ایرانی جوہری پروگرام کے بانی سائنسدان کو کیوں قتل کیا گیا؟


جنوری میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی عراق میں امریکی میزائیل حملے میں ہلاکت کے بعد اب ایرانی ایٹمی پروگرام کے بانی جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کے بہیمانہ قتل سے اسرائیل اور ایران کے درمیان موجود کشیدگی خطے ایک نئی جنگ چھیڑ سکتی ہے۔ ایرانی قیادت کی طرف سے قتل کا الزام اسرائیل پر عائد کرنے والے صدر حسن روحانی کے بدلہ لینے کے اعلان سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتائج مزید سنگین ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ ایران کی جانب سے جوابی حملے کا خطرہ موجود ہے۔
ایران کی وزارتِ دفاع کے مطابق ملک کے سینیئر ترئن جوہری سائنسدان محسن فخری زادے تہران کے قریب ہونے والے ایک حملے میں زخمی ہونے کے بعد ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ حملہ آوروں نے پہلے فکری زادے کی کار پر بم سے حملہ کیا اور اس کے بعد اس پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
مغربی انٹیلیجنس ایجنسیاں فخری زادے کو ایران کے خفیہ جوہری اسلحے کے پروگرام کا ماسٹر مائنڈ اور ’ایرانی بم کا باپ‘ بھی کہتی تھیں۔ بین الاقوامی امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک تسلسل سے ہونے والے ایسے ایران مخالف دہشت گردی کے واقعات کا ممکنہ ایرانی ردعمل دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے پر پہنچا سکتا ہے۔ جسطرح پاکستانی عوام اپے ایٹمی پروگرام کی بانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کا نام جانتی ہے اسطرح کا معاملہ ایران میں نہیں۔ زیادہ تر ایرانیوں نے 27 نومبر 2029 تک اپنے جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کا نام بھی نہیں سنا ہوگا۔ انکا نام میڈیا میں تب آیا جب انھیں ایک حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔ مگر جو لوگ ایران کے جوہری پروگرام پر نظر رکھتے ہیں اُن کے لیے محسن کا نام نیا نہیں تھا، اور مغربی انٹیلیجنس ادارے انھیں اس کا اہم کردار قرار دیتے تھے۔ایرانی میڈیا نے فخری زادہ کی اہمیت کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا بلکہ کہا کہ وہ سائنسدان تھے اور حالیہ ہفتوں میں ’ملک میں بننے والی کووڈ 19 ٹیسٹنگ کٹس‘ بنانے کے لیے تحقیق کر رہے تھے۔
لندن کے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ فیلو مارک فِٹزپیٹرک جو ایران کے جوہری پروگرام پر قریبی نظر رکھتے ہیں، انھوں نے بھی ٹویٹ کی کہ: ’ایران کا جوہری پروگرام اب اس نقطے سے کہیں آگے نکل چکا ہے جب یہ کسی ایک فرد پر منحصر ہوتا۔‘
مگر جب فخری زادہ پر حملہ کیا گیا تو ان کے ساتھ کئی باڈی گارڈز تھے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران اُن کی سیکیورٹی کے حوالے سے کتنا سنجیدہ تھا۔ چنانچہ ان کے قتل کے پیچھے موجود محرکات ایران کی جوہری سرگرمیوں کے بجائے سیاسی حقائق سے زیادہ منسلک نظر آتے ہیں۔ دو ممکنہ محرکات سب سے زیادہ قابلِ غور ہیں: پہلا یہ کہ ایران اور جو بائیڈن کے تحت نئی امریکی انتظامیہ کے درمیان تعلقات کی ممکنہ بہتری کو خطرے میں ڈالنا، اور دوسرا، ایران کو ردِعمل پر اکسانا ہے۔ ایران کے صدر حسن روحانی نے اس قتل پر اپنے پہلے بیان میں کہا: ’دشمن تناؤ سے بھرپور ہفتوں سے گزر رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ عالمی صورتحال تبدیل ہو رہی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ان دنوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے۔‘
یاد رہے کہ جب حسن روحانی ایران کے ’دشمنوں‘ کا حوالہ دیتے ہیں تو وہ صاف طور پر ٹرمپ انتظامیہ، اسرائیل اور سعودی عرب کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔اسرائیل اور سعودی عرب دونوں ہی مشرقِ وسطیٰ میں سیاست کی بدلتی لہر اور نو منتخب صدر جو بائیڈن کے عہدہ سنبھالنے پر خطے کی سیاست پر ہونے والے اثرات کے بارے میں فکرمند ہیں۔ جو بائیڈن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں دوبارہ شامل ہونا چاہتے ہیں جو 2015 میں باراک اوبامہ کے دور میں مذاکرات کے بعد طے پایا تھا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں امریکہ کو اس معاہدے سے دستبردار کروا لیا تھا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حال ہی میں نیوم میں ہونے والی مبینہ ’خفیہ ملاقات‘ میں ایران کے متعلق اسرائیل اور سعودی عرب کے تحفظات زیرِ بحث آئے۔اطلاعات کے مطابق نیتن یاہو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے پر بھی ولی عہد کو قائل نہیں کر سکے۔
امریکی میڈیا کے مطابق دو ہفتے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سینیئر مشیروں سے پوچھا تھا کہ کیا ان کے پاس ایران کی مرکزی جوہری سائٹ پر فوجی حملے کا آپشن موجود ہے یا نہیں۔ بظاہر وہ جاتے جاتے بھی ایران کے ساتھ معرکہ آرائی برقرار رخھنا چاہ رہے تھے تاکہ جو بایئڈن کے لیے مشکلات کھڑی ہوں۔ جنوری میں صدر ٹرمپ نے عراق میں ایران کے صفِ اول کے فوجی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو ایک ڈرون حملے میں ہلاک کرنے کے بارے میں فخر کا اظہار کیا تھا، جسے بعد میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے نے ’غیر قانونی‘ قرار دیا تھا۔۔ اب ترمپ کے ایرانی ہم منصب روحانی نے اسرائیل کو فخری زادہ کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو دنیا کے اُن چند رہنماؤں میں سے تھے جنھوں نے براہِ راست اس سائنسدان کے بارے میں بات کی تھی۔ 2018 میں ایک ٹی وی پریزنٹیشن کے دوران انھوں نے ایران کے جوہری پروگرام میں فخری زادہ کے صفِ اول کے کردار کے بارے میں بات کی اور لوگوں پر زور دیا کہ وہ ’یہ نام یاد رکھیں اور جہاں اسرائیل یہ جانتا ہے کہ بائیڈن کی صدارت میں بھی امریکہ اسرائیل کی سلامتی یقینی بنائے رکھے گا، مگر وہیں اس کو یہ بھی تشویش ہے کہ بائیڈن کے نامزد کردہ وزیرِ خارجہ انٹونی بلینکن ایران سے جوہری معاہدے کے زبردست حامی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں بلینکن کی حکمتِ عملی سے فلسطینیوں کے لیے بھی مزید امکانات و مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ وہ صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے خلاف تھے تاہم بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ یہ اقدام واپس نہیں لیں گے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے فخری زادہ کی ہلاکت کے ذمہ دار افراد کے لیے ’یقینی سزا‘ کا عزم ظاہر کیا ہےاور ایران کی مصلحتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے سیکیورٹی اور انٹیلیجنس ناکامیوں کی جانب اشارہ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایرانی انٹیلیجنس اداروں کو دراندازوں اور غیر ملکی جاسوسوں کا پتہ لگا کر قاتلانہ ٹیموں کی سرکوبی کرنی ہوگی۔
سوشل میڈیا پر کئی ایرانی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایران کی جانب سے اپنی عسکری اور انٹیلیجنس برتری کے دعوؤں کے باوجود اس قدر سخت سیکیورٹی رکھنے والے کسی فرد کو دن دیہاڑے کیسے قتل کیا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی تشویش ہے کہ اس قتل کو بنیاد بنا کر ملک کے اندر مزید گرفتاریاں کی جائیں گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اب جبکہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اپنا دور مکمل کرنے والی ہے تو اسرائیل اور سعودی عرب اپنا مرکزی اتحادی کھونے والے ہیں۔ ایران بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے پابندیوں میں نرمی اور اپنی معیشت کو دوبارہ کھڑا کرنے کے امکانات سامنے دیکھا رہا ہے چنانچہ اس قتل کے بعد ایران کا جوابی حملہ کرنا بے وقوفی ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button