اڑھائی برس میں 35 کھرب روپے کا قرضہ عوام بھگت رہے ہیں

ایوان میں بات کرتے ہوئے شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایک حصہ فیس کی ادائیگی کی مگر کسی غلط ادارے کو، اس پر انکوائری ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پہلے سے 4 گنا زیادہ قرضے لیے ہیں، وہ قرضے کہاں جارہے ہیں، کون مقدس گائے ہے’۔انہوں نے کہا کہ کاوے موسوی صاحب جو بار بار بات کر رہے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ میں نے ایک ارب ڈالر کی لانڈرنگ کرنے والے کا نام شہزاد اکبر کو دے دیا ہے، موجودہ نیب اس پر جانچ پڑتال کر رہی ہے اس کی بات تک نہیں کی جارہی۔
شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ ‘یہاں بات شروع کی جانی چاہیے، ہم کیسز ہار رہے ہیں اور عوام کے پیسے ضائع ہو رہے ہیں، آپ بڑی بڑی پارٹیوں کو توڑیں، انہیں این آر او دیں اور باقی لوگوں کو نیب گردی میں پھنسائیں تو اس پر سوال کیوں نہیں اٹھے گا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘کورونا کے لیے 70 ارب ڈالر مختص کیے گئے تھے، وہ کہاں گئے ہیں، ملک میں نہ ایل این جی آرہی ہے نہ ویکسین، 16 ارب ڈالر کا حکومت نے رواں سال ہی قرضہ لیا، 35 کھرب کا اب تک قرض لے چکی ہے اور اب تمام ریڈ لائن عبور کرچکے ہیں جس سے عوام کی قوت خرید متاثر ہورہی ہے’۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کا کرایہ تک نہیں دیا گیا، دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا، اگر لیز کی ادائیگی نہیں ہو تو عدالت میں نہیں جایا جاتا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جب ایئرلائنز کو گرادیا جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ یہ کس کے لیے ہورہا ہے، یہ اس قدر نااہلی ہے کہ لگتا ہے کہ کہیں کوئی سازش تو نہیں، اور پھر کوئی سوال تک نہیں ہوتا’۔پیپلز پارٹی کی سینیٹر کا کہنا تھا کہ جو حکومت 40 سے 45 فیصد قرضہ چڑھا رہی ہے وہ اس پیسوں کا کر کیا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس پورے اجلاس میں انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، کہا جاتا ہے کہ ہم نے اتنے قرضے اس لیے لیے کیونکہ پچھلی حکومت نے اتنے قرضے لیے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button