عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ نفرت کے سوداگر کیوں قرار پائے؟

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان میں ایک بڑی مماثلت یہ پائی جاتی یے کہ دونوں کو انکے طرز سیاست کی وجہ سے انکے سیاسی مخالفین نفرت کے سوداگر قرار دیتے ہیں۔ لہازا معروف لکھاری اور سیاسی تجزیہ کار حماد غزنوی کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے عوام کو ان نفرت کے سوداگروں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حماد غزنوی لکھتے ہیں کہ پچھلے ہفتے امریکی ریاست اوہائیو میں تقریر کرتے ہوئے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرمایا کہ امریکا آنے والے بہت سے تارکینِ وطن ’’انسان‘‘ نہیں ہوتے، پھر اپنے سابق دوست عمران خان کی طرح موصوف نے اپنے قولِ زریں کی مزید وضاحت کرتے ہوئے تارکین وطن کو ’’جانور‘‘ قرار دے دیا، انہوں نے بنا ثبوت یہ بھی کہا کہ ایک گہری سازش کے تحت کچھ ممالک اپنی جیلوں سے نوجوان قیدیوں کو رہا کر کے امریکا بھیج رہے ہیں جو ہمارے شہریوں کیلئے سنگین خطرے کا باعث ہیں۔ٹرمپ کا یہ ایک بیان نفرت کی سیاست کی کامل تفہیم کیلئے کافی ہے۔ ماضی میں عمران خان بھی بطور وزیراعظم ایسی ہی بہتان تراشی کیا کرتے تھے جس کا نتیجہ انہیں اڈیالہ جیل کی قید کی صورت میں بھگتنا پڑا۔

حماد غزنوی کے مطابق نفرت کی سیاست کا مسلمہ اصول ہے کہ سب سے پہلے اپنے مخالف کو انسانیت کے منصب سے معزول کر دیا جائے، یعنی ایک مذہبی یا غیر مذہبی گروہ، قبیلے یا قوم کی تذلیل کر کے یہ ثابت کیا جائے کہ یہ ہماری طرح انسان نہیں ہیں، یہ انسانوں جیسے جذبات و احساسات و خیالات بھی نہیں رکھتے، یہ کوئی اور مخلوق ہے، جس کے ڈی این اے میں شر گندھا ہوا ہے، اور یہ وحشی ہمارے بدترین دشمن ہیں جو ہمیں کرہ ارض سے مٹا دینا چاہتے ہیں، لہٰذا اس سے پہلے کہ اس شیطانی گروہ کی سازش کام یاب ہو، ہمیں انہیں بے رحمی سے پامال کر دینا چاہیے۔ یہ فلسفہ اپنے پیروکاروں کو اس اخلاقی زنجیر سے آزاد کر دیتا ہے جو انسانوں کو انسانوں سے نفرت اور ظلم کرنے سے روکتی ہے۔یوں ضمیرکی چبھن سے آزادی حاصل کرنے کے بعد ظلم ظلم نہیں رہتا، انصاف کا تقاضا بن جاتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کسی بھی گروہ کے خلاف اجتماعی انسانی جرائم کرنے والے ابلیسیت پر مبنی اسی شیطانی پروپیگنڈے کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ یہ جو یورپ میں لاکھوں عورتیں ’’جادوگرنیاں‘‘ قرار دے کر جلا دی جاتی تھیں یا لاکھوں حبشی غلام بنا کر باڑوں میں باندھ دیے جاتے تھے، یہ سب ایسے ہی نہیں ہو جاتا تھا۔ پہلے مرحلے میں انہیں تذلیل کر کے جانور ثابت کیا جاتا تھا، پھر ان پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے جاتے تھے۔ اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں 1883 اور1941 کے درمیان پونے پانچ ہزار افراد کو عوامی مقامات پر پھانسی دی گئی، ان میں شاید ہی کوئی سفید فام تھا، ان پھانسیوں کی پروفیشنل فوٹوگرافی بھی کی جاتی، اور پھر ان تصویروں سے پوسٹ کارڈ بنائے جاتے جو اس زمانے میں سفید فام آبادی والے علاقوں میں بہت مقبول ہوا کرتے تھا۔ پھانسی والے دن مقامی تعطیل ہوتی، اسکول کے بچوں کو بالخصوص دعوتِ نظارہ دی جاتی، اور پھانسی کا تماشا بھی گھنٹوں پر محیط ہوتا، سیاہ فام مجرموں پر پہلے تشدد کیا جاتا اور طرح طرح کی ایذائیں دی جاتیں، کبھی انہیں ایک آدھ گولی مار دی جاتی، آگ لگا دی جاتی، یا گاڑی کے پیچھے باندھ کر گھسیٹا جاتا۔ اگلے دن اخبارات پھانسی پانے والے کو مونسٹر قراردیتے۔ یعنی معاشرے کے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں تھا کیوں کہ کالے ’’انسان‘‘ تھوڑی تھے۔

حماد غزنوی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلاتے ہیں کہ ہٹلر نے ہالو کاسٹ میں لاکھوں یہودیوں کو ہلاک کرنے سے پہلے انہیں انسانیت کے سنگھاسن سے بے دخل کیا تھا، ہٹلر یہودیوں کو چوہا، جونک، کاکروچ، گدھ اور لومڑی جیسے القابات سے نوازتا ہی رہا کرتا تھا۔ یہی شیطانی عمل مسلمانوں کے خلاف آج بھی جاری ہے، فلسطین سے برما تک اور ہندوستان سے ہنگری تک۔ حماد کہتے ہیں کہ یہ جو ہم پاپولزم سے گھبراتے ہیں تو اس کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ پاپولسٹ راہ نما اپنی سیاست کی بنیاد نفرت کے اصول پر رکھتے ہیں، دوسری سیاسی جماعتوں کے قائدین اورانکے پیروکاروں کو منصبِ انسانیت سے معزول کرتے ہیں، خود کو رحمانی اور مخالف کو شیطانی ایجنٹ قرار دیتے ہیں۔ پاپولسٹ راہ نما کے پیروکار اگر اپنے کسی سیاسی مخالف کے لیے انسانی ہمدردی کے جذبات محسوس کریں تو پاپولسٹ لیڈر اسے اپنی ناکامی سمجھتا ہے۔ پاکستانی سیاست سے صرف ایک مثال دیکھیے۔ جب بیگم کلثوم نواز کینسر کے مرض میں مبتلا ہو کر ہسپتال داخل ہوئیں تو نواز شریف کے سیاسی مخالفین کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ پاکستانی قوم کہیں اپنی تہذیبی روایات کے تحت ان سے ہمدردی کے جذبات نہ محسوس کرنے لگے، سو کلثوم نواز کوکینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کی کامیاب اداکاری کرنے پر آسکر ایوارڈ دینے کے مشورے دیے جانے لگے، کہا گیا کہ وہ جس ہسپتال میں داخل ہیں وہ تو کینسر ہاسپٹل ہی نہیں ہے، ان کے ڈیتھ بیڈ پر ان کی تصویریں اتارنے کے لیے جنونی ہسپتال میں گھس گئے، اور جب وہ وفات پا گئیں تب بھی انہیں معاف نہیں کیا گیا، ہم نے بانی کے حامی ٹوئٹر اکائونٹس پر اس طرح کے ’تعزیتی‘ جملے پڑھے کہ ’’ اس قوم کے اربوں روپے کرپشن سے لوٹ کر اس بڑھیا کے علاج پر ضائع کر دیے گئے۔‘‘

بقول حماد غزنوی، اسے کہتے ہیں نفرت کا بیوپار، اور اس کاروبار کی پہلی شرط اپنے مخالف کو انسانوں کی فہرست سے نکال کر موذی جانوروں کے باب میں داخل کرنا ہے جو کسی بھی حال میں آپ کی ہم دردی کا مستحق نہیں ہو سکتا۔کسی سانپ کا سر کچلنے پر تو ہماری آنکھیں اشک بار نہیں ہوتیں، کوئی چھپکلی مارنے کے بعد ہم المیہ گیت تو نہیں سنتے، کوئی چوہا کڑکی میں پھنس کر جان کی بازی ہار جائے تو کیا ہم سوگوار ہوتے ہیں؟

حماد غزنوی یاد دلاتے ہیں کہ پچھلے ہفتے پی ٹی آئی کی ایک سابق ایم این اے ملیکہ بخاری نے ٹوئٹ کیا کہ ان کی بہن آسٹریلیا میں شدید بیمار ہیں، وینٹی لیٹر پر ہیں، جب کہ ان کا نام نو فلائی لسٹ پر ہے، انہوں نے درخواست کی کہ انہیں خصوصی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنی جاں بہ لب بہن سے ملنے جا سکیں۔ مریم نواز نے ملیکہ کی ٹوئٹ کے نیچے ان کی بہن کی صحت یابی کیلئے دعا کی اور مدد کا وعدہ کیا، اگلے دن ملیکہ کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت مل گئی۔یہی ہونا چاہیے تھا، یہی بنیادی انسانی ہمدردی کا تقاضا تھا۔ یاد رکھیئے کہ اندھیرا اندھیرے سے ختم نہیں ہوتا، روشنی سے ختم ہوتا ہے۔ عمران، ٹرمپ اور ان جیسے نفرت کے سوداگروں سے….مشتری ہوشیار باش!

Back to top button