کپتان بابر اعظم اپنے خلاف ریپ کے الزام پر خاموش کیوں ہیں؟

https://youtu.be/-DbZ_xv-hsQ
قومی ٹیم کے کپتان اور اس وقت دنیا کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شمار ہونے والے کھلاڑی بابر اعظم کی مشکلات میں دورہ نیوزی لینڈ کے میچز شروع ہونے سے قبل ہی اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے۔ بابر اعظم کے خلاف انکی حامزہ نامی مبینہ گرل فرینڈ کی جانب سے سنگین الزامات عائد کیے جانے کے بعد اب اندراج مقدمہ کےلیے لاہور کی سیشن کورٹ میں بھی درخواست دائر کردی گئی ہے، جس پر عدالت نے ایس ایچ او نصیرآباد سے رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔
تاہم ابھی تک بابراعظم کی طرف سے ان الزامات کے حوالے سے کوئی باقاعدہ جواب نہیں آیا یا جس سے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ الزام لگانے والی خاتون سے یقینا ان کا کوئی تعلق رہا ہے۔ حامزہ مختار نے اب سیشن کورٹ لاہور میں اندراج مقدمہ اور ہراساں کرنے سے روکنے کی درخواست دائر کی ہے۔ درخواستوں میں بابر اعظم سمیت دیگر افراد محمد اعظم، فیصل اعظم، کامل اعظم اور محمد نوید کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سی سی پی او لاہور کو اندارج مقدمہ کی درخواست دی لیکن عملدرآمد نہیں ہوا۔
حامزہ مختار نامی خاتون نے سی سی پی او لاہور کو ایک درخواست میں فریق بناتے ہوئے کہا کہ ملزم بابر نے انہیں شادی کے بہانے 2012 سے مستقل جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس دوران وہ حاملہ بھی ہوئیں اور بعدازاں انہوں نے ملزم کی ایما پر اسقاط حمل بھی کروایا۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر کے اندرا ج کی کوشش کی گئی لیکن پولیس نے اس سلسلے میں کوئی شکایت درج نہ کی۔درخواست میں تھانہ نصیر آباد پولیس کو بابر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ مذکورہ درخواست پر ایڈیشنل سیشن جج نعمان محمد نعیم نے ایس ایچ او نصیر آباد سے رپورٹ طلب کر لی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایس ایچ او بتائیں کہ درخواست گزار نے مقدمے کے اندراج کے لیے رابطہ کیا تھا یا نہیں، اگر کیا تھا تو کارروائی شروع کیوں نہیں کی گئی، مذکورہ معاملے میں مزید کوئی تفتیش کی گئی یا نہیں۔ اس کے علاوہ حامزہ مختار نے ہراساں کرنے کے خلاف بابر اعظم کے اہلخانہ کے خلاف بھی درخواست دائر کی ہے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ بابر اعظم کے اہل خانہ انہیں ہراساں کر رہے ہیں لہٰذا عدالت انہیں ایسا کرنے سے روکنے کا حکم دے۔ ایڈیشنل سیشن جج عابد رضا خان نے پولیس سے ہراساں کرنے کی درخواست پر بھی جواب طلب کرلیا ہے۔ عدالت نے خاتون کو ہراساں کرنے سے روکنے کا حکم دیتے ہوئے ایس پی کمپلینٹ سے 5 دسمبر کو جواب طلب کرلیا۔ یاد رہے کہ مزکورہ خاتون نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر اعظم پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا۔ خاتون نے مؤقف اپنایا تھا کہ 2010 میں بابر اعظم نے انہیں شادی کے لیے پروپوز کیا جسے انہوں نے قبول کر لیا، اس نے کہا کہ ہم شادی کا فیصلہ کرچکے تھے لہٰذا ہم نے اپنے خاندانوں کو آگاہ کیا لیکن دونوں نے صاف انکار کر دیا جس کے بعد بابر اعظم اور میں نے کورٹ میرج کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2011 میں بابر اعظم مجھ سے کورٹ میرج کا وعدہ کر کے مجھے میرے گھر سے بھگا کر لے گیا۔ بعد میں ہم مختلف مقامات پر کرائے کے مکانوں میں قیام پذیر رہے۔ خاتون کا کہنا تھا کہ اصرار کے باوجود بابر اعظم نے ان سے نکاح نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں انہوں نے اپنا سیلون کھولا جس سے وہ بابر اعظم کے اخراجات برداشت کرتی رہیں۔
حامزہ نے دعویٰ کیا کہ 2014 میں جب بابر اعظم کا نام پاکستانی کرکٹ ٹیم میں آیا تو ان کا رویہ آہستہ آہستہ تبدیل ہونا شروع ہوگیا تھا، میں 2016 میں حاملہ ہوگئی تھی جب میں نے بابر اعظم کو بتایا تو ان کا رویہ عجیب ہوگیا، اس نے مجھے مارا پیٹا اور میں ان کے اصرار پر اسقاط حمل پر مجبور ہو گئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بالآخر تنگ آکر 2017 میں، میں نے بابر اعظم کے خلاف پولیس رپورٹ کی۔ پولیس نے بابر اعظم کو پیش کرنے کا کہا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔ بعد ازاں بابر اعظم نے پیش ہو کر ایک پولیس افسر کے سامنے مشروط صلح نامے پر دستخط کیے جس میں شرط یہ طے ہوئی تھی کہ بابر مجھ سے شادی کرلیں گے۔ لیکن بعد ازاں وہ پھر مکر گے۔ انہوں نے کہا کہ دو ہفتے قبل میں نے بابر کے خلاف دوبارہ شکایت درج کروائی، 20 نومبر کو بابراعظم نے بیرون ملک جانے سے قبل مجھے فون کرکے کہا تھا کہ اگر تم پولیس کے پاس گئی یا شادی کا مطالبہ کیا تو تم جان سے جاؤگی۔ حامزہ کا کہنا تھا کہ 10 سال تک حد سے زیادہ زیادتی کا سامنا کرنے کے بعد اب میں انصاف کے لیے سامنے آئی ہوں۔ تاہم بابر اعظم نے ان تمام الزامات کے باوجود ابھی تک چپ سادھ رکھی ہے اور کوئی ردعمل نہیں دیا۔
