ایس ایس پی مفخر عدیل کے ہاتھوں شہباز تتلہ کے قتل کا انکشاف

ایس ایس پی مفخر عدیل کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرف سامنے آئی ہے. پولیس آفیسر مفخر عدیل اورسابق ڈپٹی اٹارنی جنرل شہبازتتلہ کے زیر حراست مشترکہ دوست اسد بھٹی نے دوران تفتیش دعویٰ کیا ہے کہ سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل شہبازتتلہ کو قتل کردیا گیا ہےاورلاش کے ٹکڑے کرکے تیزاب کے ڈرم میں ڈال کر ثبوت مٹا دئیے گئے ہیں. شہبازتتلہ کے قتل کا ذمہ دار مفخر عدیل ہے.
ایس ایس پی پولیس مفخر عدیل اور شہباز تتلہ کے منظر عام سے غائب ہونے کے بعد اسد بھٹی بھی غائب ہوگئے تھے تاہم 15 فروری کو انہیں بھٹہ چوک کے علاقے سے حراست میں لیا گیا تھا. تاہم اب اس کی طرف سے دعویٰ سامنے آیا ہے کہ مفخر عدیل کے ہاتھوں گمشدہ ڈپٹی اٹارنی شہباز تتلہ قتل ہوچکا ہے، مفخر عدیل نےقتل کے بعد لاش کے ٹکڑے کرکے تیزاب میں جلا دئیے تھے تاہم محلے داروں کی جانب سے گھر سے بو آنے کی شکایت کے بعد ایس ایس پی مفخر عدیل نے واسا کا ٹینکر بلوا کر پورا گھر دھلوا کر قتل کے تمام شواہد ختم کر دئیے تھے ۔ ذرائع کے مطابق اسد بھٹی کے دعوے کے بعد قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی تفتیشی ٹیموں نےجائے وقوعہ کا دوبارہ معائنہ کیا اور وہاں سے ملنے والے ڈرم کا بھی فرانزک کرایاگیا ہے۔ تاہم پولیس اسد بھٹی کے اس دعوے کو تاحال ماننے کو تیار نہیں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فلیٹ سے ملنے والے شواہد قتل کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہیں ۔گرفتارملزم اسدبھٹی نے مفخر عدیل کی آسیہ کے ملازم عرفان سے دوڈرم تیزاب منگوانے کا بھی انکشاف کیا.
ادھر پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایس پی مفخر عدیل بلوچستان کے راستے افغانستان فرار ہونے کی کوشش میں ہے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پنجاب پولیس نے ایس ایس پی مفخر عدیل کو عہدے سے معطل کرکے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سمری وزارت داخلہ کو بھیج دی ہے۔
انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق 11اور12فروری کو ایڈووکیٹ شہبازاحمدتتلہ ایک”م“نامی ایم پی اے کے ساتھ اسی کی گاڑی پر موٹروے کے راستے اسلام آباد سے لاہور پہنچا، موٹروے سے واپسی پر شہباز احمدتتلہ نے ایس ایس پی مفخر عدیل سے موبائل فون پر بات کی کہ وہ انکے آفس کلمہ چوک میں پہنچیں. شہباز احمدتتلہ ایم پی اے کی گاڑی پر ڈرائیور کے ساتھ اپنے آفس کلمہ چوک پہنچ گئے جہاں ایس ایس پی مفخر عدیل بھی پہنچ گئے۔ ایڈووکیٹ شہبازاحمدتتلہ اپنا موبائل فون اور پرس آفس میں چھوڑ کر مفخر عدیل کے ساتھ نکل گئے اور گاڑی میں بیٹھ کر مفخرعدیل سے ”گولی“ دینے کا کہا جس پر دونوں گاڑی میں بیٹھ کر فیصل ٹاؤن میں لئے کرائے کے گھر پہنچ گئے۔ مفخرعدیل نے لاپتہ ہونے سے قبل اپنے ایک اور دوست کو میسج کیا کہ وہ ایک مشن پر جا رہا ہے جس کی تفصیل وہ کسی کو نہیں بتا سکتا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مفخر عدیل اور شہباز تتلہ اسلام آباد اور لاہور میں مختلف ”پارٹیاں“ کثرت سے اکٹھے اٹینڈ کرتے تھے۔ فیصل ٹائون گھر میں دونوں نے اکٹھے آخری پارٹی اٹینڈ کی جہاں منشیات کی مقدار کثرت سے استعمال کرنے کے بعد افسوسناک واقعہ رونما ہوگیا ،پولیس کی جانب سے دونوں کے موبائل فونز کی کال ہسٹری بھی حاصل کر لی گئی ہے مگر کوئی کامیابی نہیں مل سکی جبکہ متعدد افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کئے گئے ہیں جبکہ حساس ادارے کی ٹیمیں بھی دونوں کا سراغ لگانے میں مصروف عمل ہیں‘‘۔
ذرائع کے مطابق پولیس نے اس کیس میں کئی فارم ہاؤسز اور پارٹیاں کرنیوالوں کو بھی حراست میں لے رکھا ہے، اس کیس میں جو بھی واردات رونما ہوئی ہے وہ فیصل ٹاون والے کرائے کے مکان میں ہوئی لیکن پولیس نے حراست میں ایسے افراد کو بھی لے رکھا ہےجن کا صرف ایس ایس پی مفخر عدیل اور شہباز تتلہ سمیت ان کے دیگر دوستوں کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ تھا اور بعض کو دونوں افراد سے ملے کافی عرصہ ہو چکا ہے لیکن پولیس ان کو حراست میں لئے ہوئے ہے ۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اسد بھٹی نے دوران تفتیش فیصل ٹاون والے گھر میں ہونیوالی پارٹی کے متعلق تمام حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ جو بھی واردات رونما ہوئی ہے اس میں وہ بے قصور ہے۔ ایس ایس پی مفخر عدیل کی پُراسرار گمشدگی کی تحقیقات میں پولیس کو ان کے قریبی دوست اسد بھٹی کے موبائل فون سے اہم تفصیلات بھی ملی ہیں۔ پولیس نے مفخر عدیل کیس کی تفتیش اغواء سے قتل کے زاویوں پر شروع کر دی ہے۔ اسد بھٹی کی نشاندہی پر پارٹی گرلز اور منشیات فروشوں کے موبائل فون ٹریک بھی کیے گئے۔شہباز تتلہ کے آفس کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایس ایس پی کے ساتھ دفتر سے گئے۔ مفخر عدیل کو سامنے لانے کے لئے سی آئی اے کی ٹیمیں پنجاب سمیت بلوچستان میں چھاپے مار رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق پولیس کو اسد بھٹی سے دیگر معلومات بھی ملی ہیں جن پر تحقیقات کو آگے بڑھایا جارہا ہے
ایس ایس پی مفخرعدیل کے فرارکی کہانی میں ایک نیاموڑ بھی سامنے آیا ہے.ایس ایس پی مفخرعدیل کی تیسری بیوی بھی منظرِعام پرآگئی ہے. ایس ایس پی مفخرعدیل کی پہلی اہلیہ نارووال میں رہائش پذیرتھی. دوسری بیوی آسیہ سے شادی کی وجہ سے تیسری بیوی عیزہ سے بھی ناراضگی تھی.ذرائع کے مطابق عیزہ ہی ایس ایس پی مفخر عدیل کاساراخرچ بھی برداشت کرتی تھی. عیزہ کے ہاں بچے کی پیدائش کے بعد مفخر عدیل نے عیزہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنا لیے تھے جبکہ عاسیہ کو مفخر پچیس ہزار روپے ماہانہ خرچ دیتا تھا۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایس ایس پی مفخرعدیل بدھو ملہی کا ماچھی تھا۔ وہاں سے لڑکی بھگا کر لاہور لایا تھا۔ تتلہ اس کا دوست تھا۔ اس نے مفخرکو پڑھایا اور سی ایس ایس کرایا۔ عدیل کی دوسری بیوی ایک ڈانسر تھی جس سے تتلہ کے مبینہ طور پر تعلقات تھے۔ جس کا مفخر عدیل کو شدید رنج تھا اور اس سے بارہا شہباز تتلہ کو منع کر چکا تھا کہ وہ باز آ جائے لیکن شہباز تتلہ اس سے تعلقات استوار کئے ہوئے تھا.
