ایران پر یوکرین کا طیارہ مار گرانے کا الزام

کینیڈا، امریکا اور برطانیہ کے حکام نے ایران پر یوکرین کا طیارہ تباہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
ذرائع کے مطابق عالمی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسا ہوسکتا ہے کہ خطے میں کشیدگی میں اضافے اور ایران کے عراق امریکی فوجی اڈوں پر راکٹ حملوں کے باعث ایران نے غلطی سے میزائل کے ذریعے طیارہ مار گرایا ہو۔
امریکا کے 4 عہدیداروں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ مسافر طیارے کو غلطی سے خطرہ نہ سمجھ لیا ہو۔حادثے میں کینیڈا کے 63 شہری ہلاک ہوئے تھے جس پر کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اوٹاوا میں کہا کہ ’ ہمارے پاس اتحادیوں سمیت ذاتی انٹیلی جنس ذرائع ہیں، شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ ایران نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے طیارے کو مار گرایا تھا‘۔
دوسری جانب برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن اور آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے بھی ایسے ہی بیانات دیے۔اسکاٹ موریسن نے یہ بھی کہا کہ یہ بظاہر غلطی معلوم ہوتی ہے، ہمیں پیش کی گئی انٹیلی جنس معلومات سے نہیں لگتا کہ ایسا دانستہ طور پر کیا گیا۔
وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ یوکرین کا تباہ ہونے کا ذمہ دار ایران ہے اور انہوں نے طیارے میں تکنیکی مسئلے کے ایرانی دعوے کو بھی مسترد کردیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دوسری جانب سے کوئی غلطی بھی ہوسکتی ہے۔
گزشتہ روز ایران نے حادثے میں تباہ ہونے والے یوکرین کے مسافر طیارے کے حوالے سے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ دوران سفر مسافر طیارے میں آگ بھڑک جانے کے بعد مدد کے لیے ایک ریڈیو کال بھی نہیں کی گئی جبکہ طیارے نے ایئرپورٹ کے لیے واپس جانے کی کوشش کی تھی۔
ایرانی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ تہران کے امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پرواز کے کچھ ہی منٹ کے بعد یوکرین انٹرنیشنل ایئرلائن کے بوئنگ 737 میں اچانک ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی اور وہ گر کر تباہ ہوگیا۔
خیال رہے کہ 10جنوری کو یوکرینی مسافر طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام ایک سو 76 افراد ہلاک ہوگئے۔یوکرینی وزیراعظم نے طیارے میں 176 افراد سوار ہونے کی تصدیق کی تھی جس میں 167 مسافر اور عملے کے 9 اراکین شامل تھے۔یوکرینی وزیر خارجہ نے بتایا تھا کہ طیارے میں 82 ایرانی، 63 کینیڈین، سویڈش 4 افغان، 3 جرمن اور 3 برطانوی شہری جبکہ عملے کے 9 ارکان اور 2 مسافروں سمیت 11 یوکرینی شہری سوار تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button