بجلی چوروں کیخلاف آپریشن کیلئے ایف آئی اے کی ٹیمیں تشکیل

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر بجلی چوروں کیخلاف آپریشن کیلئے ایف آئی اے کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دیدی گئیں۔
سرکاری تخمینوں کے مطابق پاکستان میں سالانہ 589 ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے اور بجلی فراہم کرنے والی 10 تقسیم کار کمپنیوں میں سے بیش تر اس چوری کے باعث خسارے کا دعوٰی کرتی ہیں۔بجلی چوروں کو گرفتار کر کے اُن کے خلاف مقدمات کا اندراج بھی کیا جانے لگا۔
ایف آئی اے کی ٹیمیں ملک بھر میں وزارت توانائی اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نشاندھی پر بجلی چوروں کے خلاف کاروائیاں کریں گی۔وزیر داخلہ کی ہدایات کے بعد بجلی چوروں کے خلاف باقاعدہ کاروائیوں کا آغاز بھی ہو چکا ہے
ترجمان کا بتانا تھا کہ ایف آئی اے کی مخلتف زونز کی ٹیمیں اپنے علاقوں کے ڈسکوز افسران کے ہمراہ بجلی چوری روکنے کے لیے مصروف عمل ہیں۔ڈسکوز کا عملہ بجلی چوری میں ملوث افراد کا کنیکشن منقطع کر رہا ہے جبکہ بجلی چوروں کے کو گرفتار کر کے اُنکے خلاف 489 کے تحت مقدمات کا اندراج بھی کیا جا رہا ہے
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق بجلی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف ایف آئی اے نے ایک ہی دن میں 11 مقامات پر چھاپہ مار کاروائیاں کی گی
چھاپوں کے نتیجے میں 7 مقدمات اور 4 انکوائریاں درج کر لی گئی،ملزمان کو کوہاٹ، ڈی آئی خان اور بنوں کی مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیاملزمان ڈائریکٹ لائن اور میٹر کی ٹمپرنگ سے بجلی چوری کر رہے تھے
