اچھی گرل فرینڈ کی نشانیاں بتانے والی شاعرہ تنقید کی زد میں

بھارتی اداکارہ، ماڈل، لکھاری اور شاعرہ پریا ملک کو اچھی گرل فرینڈ کی نشانیوں بارے نظم کہنے پر تنقید کا سامنا ہے۔ نظم کا عنوان تھا ’میں اچھی گرل فرینڈ نہیں ہوں۔پریا نے حال ہی میں انسٹا گرام پر انگریزی کی نظم ’آئی ایم ناٹ اے کول گرل فرینڈ‘ کی ویڈیو شیئر کی۔ اس نظم میں محبوبا کی کچھ عادتوں کا ذکر ہے اور ساتھ ہی ان کی امیدوں کا تزکرہ بھی کیا گیا ہے جو وہ اپنے بوائے فرینڈ سے وابستہ رکھتی ہیں۔ اس نظم میں ایک گرل فرینڈ کی عادات بتائی گئیں ہیں کہ وہ دن میں ایک نہیں، تین، چار بھی نہیں بلکہ 15 مرتبہ اپنے بوائے فرینڈ کو کالز کریں گی اور بار بار انہیں میسیجز بھی بھیجیں گی۔ نظم میں بتایا گیا ہے کہ گرل فرینڈ اپنے بوائے فرینڈ کو بار بار میسیج کر کے ان سے پوچھے گی کہ وہ کیا کر رہے ہیں، کہاں ہیں، کس کے ساتھ ہیں، کب آئیں گے اور کدھر ہیں وغیرہ وغیرہ۔ نظم کے مطابق گرل فرینڈ اپنے بوائے فرینڈ کو کہتی ہے کہ وہ ان کی والدہ، والد اور ان تمام لڑکیوں کے والدین سے بھی ملنا چاہیں گی جن سے کبھی ان کے بوائے فرینڈ نے محبت کی ہوگی۔ نظم میں بتایا گیا ہے کہ ان سب باتوں کے باوجود گرل فرینڈ کو یہ امید ہوتی ہے کہ ان کے بوائے فرینڈ کسی اور سے تعلق نہیں رکھیں گے اور ان کے ہر میسیج کا فوری جواب دیں گے اور یہ کہ ان سے وہ بولی وڈ طرز کی فلمی محبت کی امید بھی رکھتی ہیں۔ نظم میں شاعرہ محبوب کی باتیں بتاتے ہوئے بار بار یہ بھی کہتی ہیں کہ وہ ’ کیوں کہ اچھی محبوبا نہیں ہیں۔
پریا ملک کی اس نظم کو لوگوں نے ٹوئٹر پر شیئر کرکے ان پر تنقید کی اور ان کی شاعری کو بیہودہ اور برداشت سے باہر قرار دیا، لوگوں نے ٹوئٹس کرتے ہوئے پریا ملک کی جانب سے پڑھی جانے والی شاعری کو خلاف فطرت اور محبت بھی قرار دیا۔ عض لوگوں نے ان کی شاعری کو ڈپریشن اور پریشانی کا سبب قرار دیا، کچھ لوگوں نے اسے اضطراب کو اگلی سطح پر لے جانے جیسی شاعری بھی کہا۔
یاد رہے کہ پریا ملک بھارتی ریاست اترکھنڈ میں پیدا ہوئیں، تاہم انہوں نے زندگی کا بیشتر حصہ آسٹریلیا میں گزارا۔ انہوں نے آسٹریلیا کے ہی ریئلٹی شو ’بگ برادر‘ میں 2011 میں شرکت کی، جس کے بعد انہوں نے اسی شو کے ہندی ورژن ’بگ باس‘ میں بھی شرکت کی اور وہیں سے انہوں نے شہرت بٹوری۔ پریا ملک نے بگ باس میں شرکت کے بعد ماڈلنگ اور اداکاری کے علاوہ شاعری اور لکھنے کا کام بھی جاری رکھا اور وہ سوشل میڈیا پر بھی متحرک رہتی ہیں۔ حال ہی میں انہون نے ایک انگریزی کی نظم اپنے انسٹاگرام پر شیئر کی، جسے بعد ازاں دوسرے لوگوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کرکے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔
