چیف جسٹس پنجاب کے داماد نے پرویز الٰہی کو کیسے بچایا؟

عدالتی مداخلت سے دوبارہ وزارت اعلٰی پر بحال ہونے والے چوہدری پرویز الٰہی نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس امیر بھٹی کے داماد اور رکن پنجاب اسمبلی علی افضل ساہی کو باقاعدہ اپنا مرشد بنا لیا ہے کیونکہ انہیں 11 جنوری تک کی مہلت بھی مرشد نے دلوائی ہے اور اسکے بعد بھی ان کے وزارت اعلی پر رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ بھی مرشد نے ہی کرنا یے۔ پرویز الٰہی بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہوں گے نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن آج کل تخت پنجاب کی لڑائی میں پنجاب کے نئے مرشد کا بہت چرچا ہے۔ پہلی مرتبہ رکن پنجاب سمبلی بننے والے نوجوان علی افضل ساہی کو پنجاب میں مرشد کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے اور وہ بیک وقت زمان پارک اور ظہور الٰہی پیلس میں مرشد کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار مزمل سہروردی کے مطابق علی افضل ساہی جولائی 2022 کے ضمنی انتخابات میں پہلی مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی بنے ہیں۔ سیاست میں وہ بہت جونیئر ہیں لیکن بہت ہی مختصر عرصے میں انہوں نے بہت سارے سینئرز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ علی افضل ساہی کو پنجاب میں سی اینڈ ڈبلیو کی وزارت دی گئی ہے۔ یہ ایک بڑی وزارت ہے جو بڑے سینئرز کو ہی دی جاتی ہے لیکن علی افضل ساہی کو اپنے مرشد ہونے کی وجہ سے یہ وزارت ملی ہے۔ انہیں پنجاب میں ایک وزیر سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ وہ وزیراعلیٰ سے کم نہیں ہیں لیکن تحریک انصاف میں بھی ان کی حیثیت اس وقت کسی بھی بڑے لیڈر سے زیادہ ہے۔
مرشد علی افضل ساہی کو ہر مسئلے کا حل سمجھا جاتا ہے۔ وہ جب سیاسی میٹنگ میں آتے ہیں تو سب تعظیم میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کی سفارش پر بڑے سے بڑا کام ہو جاتا ہے۔ افسر شاہی میں بھی مرشد کی بہت ذیادہ چلتی ہے۔ کوئی بیوروکریٹ ان کے کام کو انکار کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ کہا جاتا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے کام کو انکار ہو سکتا ہے لیکن مرشد کے کام سے انکار نہیں ہو سکتا۔ مرشد کی بات کو حرف آخر کی حیثیت حاصل ہے اور وہ نہ سننے کے عادی نہیں۔
مزمل سہروردی کے مطابق اس وقت وزیر اعلٰی پرویز الٰہی کی حکومت مرشد کے سر پر ہی قائم ہے، مرشد کی وجہ سے سب کے سر پر تاج ہیں۔ مرشد ہیں تو سب ہیں اور مرشد نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ حال ہی میں پنجاب میں جو بحران آیا ہے اس میں بھی مرشد کو بہت اہمیت حاصل رہی۔ تمام فیصلے مرشد کی مشاورت سے ہوئے۔ مرشد کے کمالات سے گورنر کا نوٹیفکیشن معطل ہوا۔ مرشد کی وجہ سے سب وزیر بحال ہوئے۔ اسی لئے اس بحران کی ہر میٹنگ میں مرشد پیش پیش تھے۔ وہی سب کو تسلی دے رہے تھے۔ ان کی تسلی پر ہی سب کو تسلی تھی۔
ہر کوئی مرشد سے پوچھ رہا تھا کہ اب کیا ہوگا۔ مرشد بتا رہے تھے سب ٹھیک ہو جائے گا اور کوئی اعتماد کا ووٹ نہیں لینا پڑے گا۔ اس یقین دہانی پر کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کیونکہ عقل کتہی تھی کہ عدالت کہے گی کہ اعتماد کا ووٹ لیں، لیکن مرشد کی یقین دہانی تھی کہ نہیں، ایسا نہیں یو گا اور اس کے بغیر ہی بات بن جائے گی اور پھر ایسا ہی ہوا اور سب قانونی ماہرین غلط ثابت ہو گئے، ثابت ہوا کہ آخر مرشد، مرشد ہی ہوتا ہے۔ مرشد کے انہی معجزات اور کرشمات نے انہیں مرشد بنایا ہے۔ ورنہ اس سے پہلے تو انہیں کوئی جانتا بھی نہیں تھا۔
مزمل سہروردی بتاتے ہیں کہ مرشد کا تعلق سیاسی گھرانے سے ہے لیکن یہ سیاسی گھرانہ 2018 کے انتخابات میں بری طرح ہار گیا تھا۔ مرشد نے اپنے سیاسی طور پر مردہ خاندان کو پھر سے زندہ کر دیا ہے۔ مرشد کے خاندان کا ویران ڈیرہ آباد ہو گیا ہے۔ مرشد ایسے طاقتور ہیں کہ ان کے انتخاب کے دوران ان کے مخالف حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ تھے لیکن ان کے حلقہ میں کوئی افسر مرشد کی مرضی کے بغیر نہیں لگ سکتا تھا۔ مرشد کی طاقتیں کمال ہیں۔ ان کے دشمن بھی ان کی طاقت سے ڈرتے ہیں۔ مرشد کم ہی کسی کو نامراد جانے دیتے ہیں۔ وہ اس وقت (ق) لیگ اور تحریک انصاف میں برابر اپنا فیض بانٹ رہے ہیں۔ لوگ مرشد کے ناراض ہونے سے ڈرتے ہیں۔ وہ مرشد کی طاقت سے ڈرتے ہیں کیونکہ مرشد نے ثابت کر دیا یے کہ وہ گرتی حکومت کو کھڑا کر سکتے ہیں اور کھڑی حکومت کو گرا سکتے ہیں۔
