نواز شریف نے نام لیے بغیر فوجی قیادت مخالف بیانیہ دہرا دیا

سابق وزیراعظم نواز شریف تمام تر تنقید اور دباؤ کے باوجود اپنے فوجی قیادت مخالف بیانیے سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں جس کا اظہار انہوں نے 13 دسمبر کو لاہور کے جلسے میں ایک مرتبہ پھر کیا۔ تاہم یہ دوسرا موقع ہے کہ انہوں نے ماضی کی طرح فوجی قیادت پر تنقید تو کی لیکن آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام براہ راست نہیں لیا۔ میاں صاحب نے پاکستان کے تمام تر مسائل کا ذکر گنواتے ہوئے ان کا ذمہ دار فوجی قیادت کو قرار تو دیا لیکن ان کے نام لینے سے گریز کیجئے۔ چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ وہ واحد فوجی شخصیت تھے جنکا نام نواز شریف نے اپنی تقریر میں کھل کر لیا اور تنقید بھی کی۔

13 دسمبر کی رات مسلم لیگ نواز کے قائد نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’چند جرنیل حضرات وار گیم کے بجائے پولیٹیکل گیم کھیلنے میں مصروف ہیں اور یہی چند شر پسند جرنیل فوج کو متنازعہ بنانے کے ذمہ دار ہیں۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ آج ہمیں ایسا نظام چاہیے جس میں ریاست کے اوپر ریاست نہ ہو، انہوں نے کہا کہ کوئی قوم اپنی فوج سے نہیں لڑ سکتی۔ اپنے سخت بیانیے پر تنقید کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ میرا وہی بیانیہ ہے جو قائد اعظم کا تھا۔ میں چاہتا ہوں ’فوج سیاست سے دور رہے، اپنے ادارے کو سیاسی مقاصد کے لیے مت استعمال کرے، انجنئیرنگ کی فیکٹریاں بند کرے، انتخابات چوری مت کرے، ووٹ کو عزت دے، اور خود کو متنازعہ نہ بنائے۔‘

انہوں نے کہا کہ موجودہ ملکی بحران کے ذمہ دار صرف عمران خان ہی نہیں بلکہ سیاسی انجنیئرنگ میں حصہ لینے والے جرنیل بھی ہیں جو فوج کو متنازع بناتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ اس نظام کو بدلے بغیر اب کوئی چارہ نہیں، ملک مزید غیر جمہوری مداخلت کی مذید تاب نہیں لا سکتا۔ ’جو دخل اندازی کرتے ہیں، میں ان سے کہتا ہوں کہ یہ ملک اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے، یہ ملک اب جام ہو چکا ہے۔ اب یہاں ہائی جیکڈ جمہوریت نہیں چل سکتی۔‘ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’آج ہمیں ایسا ملک چاہیے جس میں ریاست کے اوپر ریاست نہ ہو۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’کیا ہم انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد چند جرنیلوں کے غلام بن جائیں۔ کیا اس قسم کی غلامی آپ کو قبول ہے؟‘

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہمارے اراکین اسمبلی نے خود اپنے استعفے ہمیں دینا شروع کر دیے ہیں اور منفی ہتکھنڈوں کی بھرمار کے باوجود چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور کوئی کمزوری نہیں دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا۔کہ ’ان استعفوں سے متعلق جب بھی پی ڈی ایم اور مولانا فضل الرحمان ہدایت دیں گے ہم اس پر عمل کریں گے۔ سابق وزیر اعظم نواز نے ملک کو درپیش بحران کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سارے معاملے کا کیا صرف عمران خان اکیلے ذمہ دار ہے؟ ’ملک کو برباد کر دیا، 22 کروڑ عوام کو برباد کر دیا، معیشت کو تباہ کر دیا اور کہا جاتا ہے کہ نام نہ لیں۔

نواز شریف نے کہا کہ ’آئین کو آپ توڑیں تو کیا میں واپڈا کا نام لوں۔ وزیر اعظم ہاؤس کی دیواریں پھلانگ کے وزیر اعظم کو گرفتار کریں تو کیا نام محکمہ زراعت کا لوں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف فیصلوں کے لیے گھر جا کر دباؤ ڈالو تو میں کیا اس کی شکایت محکمہ جنگلات کو لگاؤں۔ ’انتخابات چرائے گئے اور آر ٹی ایس بٹھا دیا گیا تو کیا میں اس کی شکایت محکمہ صحت کو لگاؤں۔‘ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’چند شر پسند جرنیل یہ سب کر رہے ہیں۔ انھیں اگر یہ بات پسند نہیں ہے تو کیا کیا جا سکتا ہے۔‘

انہوں نے مذید کہا کہ ’نواز شریف کا بیانیہ وہی ہے جو آئین کا بیانیہ ہے، جو فوج کے حلف کا بیانیہ ہے، وہی نواز شریف کا بیانیہ ہے جو قائد اعظم کا بیانیہ ہے۔ یہی میرا بیانیہ ہے۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’فوج سیاست سے دور رہے، اپنے ادارے کو سیاسی مقاصد کے لیے مت استعمال کرو، انجنئیرنگ کی فیکٹریاں بند کرو، انتخابات چوری مت کرو، ووٹ کو عزت دو، فوج کو متنازع مت کرو۔‘

انھوں نے اپنے خطاب میں نام لیے بغیر چند جرنیلوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جب آپ آئین توڑتے ہیں، جب حلف کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جب دس دس سال حکومت کرتے ہیں۔ جب آپ سیاستدانوں کو جیل میں ڈالنے کے لیے مصروف ہو جاتے ہیں۔ وار گیم کھیلنے کے بجائے پولیٹیکل گیم کھیلنے لگ جاتے ہیں تو پھر بجا طور پر عوام کو شکایت ہو گی، پھر سوالات ہوں گے، سوالات پوچھے جائیں گے، اس کا جواب یہ نہیں ہے کہ نام کیوں لیتے ہو۔‘

آئی ایس آئی کے سربراہ کا نام لیے بغیر نواز شریف نے کہا کہ ’جب ایک جرنیل ایک جج کے گھر جاتا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو نہیں چھوڑنا، اور جب یہ بات منظر عام پر آتی ہے تو اس جرنیل کے خلاف کیا کارروائی کی جاتی ہے۔۔۔ اس کو تو الٹا ترقی دے دی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ نواز شریف کا اشارہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت صدیقی کی جانب تھا جنہوں نے اپنی ایک تقریر کے دوران یہ انکشاف کر دیا تھا کہ ان پر نواز شریف اور مریم نواز کو سزا دلوانے کے لیے آئی ایس آئی نے دباو ڈالا تھا۔ جسٹس شوکت صدیقی کو بعد ازاں سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے فارغ کر کے گھر بھجوا دیا گیا اور وہ آج بھی اپنی برطرفی کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست کی سماعت کے انتظار میں ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button