مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کا بے نظیر کے قتل سے کیا تعلق تھا؟

27 دسمبر 2007 کی شام راولپنڈی کے لیاقت باغ کے باہر محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کرنے والے 15 سالہ دہشت گرد بلال نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے کے لئے اپنے ساتھی کے مشورے پر جوگرز اتار کر سینڈل پہن لئے تھے، تاہم بعد ازاں انہی جوگرز کے ذریعے بی بی پر خودکش حملہ کرنے والے بلال کی شناخت ممکن ہوئی۔
یاد رہے کہ بےنظیر بھٹو پر 27 دسمبر کو لیاقت باغ میں جلسے کے بعد حملہ ہوا تھا جس میں ان سمیت 24 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔ ان کی شہادت کی انکوائری ایک پاکستانی جے آئی ٹی، سکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقاتی ٹیم اور اقوام متحدہ کے خصوصی کمیشن نے کی تھیں۔ سکاٹ لینڈ یارڈ نے واقعے کے مقام اور دھماکے کی ویڈیوز کا جائزہ لیا اور پھر اپنی رپورٹ میں بتایا گیا حمکے دی چند لمحے پہلے پیپلز پارٹی کا ایک جیالا گاڑی پر چڑھ گیا اور بینظیر بھٹو کو چھونے کی کوشش کی، جسے محافظوں نے زبردستی اُتارا۔ اس مختصر سی ہلچل کے فوراً بعد سیاہ بالوں والا ایک شخص، جس نے کالا چشمہ لگا رکھا تھا، گاڑی کی طرف بڑھنے لگا اور بینظیر کی لینڈ کروزر کے قریب آ گیا۔ پھر اُس نے اپنی جگہ تبدیل کی اور مجمع میں اس طرف چلا گیا جہاں نسبتاً کم لوگ موجود تھے۔
لینڈ کروزر کے اگلے اور پچھلے دروازے کے وسط میں پہنچ کر اس نے سیاہ رنگ کی گن نکالی اور دائیں ہاتھ میں تھام لی۔ تقریباً دو سے تین فٹ کے فاصلے پر اس نے گن بلند کی اور بینظیر کا نشانہ لے کر لگا تار تین فائر کیے، ہر گولی کے بعد حملہ آور نے گن کا نشانہ تھوڑا تبدیل کیا۔ تیسری گولی فائر کیے جانے سے قبل تک بینظیر گاڑی کے اوپر نظر آ رہی تھیں۔ گولیاں داغنے کے بعد حملہ آور نے نیچے زمین کی جانب دیکھا اپنے بازو پر لگا ہوا خودکش جیکٹ کا ٹریگر بٹن دبایا، جس سے نارنجی شعلے والا دھماکہ ہوا اور ہر جانب سیاہ دھواں پھیل گیا۔
بی بی سی کے مطابق بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم کی رپورٹ بتاتی ہے کہ خودکش حملہ آور کا سر دھماکے کی جگہ سے پچیس فٹ کے فاصلے پر ملا جو پارک میں داخلی راستے کے قریب فٹ پاتھ کے قریب پڑا ہوا تھا۔سکارٹ لینڈ یارڈ کی رپورٹ کے مطابق دھماکے کے مرکز کے قریب سے دو ٹانگیں بھی ملیں، جن کے پاؤں میں براؤن رنگ کے سینڈل اور اسی رنگ کے جرابیں موجود تھیں۔
بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹس اور ملزمان کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ بےنظیر پر حملے کی کئی شہروں میں منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ لیاقت باغ میں حملے سے 13 روز قبل یعنی 12 دسمبر کو نوشہرہ کے علاقے پبی میں حملے کی ریہرسل کی گئی تھی۔ اس کیس میں گرفتار ایک ملزم رشید احمد عرف رحیم ترابی نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ ابتدا میں 26 دسمبر کو پشاور میں حملے کا منصوبہ تھا، لیکن سخت سکیورٹی کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ پولیس نے دھماکے اور اس کی منصوبہ بندی کے الزام میں رشید احمد سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کیا تھا جن میں اعتزاز شاہ عرف سیف اللہ، شیر زمان، حسنین گل اور محمد رفاقت شامل تھے۔
سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ حملہ آور راستے میں دو مدارس میں رہے۔ اس کے بعد مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے کمرہ نمبر 70 میں قیام کیا جہاں انھوں نے کپڑے تبدیل کیے۔ تحقیقاتی رپورٹس اور ملزمان کے بیان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حملہ آوروں کو بذریعہ بس لایا گیا، جس کی تصدیق حسنین گل کے بیان سے ہوتی ہے۔ حسنین گل نے بتایا کہ حملہ آور سعید عرف بلال اور اکرام اللہ کو خودکش حملے لیے تیار کیا اور انھیں جیکٹ، پستول اور گولیاں دیں۔ بمبار سعید عرف بلال نے حسنین کا سیاہ چشمہ بھی پہن لیا اور ایک شال، ٹوپی اور ایک جوگرز کا جوڑا گھر چھوڑ گیا۔ حسنین نے بلال کو مشورہ دیا کہ ان تربیتی جوتوں یعنی جوگرز کے علاوہ کچھ اور پہنے کیونکہ سکیورٹی فورسز کو آئیڈیا ہے کہ یہ جوتے جہادی پہنتے ہیں، اور ہو سکتا ہے کہ وہ ان جوتوں کے باعث پکڑے جائیں۔ اس مشورے پر اس نے سینڈل پہنے اور جوگرز وہاں اتار دیے۔ حسنین گل نے اپنے بیان میں جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ سعید عرف بلال کو جلسے سے بےنظیر بھٹو کے خارجی راستے پر تعینات کیا گیا جبکہ اکرام اللہ کو اس ہدایت کے ساتھ پبلک گیٹ پر تعینات کیا گیا کہ بلال کی ناکامی کی صورت میں وہ خودکش حملہ کرے گا، یہ بھی فیصلہ ہوا کہ جلسے کے اندر حملہ کیا جائے گا، لیکن حملہ آور رش کی وجہ سے وہاں تک نہیں پہنچ سکے۔ حسنین کے مطابق اس نے فائرنگ اور دھماکے کی آواز سُنی، اس کے بعد نصراللہ ڈائیوو اڈے کی طرف چلا گیا جبکہ اکرام اللہ کا پتہ نہیں چلا اور وہ رفاقت کے ہمراہ گھر کی طرف لوٹے، راستے میں انھوں نے بےنظیر بھٹو کی شہادت کے بارے میں سُنا۔
حسنین گل کے بیان پر پولیس نے رفاقت کے گھر سے ایک شال، ٹوپی اور ایک جوگرز کا جوڑا برآمد کیا۔سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ حملہ آور بلال جو شوز رفاقت کے گھر میں چھوڑ گیا تھا اس کو حکومت نے جسم کے بعض اعضا سمیت ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے امریکہ بھیجا، جہاں سے تصدیق ہوئی کہ بمبار بلال تھا اور شوز اسی کے ہیں۔
سکاٹ لینڈ یارڈ کی رپورٹ کے مطابق ریڈیوگرافر نے بمبار کے ہاتھ کے ایکسرے کی مدد سے عمر کا تعین کیا اور اس کی عمر 15 سال چھ ماہ بتائی۔ حملہ آور بلال کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹس اور ملزمان کے بیانات میں زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں ہیں، بعض حوالوں کے مطابق اس کی پیدائش افغانستان کے بارڈر کے قریب ہوئی تھی۔ راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اگست 2017 میں رفاقت، حسنین گل، شیر زمان، اعتزاز شاہ اور رشید احمد کو بری کر دیا تھا اور قرار دیا تھا کہ استغاثہ ملزمان پر الزام ثابت نہیں کر سکی ہے۔ ایف آئی اے نے اس فیصلے کو چیلنج کیا اور درخواست میں کہا گیا کہ اس مقدمے کے پانچ ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر رہا کرنے کے فیصلے میں سقم موجود ہیں کیونکہ تفتیش کے دوران عدالت کی طرف سے رہائی پانے والے ان پانچ ملزمان سے نہ صرف اسلحہ برآمد ہوا تھا بلکہ اُنھوں نے اعتراف جرم بھی کیا تھا۔
