاب رہے۔ حامد میر بتاتے ہیں کہ گنگا دھر تلک 1920میں اِس دنیا سے چلے گئے لیکن جب نریندر مودی نے ہندوستان میں اپنے مخالفین کے خلاف 124اے کا استعمال شروع کیا تو تلک کے خلاف برطانوی راج میں درج ہونے والے مقدمات کا ذکر دوبارہ شروع ہوا۔ ہندوستان میں یہ بحث شروع ہوئی کہ وہ نو آبادیاتی قانون جو مہاتما گاندھی اور گنگا تلک کے خلاف استعمال ہوا اور جس قانون کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں جناحؒ نے برطانوی راج کے مخالفین کا دفاع کیا، وہ قانون دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں ابھی تک استعمال کیوں کیا جا رہا ہے؟ برطانیہ میں یہ قانون 2010میں ختم کر دیا گیا لیکن افسوس کہ ہندوستان اور پاکستان میں ابھی تک استعمال کیا جا رہا ہے۔
حامد میر کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ اپنے کچھ فیصلوں میں یہ قرار دے چکی ہے کہ 124اے کے تحت ریاست کے خلاف بغاوت کا مقدمہ ریاست ہی در ج کرا سکتی ہے اور اندراج سے قبل الزامات کی تسلی بخش تحقیق بھی ہونی چاہئے۔ اکتوبر 2020میں لاہور پولیس نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے خلاف نواز شریف کی ایک تقریر سننے کے الزام میں 124اے کے تحت مقدمہ درج کر لیا تھا اور یہ مقدمہ حکومت کے لئے بہت بدنامی کا باعث بنا تھا۔ اب حکومت نے اِس پرانی غلطی کو ایک نئے انداز میں دہرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت یہ کہے گی کہ بغاوت یا ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کے مقدمات کے اندراج کا طریقہ کار کچھ عدالتی فیصلوں کی روشنی میں تبدیل کیا جا رہا ہے لیکن حقیقت میں یہ تبدیل شدہ قانون حکومتی مخالفین کے خلاف استعمال ہو گا۔ یعنی نریندر مودی جو کام ہندوستان میں اپنے مخالفین کے خلاف کر رہے ہیں، وہ کام عمران خان پاکستان میں اپنے مخالفین کے خلاف کریں گے۔ لہٰذا آنے والے دنوں میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔ آنے والے دو مہینے بہت خطرناک ہیں۔ فیصلہ عمران خان اور پی ڈی ایم کی لڑائی میں نہیں ہونا۔ فیصلہ اُس لڑائی میں ہونا ہے جو میڈیا اور عوام کی نظروں سے اوجھل ہے۔
