براڈ شیٹ کے مالک سے کک بیک مانگنے والا فوجی جنرل کون تھا؟

ماضی میں حکومت پاکستان جس غیر ملکی اثاثہ ریکوری فرم کو نواز شریف کے خلاف استعمال کر رہی تھی اب اسی کے مالک کاوی موساوی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف کے مبینہ دس ارب روپے کے خفیہ اثاثوں کا سراغ لگانے کا معاہدہ اسے دیے جانے کے عوض ایک میجر جنرل نے اس سے کمیشن کا مطالبہ کیا تھا لیکن میں نے معاہدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ موسوی نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ان سے اس حوالے سے لندن میں جس میجر جنرل نے ملاقاتیں کی تھیں اس کا آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید سے پاکستان میں مسلسل رابطے کا دعوی تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا یے کہ براڈ شیٹ کے ایک نمائندے نے اسی کیس کے سلسلے میں پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان، مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر اور وفاقی وزیر اسد عمر سے بھی ملاقات کی تھی جس کے بعد براڈ شیٹ کے نمائندوں کی پاکستان میں جنرل فیض حمید اور دیگر اعلی حکام سے ملاقاتوں کا بندوبست کیا گیا تھا۔
لندن میں مقیم سینئر صحافی مرتضیٰ علی شاہ اب لندن ہائی کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے ایسی دستاویز سامنے لائے ہیں جن میں پاکستان کے اعلیٰ ترین حکومتی و ریاستی عہدیداروں کے ساتھ براڈ شیٹ کے مالک موساوی اور وکلا کے ٹیکسٹ میسجز کی تفصیل درج ہے۔ ساتھ ہی مرتضی علی شاہ نے موساوی کا یہ دعویٰ دہرایا ہے کہ نواز شریف کے مبینہ دس ارب کے اثاثوں کا سراغ لگانے کا معاہدہ براڈشیٹ کے ساتھ کیے جانے کے عوض اس سے ایک جرنیل نے کمیشن کی ڈیمانڈ کی تھی۔ براڈ شیٹ کے مالک موساوی کا کہنا ہے کہ اس نے کوشش کی کہ اثاثہ ریکوری کے حوالے سے حکومت پاکستان کے ساتھ ایک ڈیل کی جائے۔ اس ڈیل کے لیے انہوں نے لندن سے تعلق رکھنے والے ظفر کیو سی نامی وکیل کو ایسا معاہدہ کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا جنکا دعوی تھا کہ وہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر ان سے ملنے آئے ہیں اور یہ کہ ان کو شبہ ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ایک سنگاپور کے بینک میں 10 ارب ڈالر موجود ہیں، انکے مطابق عمران خان چاہتے تھے کہ یہ رقم کسی طرح پکڑی جائے اور ملک واپس لائی جائے۔
اس حوالے سے مرتضی علی شاہ کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے لندن میں ظفر کیو سی سے رابطہ کیا تو انہوں نے تصدیق کی ہے کہ وہ پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان، شہزاد اکبر اور اسد عمر سے ملے تھے۔ تاہم حکومتی موقف کے مطابق ان ملاقاتوں کے بعد حکومت نے بہتر سمجھا کہ وہ ریاست سے ریاست کی بنیاد پر رابطہ کرے بجائے کہ پرائیویٹ طور پر ریکوری کی کوشش کرے۔ مرتضی علی شاہ کے پاس وہ دستاویزات اور ٹیکسٹ میسجز موجود ہیں جن سے ظفر علی کیو سی کی وزیر اعظم اور اعلی حکام سے ملاقاتوں کا پتہ چلتا ہے۔ ان میں ان ٹیسکٹ میسجز کی تفصیل بھی موجود ہے جو کہ ظفر کیو سی نے موساوی کو پاکستانی حکام سے ملاقاتوں سے قبل اور بعد میں کیے۔ مرتضی علی شاہ کے مطابق ان میں وہ دو طرفہ میسجز بھی شامل ہیں جو وزیر اعظم عمران خان، اسد عمر’ شہزاد اکبر اور اٹارنی جنرل کو کئے گئے ہیں۔
دوسری جانب براڈ شیٹ کے مالک موساوی کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں دلچسپ صورت حال 2019 جولائی میں بنی جب پاکستان کے اعلی حکومتی عہدایدار لندن آئے اور ان سے ملاقات میں 10 ارب ڈالر کے معاملے پر دوبارہ بات کی اور اس حوالے سے ثبوت مانگے۔ موساوی نے ان میں سے اہم ترین آدمی کا نام میجر جنرل ملک بتایا ہے۔ انہوں نے موساوی سے کہا کہ آپ کو اس رقم کے ریکور ہو جانے پر 10 فیصد کمیشن ملے گا جو کہ ہزاروں پاونڈ بنتا ہے۔ تاہم پھر میجر جنرل مالک نے موساوی یہ پوچھ لیا کہ اگر انکی ڈیل ہو جاتی ہے اور اسے کمیشن بھی مل جاتا ہے تو ان کو اس میں سے کتنا حصہ ملے گا؟ جنرل ملک کا کہنا تھا کہ اگر موسوی کو اس معاہدے سے 25 بلین ڈالرز مل جاتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ مجھے کیا ملے گا۔ موساوی کے مطابق شہزاد اکبر بھی اس جرنیل کے ساتھ آئے تھے۔ میجر جنرل مالک مسلسل یہ تاثر بھی دے رہا تھا کہ جیسے وہ وہ آئی ایس آئی کے سربراہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔
تاہم شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ ان سے موساوی کی ملاقات ضرور ہوئی لیکن اسں میں انہوں نے پاکستان کو ہونے والے عدالتی جرمانے میں رعایت کی بات کی تھی۔ دوسری طرف موساوی کے مطابق انہوں نے یہ رشوت کے عوض یہ معاہدہ کرنے کی پیشکش ٹھکرا دی اور اپنے وکیل کے ذریعے حکومت پاکستان کو کمیشن مانگنے والے لوگوں کا نام بھی بتا دیا۔ انکا کہنا یے کہ حکومت ان ناموں کو جانتی ہے تاہم اس حوالے سے ایک خاموشی ہے۔ موساوی کا کہنا ہے کہ مجھے حکومت پاکستان کو ان لوگوں کا نام بتانے کی بجائے برطانوی پولیس سے رابطہ کرنا چاہیے تھا۔
ایک تازہ انٹرویو میں موساوی نے توپوں کا رخ کپتان حکومت کی جانب موڑتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے برطانوی عدالت کے ثالثی کے حکمنامے کو شائع کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستانی خزانے کو 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز بطور جرمانہ براڈ شیٹ کو ادا کرنا پڑے ۔ موساوی نے کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ وزیر اعظم پاکستان برطانوی عدالت کے سر انتھونی ایونز کے دسمبر 2020 کے فیصلے کو پبلک کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بدعنوانی کے خلاف جنگ میں عمران خان کی ساکھ کے دعوے کی کوئی اہمیت ہے تو وہ اس فیصلے کو شائع کریں تاکہ پاکستانی عوام اسے پڑھ سکیں، اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو میں یہ سوچنا شروع کردوں گا کہ وہ قابل اعتبار ہیں۔
