ایس او پیز کی خلاف ورزی کے باعث کرونا وائرس کی دوسری لہر آئی

وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے کہا ہے کرونا وائرس کی صورتحال قابو میں دیکھ کر حکومت نے کاروباری زندگی معمول پر لانے کی اجازت دے دی تھی لیکن عوام نے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر عملدرآمد سے انکار کیا جس کے باعث بیماری کا پھیلاؤ دوبارہ بڑھ گیا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ملتان میں کیسز کے مثبت آنے کی شرح سب سے بلند ہے اور ملتان میں کووِڈ 19 کے مریضوں کے لیے مختص بستروں میں سے 65 فیصد بستر، جبکہ 68 میں سے 41 وینٹیلیٹرز زیر استعمال ہیں اور صرف 17 وینٹیلیٹرز خالی ہیں۔یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ پنجاب میں اب ان مریضوں کو ہسپتالوں میں داخل کیا جارہا ہے جن کو آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے یعنی جن کی حالت خراب یا شدید خراب ہو۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پنجاب بھر کے ہسپتالوں میں کووِڈ 19 کے 997 مریض داخل ہیں جس میں سے 145 مریض وینٹیلیٹر پر ہیں اس کے علاوہ 475 مریض آکسیجن سپورٹ پر ہیں جبکہ کووِڈ 19 کی تشخیص ہونے کے بعد 16 ہزار 204 مریض قرنطینہ میں ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button