میں ڈرنے والا نہیں، نیب جو کر سکتی ہے کر لے

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے سینیٹ میں خطاب کے دوران قومی احتساب بیورو (نیب) کو ایک مرتبہ پھر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ‘میں برگیڈیئر (ر) اسد منیر کے گھر گیا تھا جہاں ان کی بیٹی اور بیوہ سے ملاقات کی، جس طرح سے وہ روئیں اور اپنا حال بیان کیا، اس کو دیکھ پر میں نے اپنے جذبات پر مشکل سے قابو کرلیا’۔
انہوں نے کہا کہ ‘جو اعداد وشمار آئے ہیں اس کے مابق نیب کی حراست میں ہلاکتوں کے مقابلے میں خود کشیاں زیادہ ہوئی ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اسد منیر فوج میں برگیڈیئر تھے اور ستارہ امتیاز تھے، وہ پہلی مرتبہ خود کشی میں بچ گئے تھے، انہوں نے اپنے گھر میں کو خود کو گولی ماری نہیں گولی نہیں چلی اور بچ گئے لیکن دوسری خودکشی میں انہوں نے خود کو لٹکایا’۔
سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ انہوں نے نیب کے دوران سامنے آنے والے حالات سے آگاہ کیا، حکومت اور نیب دونوں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے اور ان چیزوں کو روکنا چاہیے۔نیب پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘لوگوں کی پگڑیاں نہ اچھالیں، ہم سیاست دانوں کی پگڑیاں روزانہ اچھالی جاتی ہیں، ہم اس کا مقابلہ بھی کریں گے مگر لوگ برداشت نہیں کر سکتے اور خود کشی کر رہے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘لوگ ملک چھوڑ کر جارہے ہیں اور پریشان ہیں کہ نیب کسی وقت بھی ہماری خبر چلا دے گی اور ہمارا نوٹس نیوز پر چلے گا، یہ معاملہ ختم نہیں ہورہا ہے بلکہ بڑھتا جا رہاہے، اس لیے حکومتی عہدیداروں سے کہوں گا کہ اس معاملے پر سنجیدہ غور کریں اور اس کو جلداز جلد ختم کردیں’۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ‘اخبار میں آیا ہے کہ نیب کا میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے، یہ ایک دلچسپ بات ہے کیونکہ آج تک لوگوں کا میڈیا ٹرائل ہو رہا تھا اب نیب کا میڈیا ٹرائل شروع ہوگیا ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘آج میں کھڑا ہوں اور بھی 10، 50 اور 100 لوگ اس میڈیا ٹرائل میں شریک ہوں گے اور یہ میڈیا ٹرائل بڑھتا رہے گا کم نہیں ہوگا’۔سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ‘اب یہ بھول جائیں کہ صرف لوگوں کا میڈیا ٹرائل ہوگا، اب نیب کا ٹرائل ہوگا، نیب کے ہر افسر کا ٹرائل ہوگا اور نیب کے ہر افسر کا نام لے کر ہم میڈیا میں ٹرائل کریں گے اور باقی چیزیں بعد میں دیکھیں گے کیا ہوتا ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ فیک اکاؤنٹ کی بڑی بات ہوتی ہے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا تھا نیب نے ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہے، کسی بینک میں کوئی اکاؤنٹ کیسے ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی اکاؤنٹ بینک میں کھل جاتا ہے تو حقیقی ہوتا ہے سوائے دوسرا کچھ ثابت ہو، آج تک ایک بھی فیک اکاؤنٹ ثابت نہیں ہوئی۔جعلی اکاؤنٹ کیسز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی ایک ڈراما ہے جو چلے جارہا ہے، نام نہاد ٹرائل اور سپریم کورٹ کو بھی سراسر جھوٹ بولا جارہاہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘سپریم کورٹ کے ایک جج نے اعتراف کرلیا ہے اور باقی بھی اعتراف کریں گے کہ ہمیں ٹرک کے پیچھے لگایا ہوا اور ہمیں سمجھ نہیں آرہی ہم نے کرنا کیا ہے’۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کیسے بلیک میل ہوتے ہیں اس بارے میں ایوان کو بتاؤں گا، ایک خاتون کی ویڈیو آئی تھی اور اس خاتون کے ذریعے چیئرمین نیب کو بلیک میل کیا جا رہاہے۔سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ ‘میں حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ انہیں کون بلیک میل کر رہا ہے اور ان سے بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ کیوں ڈر رہے ہیں ہماری سینیٹ اور پوری پارلیمنٹ موجود ہے، آپ آئیں اور ہمیں بتائیں کون بلیک میل کر رہا ہے، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘آپ نے ساری عمر چیئرمین نیب نہیں رہنا، ایک دن اترنا ہے پھر کون آپ کے ساتھ کھڑا ہوگا ، پھر آپ صحیح طریقے سے بلیک میل نہ ہوں اور اس سے بچیں’۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ‘میں نے خود ریکارڈنگ اور پیغامات اپنے کانوں سے سنے اور آنکھوں سے دیکھی ہیں پھر بات کر رہا ہوں، میں کوئی ہوائی بات نہیں کر رہا، جب وقت آئے گا تو یہ لوگ بھی سامنے آئیں گے اگر نہیں آئیں تو بہت ہی خطرناک تصویر سامنے آئے گی’۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کو کہنا ہوگا کہ بہت ہوگیا، میں مزید بلیک میل نہیں ہوں گا۔
