پنجاب کی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھنے والا ہے؟

لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ معطل کیے جانے کے بعد پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم نے ایک دوسرے کو زیر کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں تا کہ 11 جنوری کے بعد پنجاب اسمبلی میں اپنی اپنی عددی اکثریت ثابت کی جا سکے۔ پنجاب میں سیاسی صورتِ حال میں فی الوقت کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی چونکہ عمران خان پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کے اعلان پر بدستور ڈٹے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب پرویز الٰہی نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد اسمبلی تحلیل کر دیں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یوں معلوم ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ق) بظاہر عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے لیکن پرویز الٰہی یہ بھی چاہتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی اپنی مدت پوری کرے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کہتے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں خود کو جمہوریت پسند کہتی ہیں لیکن ایسا لگتا نہیں ہے۔ ایک زمانے میں صدر کے پاس آئینی اختیار 58-ٹو-بی ہوا کرتا تھا جس کے ذریعے وہ حکومت کو برخاست اور اسمبلی کو تحلیل کر دیتے تھے۔

وہ تو اَب نہیں ہے لیکن جس طریقے سے پنجاب اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا مراسلہ جاری کیا گیا ہے اُس سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ 58 -ٹو-بی کو زندہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں اور عمران میں کوئی فرق نہیں ہے۔ عمران بھی سابق صدر غلام اسحاق خان کی طرح اسمبلیاں تحلیل کر کے حکومت توڑنا چاہتے ہیں۔ سب کا رول ماڈل غلام محمد اور غلام اسحٰق خان بن چکے ہیں۔

دوسری جانب تجزیہ کار اور کالم نویس سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ سیاسی اعتبار سے اسمبلیاں توڑنا کوئی اچھی چال نہیں ہے۔ یہ ایک ہنگامی صورتِ حال ہے۔ ایک طرح کا بحران ہے۔ ایسے نہیں لگ رہا کہ کسی کی بھی پنجاب میں حکومت ہے۔ یہاں کبھی ایک جماعت حکومت میں ہوتی ہے تو کبھی دوسری برسرِ اقتدار آ جاتی ہے۔ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ صوبہ پنجاب کی سیاست عدم استحکام کا شکار ہے جس کا براہ راست ملکی معیشت پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ اُن کی رائے میں عام انتخابات تک یہ سیاسی بحران ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا، جس کی بنیادی وجہ سیاسی جماعتوں کے پاس کم عددی اکثریت ہے۔ ان کے بقول یوں لگتا ہے کہ انتخابات تک ایسی ہی صورتِ حال رہے گی۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ سیاسی صورتِ حال کے باعث ملک کو عدم استحکام کا سامنا ہے۔

لیکن اس دوران یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ اتحادی حکومت کے رہنما پرویز الہٰی کو اسمبلی تحلیل کرنے سے روکنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں، جس میں مسلم لیگ (ق) اور پی ٹی آئی کے ارکانِ اسمبلی کے ساتھ پسِ پردہ رابطے کیے جا رہے ہیں۔ حامد میر کی رائے میں اِس وقت پاکستان میں حقیقی معنوں میں کوئی حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعت ہے ہی نہیں۔ ساری سیاسی جماعتیں حکومت میں ہیں۔ صدر تحریکِ انصاف کا ہے جب کہ وزیرِ اعظم مسلم لیگ (ن) کا ہے۔ پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ اِسی طرح پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ میں ہے۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسوقت حکومت بمقابلہ حکومت میچ جاری ہے۔

تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے خیال میں چوہدری پرویز الہٰی کو 11 جموری سے پہلے اعتماد کا ووٹ لے لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرویزالٰہی جتنا عرصہ اعتماد کا ووٹ لینے سے انکاری رہیں گے تب تک یہ تاثر برقرار رہے گا کہ وہ ایوان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی وزرائے اعلیٰ اعتماد کا ووٹ لیتے رہے ہیں اور پرویز کے لیے بھی ایسا کرنا ایک آئینی ذمہ داری ہے۔ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ایک طرف عمران خان، پرویز الہٰی کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہتے ہیں تا کہ حکومت مستحکم ہو اور دوسری جانب موصوف اسمبلی تحلیل کرنے کی بات کرتے ہیں جو کہ ایک کھلا تضاد ہے۔

لیکن حامد میر سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست میں اِیسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا۔ ایسے ہی حالات 1990 کی دہائی میں بھی تھے۔ جب منظور وٹو پیپلز پارٹی کی مدد سے غلام حیدر وائیں کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کر کے وزیراعلٰی پنجاب بنے تھے، جس کے بعد گورنر پنجاب تبدیل ہوئے۔ فواد چوہدری کے تایا چوہدری الطاف حسین گورنر پنجاب بنے۔ ایسی صورت میں پرویز الٰہی عدالتِ عالیہ لاہور چلے گئے اور حکومت کو بحال کرا دیا۔ جس کے بعد گورنر پنجاب نے سات سے آٹھ منٹ بعد دوبارہ حکومت توڑ دی۔ان کا کہنا تھا کہ اِسی طرح 1985 میں بھی ہوا تھا۔ جب منظور وٹو پیپلز پارٹی کی مدد سے پہلے وزیراعلیٰ پنجاب بن گئے۔ جنہیں نکالنے کے لیے نواز شریف نے گورنر راج لگایا، جسے عدالتوں نے منسوخ کر دیا، جس کے بعد بے نظیر بھٹو نے منظور وٹو کو نکالنے کے لیے یہی کچھ دوبارہ کیا۔

حامد میر نے کہا کہ جو صورتِ حال آج پنجاب کی سیاسی اعتبار سے بنی ہوئی ہے۔ یہی صورتِ حال 1990 کی دہائی میں تھی۔ گورنر ہاؤس لاہور میں سازش ہوتی تھی۔ وزیراعلیٰ پنجاب اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کر رہا ہوتا تھا۔ اُس وقت منظور وٹو جونیجو لیگ کا حصہ تھے۔ جس کے پاس 10 سے 15 ارکانِ اسمبلی تھے۔ آج مسلم لیگ (ق) کے پاس 10 ارکان ہیں۔ اِنہی لڑائیوں کے نتیجے میں 1999 میں پاکستان میں مارشل لا لگ گیا تھا اور مشرف اقتدار پر قابض ہو گیا تھا۔

 تحریکِ انصاف کے اندرونی ذرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی تحلیل کے معاملے پر قانونی ماہرین نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو مختلف آرا سے آگاہ کیا ہے۔ اسمبلی کی تحلیل عدالتی حکم سے مشروط کر دی گئی ہے۔ عمران کو بتایا گیا ہے کہ 11 جنوری سے پہلے اسمبلی تحلیل نہیں ہو سکتی۔ پی ٹی آئی کا 11 جنوری سے قبل اعتماد کا ووٹ لینے کا بیان صرف بیان نظر آرہا ہے۔ حامد میر کے خیال میں پاکستان میں عام انتخابات اکتوبر یا نومبر 2023 میں ہوں گے اور جہاں تک بات ہے پی ٹی آئی کے مسلم لیگ (ق) کے ساتھ الحاق ہونے کی، تو اُنہیں ایسا ہوتا نہیں دکھائی دے رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اِس وقت مجبوری میں پھنسی ہوئی ہے۔ عام انتخابات میں مسلم لیگ (ق) پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں ہو گی۔ اُن کے بقول پرویز الہٰی پی ٹی آئی کے گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں، جنہیں نہ نگلا جا سکتا ہے نہ ہی اُگلا جا سکتا ہے۔ چنانچہ جیسے ہی سیاسی صورتِ حال بہتر ہو گی پرویز الٰہی اور عمران خان کے راستے جدا ہو جائیں گے لیکن سینئر صحافی سہیل وڑائچ حامد میر کی بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ اُن کی نظر میں عام انتخابات آئندہ برس سال مئی میں ہو جائیں گے۔اُن کی رائے میں تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ ق کا اتحاد مستقبل میں بھی برقرار رہے گا لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ اتحاد کتنی نشستوں پر ہوتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتِ حال میں پرویز الہٰی، عمران خان کو بہت عزیز ہیں البتہ جب وہ اقتدار سے نکل جائیں گے تو شاید وہ اتنے عزیز نہ رہیں۔

Back to top button