ایف اے ٹی ایف کا قانون آخر ہے کیا؟

پارلیمنٹ نے بدھ کو دو آخری بلز کی منظوری کے بعد ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی کا عمل مکمل کرلیا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ چند ماہ کے دروان قومی اسمبلی اور سینیٹ سے درجن بھر قوانین منظور کیے گئے تاکہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچایا جا سکے اور ملک کے گرے لسٹ سے بھی نکلنے کی راہ ہموار ہو سکے۔
تاہم اس تمام قانون سازی سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی سرمایہ کاری کی روک تھام کے بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط تو پوری ہوں گی مگر عام پاکستانی کی زندگی بھی کسی نہ کسی حد تک متاثر ہوگی حتی کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر بھی کچھ نئے قواعد لاگو ہوں گے۔
نئے قواعد کا بنیادی مقصد دہشت گردوں کی مالی مدد اور منی لانڈرنگ کی روک تھام ہے چنانچہ اس کی زد میں مالیاتی امور سے متعلق طبقات زیادہ آئے ہیں اور کاروباری افراد کے حوالے سے دستاویزات کی شرائط بہت بڑھا دی گئی ہیں۔ تمام بینکوں اور مالیاتی اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ اکاونٹ رکھنے والے ہر فرد کی مکمل چھان بین کریں ۔ فنانشنل سیکٹرمیں ’اپنے کسٹمر کو پہچانیں‘ اور ’کسٹمر ڈیو ڈیلی جنس‘ کا تصور آگیا ہے۔ اگر کوئی کاروباری فرد روپے کی کوئی بڑی ترسیل یا وصولی کرتا ہے تو اس پر بینک اس سے ذریعہ آمدن پوچھیں گے اور معمول سے زائد ہر ٹرانزیکشن پر نظر رکھی جائے گی۔
بدھ کو منظور ہونے والے انسداد منی لانڈرنگ بل کے تحت منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کو دس سال تک قید اور ڈھائی کروڑ جرمانہ ہوسکے گا۔ اس بل کے تحت وزیر خزانہ کی نگرانی میں ایک طاقتور نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی قائم کی جارہی ہے جو کہ ان قوانین پر موثر عملدرآمد یقینی بنائے گی اور اس حوالے سے قواعد و ضوابط متعین کرے گی۔ اس قانون کے تحت تمام بینکوں کو پابند کیا گیا ہے کہ ایک مقررہ حد سے زائد مشکوک رقم کی ٹرانسفر پر فورا فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کو اطلاع فراہم کریں۔ اس سلسلے میں ایف ایم یو کو ایسی کمپیوٹر ٹیکنالوجی بھی فراہم کی جائے گی جس سے مشکوک ٹرانزیکشن کو فوری ڈھونڈا جا سکے۔ اسی طرح دیگر ممالک کے فنانشل انٹیلی جنس یونٹس سے معلومات کاتبادلہ بھی کیا جائے گا تاکہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کےلیے رقوم جمع کرنے کا پتا لگایا جاسکے۔ اس طرح اس قانون کے تحت ہر بینک اور مالیاتی ادارہ اپنے صارف کے ذرائع آمدن اور اس کے کاروباری شراکت داروں کی معلومات مختلف ذرائع سے حاصل کرے گا اور ہر اکاونٹ کے حقیقی مالک کا پتا رکھے گا جس سے بے نامی اکاونٹس کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ اسی طرح کسی بھی اکاونٹس سے معمول سے زیادہ رقم کی آمدورفت یا دہشت گردی کےلیے رقم کے استعمال ہونے کے خدشے پر نظر رکھے گا۔ اور کسٹمر ڈیو ڈیلی جنس کے ذریعہ پتا لگائے گا اور ایسا ممکن نہ ہونے کی صورت میں مشکوک ٹرانزیکشن کی رپورٹ بنائے گا اور ہر اکاونٹ کا پانچ سال کا ریکارڈ محفوظ رکھے گا۔
معاشی امور کے سینئر صحافی مہتاب حیدر کے مطابق نئے قواعد پاکستانی کی معیشت کےلیے اچھی خبر ہے اس سے حکومت کو معلوم ہوگا کہ کس کے پاس قانونی پیسے ہیں اور کس کے پاس غیر قانونی۔ اسی طرح ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھے گی اور ٹیکس چوری کی حوصلہ شکنی ہو گی مگر ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس قانون کا غلط استعمال نہ کیا جا سکے اور اسے سیاسی مخالفین کےلیے استعمال نہ کیا جائے۔ ایف اے ٹی ایف مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے ایک رکن نے بتایا کہ نئے قواعد میں زیادہ تر پیسے کی ترسیل کو شفاف بنانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ مکمل طور پر معلوم ہو سکے کہ سرمایہ کہاں سے آ رہا ہے اور کس مقصد کےلیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں رقم کی ترسیل بینکوں اور قانونی چینلز کے ذریعے ہی کریں اور حوالہ اور ہنڈی کی حوصلہ شکنی ہو۔ مہتاب حیدر نے بتایا کہ نئے قوانین میں پاکستان پیسے آنے کے حوالے سے شرائط اتنی سخت نہیں جتنی پاکستان سے پیسے باہر بجھوانے کےلیے ہیں کیوں کہ اس صورت میں آپ کو کیش لے جانے پر ڈکلیئر کرنا ہوگا جب کہ بینکوں سے پیسے بھیجنے کی صورت میں دستاویزات پیش کرنا ہوں گی۔ مثلاً میرا بھائی مجھے ہر سال پاکستان پانچ ہزار ڈالر بھیجتا ہے مگر اچانک وہ ایک لاکھ ڈالر بھیج دے تو پھر مشکوک ٹرانزیکشن کی رپورٹ بن جائے گی جو کہ ایف ایم یو کو بھیجی جائے گی جہاں سے یہ ایف آئی اے، ایف بی آر اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اور انسداد دہشت گردی پر کام کرنے والے اداروں سے شئیر کر دی جائے گی تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ پیسے کسی غیر قانونی مقصد میں استعمال نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکوک ٹرانزکشن کےلیے پیسوں کی حد مختلف حالات میں مختلف ہوتی ہے گویا کسی قسم کی غیر معمولی معاشی سرگرمی پر مشکوک ٹرانزیکشن کی رپورٹ بن جائے گی۔
بیرون ملک پاکستانیوں سے متعلقہ نئے قوانین میں ایک باہمی قانونی اشتراک (برائے فوجدرای امور) کا بل 2020 بھی ہے۔ اس قانون کے تحت پاکستان کی حکومت ملک میں ہونے والے کسی بھی جرم کی صورت میں بیرون ملک سے قانونی دستایزات، مدد وغیرہ حاصل کرسکتی ہے اور اسی طرح دیگر ممالک کو اسی طرح کی قانونی مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس بل کا مقصد جرائم کے خاتمے کےلیے بین الاقوامی اشتراک اور جرائم کرکے دوسرے ملک بھاگ جانے والوں کا تدارک ہے۔ پاکستان میں دیگر ممالک کو عدالت کی اجازت سے شواہد اکھٹے کرنے اور تفتیشن کرنے کی اجازت بھی دی جائے گی۔ اسی طرح دیگر ممالک کی درخواست پر کسی جرم میں ملوث شخص کی پاکستان میں جائیداد وغیرہ کو ضبط بھی کیا جا سکے گا تاہم اس کےلیے پاکستانی عدالت کی منظوری ضروری ہوگی۔ اسی طرح نئے قواعد میں فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 2020 بھی شامل ہے جو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کےلیے اہم ہے کیوں کہ اس کے ذریعے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ بیرون ملک سے آںے والی غیر ملکی کرنسی کے حوالے سے قواعد بنا سکے اور ہدایات جاری کر سکے۔ اس کے علاوہ اس قانون کی خلاف ورزی پر سزائیں سخت کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اسی قانون کی وجہ سے بعض اوقات بیرون ملک سے موصول ہونے والی رقم بینک روک لیتے ہیں اور وصول کنندہ سے اس حوالے سے پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ نئے قواعد میں ایک ’کمپنیز ایکٹ 2017 میں ترمیم کا بل‘ بھی شامل ہے جس کے تحت یقینی بنایا گیا ہے کہ کمپنیوں کے مالکان کی اصلیت واضح ہو اور بے نامی کمپنیاں بنا کر خفیہ طریقے سے کاروبار نہ کیا جا سکے۔ اس قانون کے تحت سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) میں رجسٹرڈ کوئی بھی کاروباری کمپنی ملکیتی یا بئیرر حصص کسی دوسرے شخص کو فروخت نہیں کر سکے گی کہ خفیہ طریقے سے کمپنی دوسرے ہاتھ میں چلی جائے۔ ایس ای سی پی کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ اس قانون مطابق ایسا کرنے کا مقصد کمپنی کی ملکیت خفیہ رکھنے سے روکنا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت بیئرر شیئرز رکھنے والے تمام موجودہ مالکان بھی متاثر ہوں گے کیوں کہ ایسے شیئرز اب منسوخ تصور ہوں گے۔ اس ترمیمی بل کے تحت کمپنیوں کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اپنے تازہ ترین حقیقی مالک یا بینیفشل اونر کا ریکارڈ فراہم کرے گی جو کہ کمپنی کے نفع نقصان کا اصل مالک ہوگا۔ اس کا مقصد بے نامی کمپنیاں رکھنے کی پریکٹس کو روکنا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے گزشتہ اجلاسوں میں اس حوالے سے قانونی نقائص کی نشاندہی کی گئی تھی۔
نئے قواعد میں شامل ’اسلام آباد وقف املاک بل 2020‘ کے مطابق وفاق کے زیر انتظام علاقوں میں مساجد، امام بارگاہوں کےلیے وقف زمین چیف کمشنر کے پاس رجسٹرڈ ہوگی اور اس کا انتظام و انصرام حکومتی نگرانی میں چلے گا۔ بل کے مطابق حکومت کو وقف املاک پر قائم تعمیرات کی منی ٹریل معلوم کرنے اور آڈٹ کا اختیار ہوگا، وقف کی زمینوں پر قائم تمام مساجد، امام بارگاہیں، مدارس وغیرہ وفاق کے کنڑول میں آ جائیں گی، وقف املاک پر قائم عمارت کے منتظم منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے تو حکومت ان کا انتظام سنبھال سکے گی۔ بل کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ اور 5 سال تک سزا ہو سکے گی، حکومت چیف کمشنر کے ذریعے وقف املاک کےلیے منتظم اعلیٰ تعینات کرےگی، منتظم اعلٰی کسی خطاب، خطبے یا لیکچر کو روکنے کی ہدایات دے سکتا ہے، منتظم اعلٰی قومی خود مختاری اور وحدانیت کو نقصان پہچانے والے کسی معاملے کو بھی روک سکے گا۔
نئے قوانین میں انسداد دہشت گردی ترمیمی ایکٹ 2020 بھی شامل ہے۔ اس بل کے تحت دہشت گردی میں ملوث یا کالعدم تنظیم کا کوئی رکن کسی بینک کا اکاونٹ نہیں کھول سکتا یا کوئی کریڈٹ کارڈ حاصل نہیں کر سکتا۔ نئے قوانین کے تحت مشتبہ دہشت گردوں کی فہرست شیڈول 4 میں شامل افراد کے اسلحہ لائسنس منسوخ ہوں گے اور ایسے افراد کو کوئی شخص یا ادارہ قرض نہیں دے گا، اس شخص نے مشتبہ دہشت گرد کو قرض دیا اس پر ڈھائی کروڑ جب کہ ادارے کو 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔ انسداد دہشت گری ایکٹ کے تحت کسی شخص یا گروپ کو دہشت گردی مقاصد کےلیے بیرون ملک بھیجنے میں مدد یا مالی معاونت دینے والوں کو بھی اسی طرح جرمانے ہوں گے۔ کسی بھی کالعدم تنظیم یا اس کے نمائندے کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد فوری منجمد کی جائے گی۔
انسداد دہشت گردی ایکٹ1997میں مزید ترمیم کرنے کے بل کے تحت تفتیشی طریقہ کار میں نئی تکنیکس استعمال کرنے کی شق شامل کی گئی ہے تفتیشی افسر عدالت کی اجازت سے 60 دن میں بعض تکنیکس استعمال کر کے دہشت گردی میں رقوم کی فراہمی کا سراغ لگائے گا۔ ان تکنیکس میں خفیہ آپریشنز، مواصلات کا سراغ لگانا، کمپیوٹر سسٹم کا جائزہ لینا شامل ہے، عدالت کو تحریری درخواست دے کر مزید 60 دن کی توسیع حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس بل کو متعارف کرانے کا اصل مقصد مذکورہ دفعہ کی شمولیت کے ذریعے قانون نافذکرنے والے اداروں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ عدالتوں کی بااختیار معاونت سے بعص انسدادی تکنیکوں کو اپنا کر ان جرائم کا قلع قمع کر سکیں۔ بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج اور شور شرابا کیا گیا، مگر بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
