اپوزیشن کے کامیاب جلسے کو ناکام ثابت کرنے کی کوشش کتنی مؤثر رہی؟

حکومت کے میڈیا مینیجرز نے لاہور میں اپوزیشن کے کامیاب جلسے کو ناکام ثابت کروانے اور مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے شرکاء کی تعداد کم کر کے بتانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور لالچ اور دھمکی جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ تاہم ان حکومتی ہتھکنڈوں نے ایک بات ثابت کر دی کہ پی ڈی ایم کا لاہور جلسہ ہر لحاظ سے کامیاب رہا ورنہ اسے ناکام ثابت کرنے کے لیے حکومت کو اتنا زور نہ لگانا پڑتا ہے۔ حد تو یہ تھی کہ حکومت نے الیکٹرونک میڈیا پر تو جلسے کو ناکام ثابت کرنے کے لئے سارا دن زور لگایا ہی لیکن اگلے روز کے لیے ملک کے تمام بڑے اخبارات کو بطور رشوت فرنٹ اور بیک پیج پر بڑے بڑے سرکاری اور پرائیویٹ اشتہارات بھی دلوا دیے تاکہ اپوزیشن کے جلسے کی کوریج اندر کے صفحات پر چلی جائے۔
13 دسمبر کے روز ذیادہ تر ٹی وی ناظرین نے اپنی سکرینوں پر ایسے مناظر تو دیکھے ہوں گے جن میں مینارِ پاکستان پر حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی جلسہ گاہ تقریباً خالی دکھائی جا رہی تھی جبکہ چند سکرینیں ایسی تھیں جن پر کافی تعداد میں لوگ دکھائے گے۔ لیکن جن افراد کا زیادہ وقت ٹی وی کے بجائے سوشل میڈیا پر گزرتا ہے تو ان کے لئے منظرنامہ ٹی وی کی سکرینوں کے بالکل برعکس تھا۔ کئی مرتبہ تو ایسا محسوس ہوا کہ چند ٹی وی چینلز کسی اور جلسے کی کوریج کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر شاید کسی مختلف جلسے کی تصاویر اور ویڈیوز شئیر کی جا رہی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ مین سپریم الیکٹرانک میڈیا لالچ اور دھمکی دونوں کے زیر اثر حکومتی پسند کی کوریج دکھا رہا تھا جب کہ سوشل میڈیا وہ دکھا رہا تھا جو کہ مینار پاکستان پر ہو رہا تھا۔
حکومت اور ریاست کے ماؤتھ پیس اے آر وائی ٹی وی چینل نے اپنے شاہوں سے وفاداری نبھاتے ہوئے یہ لطیفہ بھی سنا دیا کہ مینار پاکستان پر اپوزیشن کے جلسے میں شرکاءکی تعداد تین سے پانچ ہزار کے درمیان ہے۔ اے آر وائے نے پاکستان ٹیلی ویژن کو بھی مار دیتے ہوئے یہ رپورٹ دی کہ پی ڈی ایم کی قیادت نے جس تعداد کا دعویٰ کیا تھا اس کے 10 فیصد لوگ بھی جلسہ گاہ میں موجود نہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے ٹی وی چینل جیو نے نے شرکاء کی تعداد کے معاملے پر کوئی پوزیشن نہ لینے میں ہی عافیت سمجھی جبکہ حکومت نواز دنیا ٹی وی نے مینارِ پاکستان پر 70 ہزار سے زیادہ لوگوں کے موجود ہونے کی رپورٹ دی۔ کئی چینلز یہ دعویٰ بھی کرتے نظر آئے کہ مینار پاکستان کا پورا گراؤنڈ استعمال نہیں کیا جا رہا اور چار میں سے صرف ایک حصے پر جلسہ کیا گیا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ پورا گراؤنڈ بھرنا اپوزیشن کے بس کی بات نہیں ہے۔ غرض یہ کہ ذیادہ تر مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا حکومتی میڈیا مینیجرز کی مرضی کے مطابق جلسے کی کوریج دکھاتا اور بتاتا رہا۔ اس دوران صحافی حضرات جلسے کی کوریج اور شرکا کی درست تعداد کے حوالے سے میڈیا پر حکومتی دباؤ کی شکایت بھی کرتے دکھائی دیے۔ دنیا ٹی وی چینل کے رپورٹر نے جب جلسہ گاہ میں شرکا کی تعداد 70 ہزار کے قریب بتائی تو وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل اتنی زیادہ تعداد بتانے پر سخت برہم ہوگے اور اس صحافی کے خلاف ٹویٹ کرنے کے علاوہ ادارے کے مالکان کو بھی شکایت لگادی۔
اسی حرکت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’جلسہ پی ڈی ایم کا ہے اور وزیراعظم کے معاون خصوصی دنیا نیوز کے ایک رپورٹر کی مذمت کر رہے ہیں جس نے بتا دیا کہ اس جلسے میں ستر ہزار کے قریب لوگ آ چکے ہیں۔ آپ اختلاف کریں لیکن میڈیا پر دباؤ ڈال کر پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام نہ کریں۔‘
مولانا فضل الرحمن نے بھی اپنی تقریر میں جلسے کی کوریج کے حوالے سے میڈیا چینلز پر دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ان میڈیا والوں کو شرم آنی چاہیے جو کہتے ہیں کہ چند ہزار لوگ جلسہ میں شریک ہیں۔ ان کو اور ان سے یہ کہلوانے والوں کو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے۔‘ کئی سوشل میڈیا صارفین نے اے آر وائی ٹی وی چینل کو شرم دلوانے کے لیے ایک گھر کے باہر والے لان میں مینار پاکستان کا ایک چھوٹا سا ماڈل رکھا دکھا کر یہ مشورہ دیا کہ آپ اس کی فوٹیج بنا کر چلائیں تاکہ ثابت ہو سکے کہ مینار پاکستان کا میدان بالکل خالی ہے۔
تاہم 13 دسمبر کو لاہور کے مینار پاکستان پر بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر بھی موجود تھیں۔ انہوں نے وہاں پر کیا دیکھا آئییے آپ کو ان کی زبانی بتاتے ہیں: وہ بتاتی ہیں کہ جب میں مینار پاکستان کے گروانڈ میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ سیاسی جماعت کے کارکنان کی جانب سے انتظامات پورے ہو چکے تھے اور لوگوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری تھی۔ صبح سے لے کر دوپہر کے اوقات تک جلسہ گاہ میں جن زیادہ تر کارکنان سے ملاقات ہوئی ان میں ایک بڑی تعداد پاکستان کے دیگر شہروں سے آنے والوں کی تھیں۔ مینار پاکستان کے پاس آسمان کی طرف دیکھا تو ایک سفید رنگ کی پتنگ اڑتی دکھائی دی۔ اسے اڑانے والے شخص کے پاس گئی تو وہ تو ایک نہیں چار مرد تھے جو باری باری پتنگ اڑا رہے تھے۔ ان سے گپ شپ کا موقع ملا تو معلوم ہوا کہ وہ بلوچستان سے جلسے کے لیے آئے ہیں. تاہم دو بجے کے بعد خواتین اور بچوں سمیت کئی شرکا ٹولیوں کی صورت میں آنا شروع ہو گئے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کا تعلق لاہور سے تھا۔ اسی دوران مختلف چینلز کے نمائندگان اور جلسے کی کوریج کرنے والے صحافی اپنا الگ الگ تجزیہ دے رہے تھے۔ کسی نے کہا کہ ’دو بج گئے ہیں لیکن ابھی تک اتنا ہجوم اکھٹا نہیں ہوا‘ تو کسی کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کم از کم پنڈال تو بھر ہی لے گی۔ اب صحافیوں کے ملے جلے تجزیے تھے۔ لیکن ایک سوال جو تقریباً ہر صحافی کو ہی ان کے چینل کی جانب سے پوچھا جا رہا تھا، وہ یہ تھا کہ جلسہ گاہ میں کتنے لوگ ہیں؟
بی بی سی کی نمائندہ خاتون کہتی ہیں کہ مینارِ پاکستان پر موجود صحافی اپنے اپنے اندازے کے مطابق رپورٹ کر رہے تھے۔ کچھ ڈرون کیمرے سے فوٹیج بنا رہے تھے تو کوئی سٹیج کے سامنے سے فوٹیج بنانے میں مصروف تھا۔ چند افراد کو جلسہ گاہ کے آخری سرے سے فوٹیج بنانے کی ہدایات بھی موصول ہوئیں اور کوریج کا یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا۔ جب شام ڈھلنا شروع ہوئی تو جلسہ گاہ میں شرکا کی تعداد بڑھنے لگی اور ایک وقت ایسا آیا کہ جلسہ گاہ مکمل طور پر بھر گئی اور آزادی پل پر اور گروانڈ سے باہر بھی لوگوں کی کثیر تعداد اکٹھی ہو گئی۔ یعنی ایک طرح سے مینار پاکستان کی گراؤنڈ کو بھرنے کا چیلنج اپوزیشن اتحاد نے پورا کر دکھایا تھا۔
لیکن دوسری طرف جیسے جیسے جلسہ گاہ میں شرکا کی تعداد بڑھنے لگی، ٹی وی چینلز پر ماحول بھی بدلنے لگا اور کوریج پر مامور ذیادہ تر رپورٹرز یہ تاثر دیتے نظر آنے لگے کہ شاید جلسہ گاہ خالی ہے اور جلسہ ناکام ہوچکا ہے۔ اس موقع پر تحریکِ انصاف کے بیشتر رہنما بھی ان چینلز کے کلپ شئیر کرتے اور پی ڈی ایم کے جلسے کو ناکام قرار دیتے نظر آئے۔
رات گئے تک فیصل جاوید اور علی حیدر سے لے کر شہباز گل تک تحریکِ انصاف کے سبھی رہنماؤں، آفیشل اکاؤنٹس اور مداحوں تک بار بار مختلف ویڈیوز کے لاہور کے جلسے کو فلاپ شو قرار دیتے ہوئے یہی موقف دہرایا کہ مینارِ پاکستان کا گراؤنڈ خالی ہے اور جلسہ ناکام ہو چکا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر صورتحال بالکل مختلف تھی اور وہاں پر مینار پاکستان کی گراؤنڈ کی ڈرون سے بنائی گئی فوٹیج وائرل تھیں جن میں دیکھا جا سکتا تھا کہ مینار پاکستان کی جلسہ گاہ کھچا کھچ عوام سے بھری ہوئی تھی۔ پھر پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار نے ایک ویڈیو شئیر کی جس میں گراؤنڈ کا بیشر حصہ خالی نظر آتا ہے۔ انھوں نے طنزیہ انداز میں سماجی فاصلوں کا خیال رکھنے پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا ’شکست خوردہ عناصر کے افراتفری اور کورونا پھیلانے کے ایجنڈے سے الگ رہ کر عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ ناکام جلسیوں کے بعد زندہ دلانِ لاہور نے بھی اپوزیشن کی ناکام سیاست پر مہر ثبت کر دی ہے۔‘
بزدار کی اس ٹویٹ کے جواب میں وزیرِ اعلیٰ کے ٹرولنگ سکلز کی تعریف تو بہت ہوئی لیکن بیشتر سوشل میڈیا صارفین سے لے کر صحافیوں نے اسی مقام کی کئی ایسی ویڈیوز پوسٹ کیں جن میں گراؤنڈ مکمل بھرا ہوا نظر آتا ہے۔ یعنی حکومت جلسہ گاہ کو اپنی عینک سے دیکھ رہی تھی اور اپوزیشن کے ہمدرد اپنی عینک سے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی نے جلسے کی ویڈیوز شئیر کرتے ہوئے لکھا ’بزدار صاحب یہ بھی اسی جلسہ کی ویڈیو ہے لیکن یہاں کسی نے سوشل ڈسٹنسنگ کا خیال نہیں کیا اس وقت عملہ شاید آرام کر رہا تھا۔‘ تحریکِ انصاف کے بیشتر رہنماؤں اور آفیشل اکاؤنٹ سے بار بار یہ لطیفہ بھی چلتا رہا کہ سوشل میڈیا پر پی ڈی ایم رہنما، صحافی اور دیگر صارفین بھرے ہوئے جلسہ گاہ کی جو تصاویر پوسٹ کر رہے ہیں وہ دراصل اسی مقام پر پی ٹی آئی کے پرانے جلسوں کی ہیں۔ عقل کے اندھوں نے اتنی زحمت بھی نہیں کی کہ فوٹیج دیکھ کر اندازہ ہی لگا لیتے کہ اس میں نون لیگ، پیپلزپارٹی اور جمیعت علماء اسلام کے جھنڈے صاف نظر آ رہے تھے۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ایسی ویڈیوز اور تصاویر گردش کرتی نظر آئیں جن میں مینار پاکستان کا گراؤنڈ شائقین سے بھرا نظر آتا ہے۔ نون لیگی رہنما مریم نواز شریف نے یہ دعویٰ کیا کہ مینار پاکستان کے جلسے نے شرکاء کی تعداد کے حوالے سے اگلے پچھلے تمام ریکارڈز توڑ دیے ہیں۔ تاہم مینار پاکستان کا جلسہ سوشل میڈیا پر اب بھی زیر بحث ہے لیکن ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو پایا کہ جلسہ ناکام رہا یا کامیاب؟ صارفین کا ماننا ہے کہ اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ نے جلسے کی کوریج کس چینل اور کس میڈیم پر دیکھی۔
