بختاور بھٹو کے منگنی فنکشن کی جعلی ویڈیوز پر تنقید


سابق صدر آصف علی زرداری کی بیٹی بختاور بھٹو زرداری کی منگنی سے قبل کسی اور کے فنکشن کی ویڈیوز کو پبلک ٹی وی کے ایک پروگرام میں بختاور کے فنکشن کی ویڈیوز قرار دے کر جلائے جانے پر اسلام آباد کے دو صحافی سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔
عامر متین اور رؤف کلاسرا نے پبلک ٹی وی پر اپنے پروگرام میں جعلی ویڈیوز نہ صرف نشر کر دیں بلکہ پیپلز پارٹی قیادت کو بھی کرونا کے دنوں میں ایسا مہنگا فنکشن کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالا ۔ منگنی سے قبل ہی منگنی کی جھوٹی ویڈیوز وائرل کیے جانے پر بختاور بھٹو زرداری نے اظہار برہمی کرتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں واضح کیا کہ ان ویڈیوز کا ان سے کوئی لینا دینا نہیں اور اس حوالے سے تمام الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔
بختاور بھٹو زرداری نے 25 نومبر کو اپنی ایک ٹوئٹ میں انیس جیلانی نامی ٹوئٹر صارف کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیو کی ٹوئٹ کا لنک شیئر کرتے ہوئے ویڈیو کو جھوٹا قرار دیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سوشل میڈیا کے علاوہ مین سٹریم میڈیا بھی ان ویڈیوز کو ان سے منسوب کر کے چلا رہا ہے جو کہ افسوس کی بات ہے۔سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی صاحبزادی نے اپنے مختصر پیغام میں جعلی وڈیوز پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ اگر کسی شخص کو پڑھنا نہیں آتا تو وہ کم از کم مذکورہ ویڈیو میں ان کی اور ان کے اہل خانہ کی غیر موجودگی پر تو غور کرے۔ بختاور بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کی منگنی کے کارڈ پر منگنی کی تقریب کی تاریخ واضح طور پر 27 نومبر لکھی ہوئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بہن نے واضح کیا کہ مذکورہ جعلی ویڈیو سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
بختاور بھٹو زرداری کی ٹوئٹ پر بعد ازاں انیس جیلانی نامی وکیل و لکھاری نے بھی معذرت کی اور بتایا کہ انہوں نے مذکورہ جعلی ویڈیو ڈیلیٹ کردی ہے۔ انیس جیلانی نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے بختاور بھٹو زرداری سے معافی مانگی اوران کی منگنی اور نئی زندگی پر نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔ جبکہ دوسری طرف عامر متین اور رؤف کلاسرہ نے بلاول ہاؤس میں بی بی بختاور بھٹو زرداری کی شادی کی تقریب سے منسوب کرکے ایک جعلی ویڈیو چلادی اور اس پر جی بھر کر تبصرے بھی کیے جبکہ ویڈیو کے جعلی ہونے کی تصدیق ہونے کے باوجود نہ ہی اس پر معذرت کی گئی یے اور نہ ہی اس پر کسی پشیمانی کا اظہار کیا ہے۔
ایک سوشل میڈیا صارف نے اس غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر ان دونوں صحافیوں کے حوالے سے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اب کوئی ان کو کیسے سمجھائے کہ “ان” کے نمبر سے واٹس ایپ پر موصول ہونے والی ہر اپ ڈیٹ کو یونہی نشر نہیں کردیتے بلکہ اس کی تصدیق کر کے ہی کوئی خبر نشر کی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ 15 نومبر کو سابق صدر آصف علی زرداری نے تصدیق کی تھی کہ ان کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری کی منگنی 27 نومبر کو ہوگی۔بختاور بھٹو زرداری کی منگنی صنعت کار محمد یونس چوہدری کے بیٹے محمود چوہدری سے بلاول ہاؤس میں ہوگی اور اس ضمن میں انتظامات کو مکمل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
بختاور بھٹو کی شادی سے متعلق خبریں ہیں کہ ان کی شادی آئندہ سال 27 جنوری کو ہوگی۔بختاور بھٹو زرداری کی منگنی کے سامنے آنے والے کارڈز کی طرح ان کی شادی کے کارڈز بھی سامنے آچکے ہیں، جن میں ان کی شادی کی تاریخ 27 جنوری 2021 درج ہے۔ ممکنہ طور پر مذکورہ تاریخ کو بختاور بھٹو زرداری کی سالگرہ کے حوالے سے منتخب کیا گیا ہے، کیوںکہ وہ جنوری 1990 میں اس وقت پیدا ہوئی تھیں جب ان کی والدہ بطور وزیر اعظم خدمات سر انجام دے رہی تھیں۔ بختاور بھٹو کے بھائی بلاول بھٹو کی پیدائش 1988 میں ہوئی تھی جب کہ آصفہ بھٹو زرداری کی پیدائش فروری 1993 میں ہوئی تھی۔ ان کے والدین نے نومبر 1989 میں نکاح کیا تھا اور ان کی شادی کی تقریبات پاکستان کی اس وقت کی بڑی تقریبات میں سے ایک تھیں۔ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی شادی کی تقریبات مختلف مقامات پر منعقد ہوئی تھیں، اگرچہ ان کے نکاح کی تقریب سادگی سے منعقد کی گئی تھی، تاہم ان کے غیر ملکی مہمانوں کے لیے کراچی کے علاقے کلفٹن میں پرتعیش تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو کی شادی کی عوامی تقریبات کراچی کے علاقے لیاری کے ککری گراؤنڈ میں بھی منعقد کی گئی تھیں، جہاں اندازے کے مطابق 2 لاکھ افراد نے شرکت کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button