کیا ندیم افضل چن نے کپتان کی کشتی کو ڈوبتا دیکھ کر چھلانگ لگائی؟

سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پر ندیم افضل چن کے بطور ترجمان وزیراعظم عہدے سے مستعفی ہونے کی خبریں زیر گردش تھیں لیکن اب انہوں نے حکومت کی ڈوبتی کشتی سے چھلانگ لگانے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ چن کا کہنا ہے کہ انھوں نے تمام حکومتی مراعات اور گاڑیاں واپس کر دی ہیں اور اب وہ کسی بھی صورت اپنا استعفی واپس نہیں لیں گے۔ یاد رہے کہ چن کا استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کابینہ کے اجلاس کے دوران ان حکومتی وزراء پر کڑی تنقید کے بعد سامنے آیا ہے جو کہ حکومت لائن لے کر آگے بڑھانے کی بجائے اختلافی بیانات جاری کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کابینہ اجلاس کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس طرح کا رویہ برداشت نہیں کریں گے اور خود فیصلہ کریں گے کہ اب ان کی کابینہ میں ایسے عناصر میں سے کون رہے گا اور کون نہیں۔ وزیراعظم کی اس سخت وارننگ کی بنیادی وجہ ندیم افضل چن کا وہ بیان قرار دیا جا رہا ہے جو کہ انھوں نے کوئٹہ میں دھرنا دینے والوں کی ہمدردی میں جاری کیا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ ندیم افضل چن نے وزیر اعظم کے ہاتھوں فارغ ہونے کی بجائے خود استعفی دینے کا فیصلہ کیا۔ چن کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ویسے بھی حکومت کے دن اب گنے جا چکے ہیں لہذا کابینہ میں رہ کر اپنی مزید بےعزتی کروانے کا کوئی فائدہ نہیں۔
وزیراعظم کے ترجمان کے عہدے سے مستعفی ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد کئی گھنٹوں سے بظاہر تمام رابطوں سے دور رہنے والے ندیم افضل چن نے اس پیشرفت کے بعد چند گھنٹوں میں پانچ ہزار سے زائد ٹوئٹر فالوورز بھی پائے۔ استعفے کی خبر باہر آنے کے بعد ان کے ٹوئٹر فالوورز کی تعداد ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔
پاکستان میں ٹیلی ویژن سکرینز اور اخبارات کے صفحوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا ٹائم لائنز پر بھی ندیم افضل چن اسوقت نمایاں موضوع ہیں۔ ان کے استعفیٰ سے متعلق ابتدائی اطلاع سامنے آنے کے بعد خبروں کی دنیا سے تعلق رکھنے والے ندیم افضل کو ڈھونڈنے رہے لیکن وہ کسی کو دستیاب نہ ہو سکے۔ اسی دوران ٹوئٹر پر ان کے نام سے متعدد اکاؤنٹس بنے، ان سے مختلف سرگرمیاں کی جاتی رہیں۔ کچھ اکاؤنٹس ایسے بھی تھے جنہوں نے ان کے نام پر ہزاروں فالوورز حاصل کر لیے۔ بات آگے بڑھی تو ندیم افضل چن کو خود یہ اعلان کرنا پڑا کہ ان کا اصل اکاؤنٹ کون سا ہے۔ وزیراعظم کے ترجمان اور معاون خصوصی کی حیثیت سے ندیم افضل چن کے استعفیٰ کی خبر سامنے آئی تو سیاسی اتار چڑھاؤ پر نظر رکھنے والوں نے اس اطلاع کو خاصا اہم جان کر اس کا اظہار بھی کیا۔ سلمان درانی نامی صارف نے لکھا کہ ’ندیم افضل چن بحیثیت ترجمان وزیراعظم مستعفی ہو گئے، مختاریا گل ودھ گئی اے۔‘ سوشل ٹائم لائنز پر بات آگے بڑھی تو کہیں ان کے ’مختاریے‘ کا ذکر ہوا، کسی نے ان کی آئندہ سیاسی منزل کا پوچھا تو کوئی اندازے باندھتا رہا کہ وہ فوری طور پر کہاں جا سکتے ہیں اور اگر ایسا ابھی نہیں ہو رہا تو کب ہوگا۔ خواجہ مشرف نامی صارف نے ندیم افضل چن کی سابق پارٹی کا ذکر کیا تو خواہش ظاہر کی کہ وہ گھر واپس آ جائیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر کئی لوگ ایسے بھی ہیں جو ندیم افضل چن کو لوٹا قرار دیتے ہوئے پیپلزپارٹی کی قیادت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت انہیں پارٹی میں واپس قبول نہ کرے۔
دوسری طرف تحریک انصاف کے حامی صارفین انہیں گھر کی بات گھر میں رکھنے کا مشورہ دیا تو خاصے اس بات کے خواہاں دکھائی دیے کہ وہ کہیں نہ جائیں بلکہ گھر میں رہ کر ہی اختلاف کریں۔ تاہم ندیم افضل چن کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت اختلاف رائے پر یقین نہیں رکھتی اور عمران خان کی کابینہ اجلاس میں حالیہ گفتگو اس چیز کی مظہر ہے۔
کچھ سوشل میڈیا صارفین نے سیاسی بساط پر چلی جانے والی روایتی چالوں کا ذکر کرتے ہوئے چن کو متنبہ کیا کہ وہ استعفی کے بعد اب ہوشیار ذرا رہیں. گزشتہ چند روز کے دوران یہ تیسرا موقع ہے کہ ندیم افضل چن یا ان کی کوئی سوشل میڈیا سرگرمی زیادہ نمایاں ہوئی ہے۔ چند روز قبل انہوں نے مچھ، بلوچستان میں قتل ہونے والے کان کنوں کی میتوں سمیت دھرنا دیتے لواحقین کی صورت حال پر شرمندگی کا اظہار کیا تھا۔ ان کے اس عمل کو اس وقت کے حکومتی موقف سے ہٹ کر کی گئی بات کے طور پر دیکھا گیا تھا۔
دوسری مرتبہ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی ابلاغ شہباز گل کے ساتھ ٹوئٹر ٹائم لائن پر ان کی بحث ہوئی تو بہت سے حلقوں نے اسے ’لفظوں کی جھڑپ‘ سے تعبیر کیا جب کہ کچھ اسے وزیراعظم کے دو ترجمانوں کے زاویہ نظر کا فرق کہتے رہے۔ شہباز گل کا موقف تھا کہ چن جیسے لوگوں کو یہ بہانہ بنانا زیب نہیں دیتا کہ وہ اصولوں کی بنیاد پر اختلاف کرتے ہیں اور انہیں بھی باقی مشیران کی طرح پارٹی لائن فالو کرنی چاہیے۔
یاد رہے کہ 2001 میں تحصیل ملکوال کے ناظم کے طور پر اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کرنے والے ندیم افضل چن 2008 میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر سرگودھا سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ 2013 کے الیکشن میں بھی وہ پی پی پی کے ٹکٹ پر انتخابی میدان میں اترے لیکن کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ انہوں نے 2018 کے انتخابات سے قبل پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی، گزشتہ عام انتخابات میں وہ اگر چہ اپنی نشست تو نہیں جیت سکے تھے لیکن بعد میں انہیں وزیراعظم کا ترجمان مقرر کر دیا گیا تھا۔
