اکبر ایس بابر نےپی ٹی آئی کیخلاف پھر طبل جنگ بجادیا

پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر شیر بابر نے پی ٹی آئی کیخلاف ایک بار پھر طبل جنگ بجادیا۔

اکبر ایس بابرنے اعلان کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی متفرق درخواستوں کی سماعت کا فیصلہ ہوا تو فارن فنڈنگ کیس کو بھی فل کورٹ میں زیر سماعت لانے کی درخواست دائر کریں گے،آئین سے ماورا کوئی بھی تشریح نظریہ ضرورت کے تابع کہلائے گی،مخصوص نشستوں کے معاملے پر سپریم کورٹ میں دوران سماعت نئی اصطلاحات متعارف ہوئیں۔بادی النظر میں ان اصطلاحات کا مقصد پی ٹی آئی کو نظریہ ضرورت سے لچک کا ماحول فراہم کرنا معلوم ہوتا ہے۔

 پی ٹی آئی کے بانی رہنمااکبر ایس بابرنے کہا کہ ول آف دی پیپل کی اصلاح کو میانمار میں فوج نے مارشل لاء کے نفاذ کی بنیاد بنایا،آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں بھی ایسی اصطلاحات استعمال کی جا رہی ہیں،ایسا تاثر کہ آئین و قانون کی تشریح میں کسی سیاسی جماعت کی حمایت کا تاثر جوڈیشل مارشل لاء کا ماحول پیدا کرے گا۔جوڈیشل مارشل لاء کے تاثر کا نقصان ناقابلِ تلافی ہو گا، جس سے فوجی مارشل لاء کے دروازے کھلیں گے،فارن فنڈنگ کے دو اگست 2022 کے فیصلے میں یہ ثابت ہو چکا کہ پی ٹی آئی ایک فارم فنڈڈ پارٹی ہے۔

اکبر ایس بابرنے کہاکہ فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں یہ بھی ثابت ہوا کہ پی ٹی آئی کو سات ملین ڈالرز سے زیادہ کی غیر قانونی/ غیر ملکی فنڈنگ ہوئی۔پی ٹی آئی قیادت نے فارن فنڈنگ کو نہ صرف چھپانے کی کوشش کی بلکہ بانی پی ٹی آئی جعلسازی کے بھی مرتکب ہوئے، فارن فنڈنگ کیس سے متعلق پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی سمیت دیگر  قیادت پر جو الزامات ثابت ہوئے وہ انتہائی نوعیت کے ہیں۔انڈیا سمیت دنیا کے مختلف ملکوں کے شہریوں سے فنڈنگ لینے کے اصل مقاصد اور عزائم جاننا پاکستانی قوم کا حق ہے۔

بانی رہنما پی ٹی آئی نے کہاکہ اس قدر بڑے پیمانے پر پی ٹی آئی کو امریکہ، برطانیہ اور انڈین نژاد ڈونرز کا فنڈنگ کرنا بے مقصد نہیں ہو سکتا،کیا یہ فنڈنگ پاکستان میں انتشار پھیلانے کے لیے ہوئی؟ پاکستان کی قومی سلامتی کو داؤ پر لگایا جائے؟  کیا پی ٹی آئی کو بڑے پیمانے پر فارن فنڈنگ فراہم کرنے کا مقصد ملک کے اداروں کے ساتھ کھلواڑ تو نہیں تھا؟ فارن فنڈنگ کیس میں جو رقوم وصول ہونا اور زیر استعمال آنا ثابت ہوا، اس فنڈنگ کے حقیقی مقاصد اور عزائم کی تحقیق انتہائی ضروری ہے۔پی ٹی آئی کے ورکر کو شفاف انٹرا پارٹی الیکشن کے ذریعے اپنی قیادت کے انتخاب کا حق حاصل ہونا چاہئے۔

Back to top button