وزارت دفاع فوجی افسران کے مالی معاملات پر جواب کیوں نہیں دے رہی؟

پاکستان انفارمیشن کمیشن نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے وزارت دفاع کو آگاہ کیا ہے کہ مسلح فورسز کے افسران کی آمدنی، انکم ٹیکس، اثاثوں، مراعات، ریٹائرمنٹ کے بعد کے فوائد اور الاٹ کیے جانے والے پلاٹس سے متعلق معلومات حساس نہیں بلکہ عوامی معلومات ہیں لہذا انہیں منظر عام پر لایا جائے مگر وزارت دفاع مسلسل ان تفصیلات وک چھپا رہی ہے۔
واضح رہے کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 19 اے ہر شہری کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ کسی بھی سرکاری محکمے سے کسی بھی قسم کی معلومات اور دستاویزات حاصل کرسکتا ہے۔ اس سلسلے میں مرکز اور صوبوں نے معلومات تک رسائی کے لیے قانون سازی بھی کی ہے۔ تاہم اس کےباوجود وزارت دفاع اعلیٰ فوجی افسران کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے سے انکاری ہے جو ایک طرح سے آئین کی خلاف ورزی ہے۔
یاد رہے کہ چند ماہ قبل کمیشن کی جانب سے ویمن ایکشن فورم کے ایکٹوسٹ اور کچھ متعلقہ شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی 34 اپیلوں پر فیصلہ کرتے ہوئے وزرات دفاع کو یہ تازہ گائڈلائنز جاری کی گئی ہیں۔ ان اپیلوں میں وزارت دفاع سے مذکورہ بالا معلومات طلب کی گئی تھیں تاہم اس حوالے سے اعداد و شمار فراہم کرنے سے انکار کردیا گیا تھا۔ پاکستان انفارمیشن کمیشن کی حالیہ گائیڈ لائنز کے بعد عوامی حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا اب مسلح افواج کے اعلیٰ افسران سے متعلق مطلوبہ معلومات فراہم کی اجئیں گی یا پھر حساس اور غیر عوامی ہونے کا بہانہ بنا کر ایک بار پھر یہ درخواست رد کرد ی جائے گی۔ عوام یہ بھ پوچھتے ہیں کہ جب تمام ادارے اپنے معاملات سے متعلق شہریوں کو معلومات فراہم کرنے کے پابند ہیں تو مسلح افواج کے اعلیٰ افسران کی آمدنی، انکم ٹیکس، اثاثوں، مراعات، ریٹائرمنٹ کے بعد کے فوائد اور الاٹ کیے جانے والے پلاٹس سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں کون سا امر مانع ہے کیا اس حوالے سے کوئی مالی بے ضابطگی ہے جس کی وجہ سے یہ سب عوام سے چھپایا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ وزارت دفاع کو معلومات کے لیے جنہوں نے درخواستیں بھیجی تھیں ان میں انیس ہارون، ہلدہ سعید، نگہت سعید خان، ڈاکٹر عبدالحمید نیر، نائیلہ ناز، عظمیٰ نورانی، میمونہ رؤف خان، نسرین اظہر، نسرین ایل صدیقی، ربینہ سیگل، ماریا راشد، کوثر ایس خان، نازش بروہی اور فرحت اللہ بابر شامل ہیں۔ان درخواست گزاروں نے انفارمیشن کمشنر کے دفتر میں مذکورہ معلومات کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کروائی تھیں۔پاکستان انفارمیشن کمیشن نے وزارت دفاع کو بتایا کہ یہ نامزد پبلک انفارمیشن آفیسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی جانب سے معلومات تک رسائی کے قوانین 2019 کے رول 3 کے تحت دائر کی گئی درخواستوں پر جواب دے۔انفارمیشن کمیشن کے دفتر کی جانب سے وزارت دفاع کو یہ ہدایت دی گئی کہ وہ درخواست گزاروں کی جانب سے مانگی گئی معلومات 10 کام کے دنوں میں فراہم کرے، ساتھ ہی خبردار کیا کہ عدم تعمیل کی صورت میں متعلقہ افسر پر جرمانہ کیا جائے گا۔پی آئی سی کے فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کسی ایسے افسر جس کی معاونت نامزد افسر کو درکار تھی اس کی طرف سے عدم تعاون یا تاخیری ردعمل کے نتیجے میں تاخیر ہوتی ہے یا کوئی اور شکایت آتی ہے تو معلومات تک رسائی کے ایکٹ کے تحت جرمانہ نافذ کرنے کے مقصد کے لیے متعلقہ سیکریٹری کی منظوری کے بعد اس افسر کو نامزد افسر تصور کیا جائے گا۔دوسری جانب ڈبلیو اے ایف نے پی آئی سی کے فیصلے کا خیرمقدم کرتےہوئے کہا ہے کہ وزارت دفاع کو بھیجی گئی پہلی درخواستوں میں فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف، لیفٹیننٹ جنرلز، میجر جنرلز اور بریگیڈیئرز، ایئرفورس کے ایئرچیف مارشل، ایئر مارشلز، ایئر وائس مارشلز اور کموڈورز اور نیوی کے ایڈمرل، وائس ایڈمرل، ریئر ایڈمرل اور کموڈورز سے متعلق معلومات مانگی تھیں۔بیان میں کہا گیا کہ جب وزارت دفاع سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا تو درخواست گزاروں نے پی آئی سی سے رجوع کیا۔
ویمن ایکشن فورم کے مطابق وزارت دفاع نے جواب دیا تھا کہ جو معلومات مانگی گئیں تھیں وہ ایکٹ کے سیکشن 7 (ای) کے تحت عوامی ریکارڈ سے نکال دی گئی تھیں، جو دفاعی فورسز، دفاعی تنصیبات اور دفاع او قومی سلامتی سے متعلق ریکارڈ کو عام کرنے سے استثنیٰ دیتا ہے۔تاہم ویمن ایکشن فورم کا کہنا تھا کہ عوام کے مفادات آئین کی حفاظت اور تمام شہریوں کے بنیادی اور مساوی حقوق اور ریاستی اختیارات کو تقسیم کرنے میں ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button