برص یا پھلبہری کیا ہے اور کیا اس کا علاج ممکن ہے؟

ناک پر عینک ٹکائے اور دونوں ہاتھ منہ پر دھرے ایک عورت سامنے کھڑی لڑکی سے پوچھتے ہوئے نظر آتی ہے ’اے پھلبہری اے؟ ہیں؟ ہائے! پھلبہری ہوگئی اے۔ علاج نہیں کرایا؟‘
یکے بعد دیگرے اِسی ویڈیو میں کئی اور لوگ بھی آتے ہیں جو اسی قسم کے سوال پوچھنے کے ساتھ ساتھ یا تو کوئی ٹوٹکا بتاتے ہیں یا کیمرے کی طرف گھورتے ہیں۔
اس ویڈیو میں موجود تمام کریکٹرز 27 سالہ مہک نے خود ادا کیے ہیں اور اسی قسم کی مزید ویڈیوز ان کے انسٹاگرام پیج پر بھی موجود ہیں۔ مہک نے بتایا کہ وِٹلائيگو (برص) کے مرض میں مبتلا افراد کےلیے اس قسم کے الفاظ سننا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر روز کچھ نہ کچھ سننے کو ملتا ہے۔ مہک اپنے انسٹاگرام پیج کے ذریعے برص کے بارے میں اپنے پانچ ہزار سے زائد فالوورز میں آگاہی پھیلا رہی ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے مختلف سپورٹ گروپ بھی بنائے ہیں جہاں برص میں مبتلا افراد ایک دوسرے سے اپنے خیالات کے اظہار کے ساتھ ساتھ وہ واقعات بھی شیئر کرتے ہیں کہ کیسے انہیں مختلف مواقع پر ان کی منفرد جلد کی وجہ سے تنگ کیا گیا یا امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔
برص جلد کی خرابی یا اس میں پیدا ہونے والے ڈس آرڈر کے نتیجے میں ہوتا ہے جس میں انسان کی جِلد چھوٹے چھوٹے سفید دھبوں سے بھر جاتی ہے۔ ہر انسان میں اس کی علامات مختلف نظر آتی ہیں۔ ایسا میلانن کی کمی کے باعث ہوتا ہے۔ میلانن انسان کی جلد، بالوں اور آنکھوں کو رنگ دیتا ہے۔ اس کے نہ ہونے کے باعث جلد سفید ہو جاتی ہے اور مختلف امراض سے دوچار رہتی ہے۔ برص میں مبتلا افراد کی جِلد سورج سے جلد خراب ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے انہیں اپنی جلد کا بہت خیال رکھنا پڑتا ہے لیکن اس کے بارے میں زیادہ معلومات نہ ہونے کے باعث جنوبی ایشیائی ممالک میں اسے بیماری سمجھا جاتا ہے اور جلد کی خرابی سے دوچار افراد کے ساتھ امتیازی سلوک بھی برتا جاتا ہے۔ برص نہ تو ایک انسان سے دوسرے کو لگتا ہے اور نہ ہی یہ کوئی خطرناک بیماری ہے۔
ہر سال 25 جون کو ورلڈ وٹلائیگو ڈے بھی منایا جاتا ہے۔ دنیا کے ایک فیصد آبادی میں برص پایا جاتا ہے، مہک میں ایسے افراد میں سے ایک ہیں۔
پہلی مرتبہ 12 سال کی عمر میں مہک کو اپنی آنکھ کے پاس ایک سفید نشان نظر آیا جسے ابتدا میں انہوں نے نظر انداز کر دیا لیکن کچھ ہی عرصے میں ان کے پورے جسم پر یہ سفید دھبے پھیل گئے۔ جلد ہی انہیں یہ معلوم ہو گیا کہ انہیں برص ہے۔ برص کو عرف عام میں پھلبہری بھی کہا جاتا ہے۔ آج مہک کے جسم کے تقریباً 60 سے 70 فیصد حصے پر یہ سفید نشانات ہیں لیکن اس کی وجہ سے خود پر رحم کھانے یا کسی اور سے باتیں سننے کے بجائے انہوں نے اپنی اور اپنے جیسے دوسرے افراد کی نمائندگی خود کرنے کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹرز بتاتے ہیں کہ برص کا کوئی خاص علاج نہیں ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ عمر کے ساتھ ساتھ یا تو یہ بڑھ جاتا ہے یا گھٹ جاتا ہے تاہم اس کا کوئی مستند علاج فی الحال موجود نہیں ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق جلد کے اس ڈس آرڈر کا شکار ہر انسان کا کیس مختلف اور منفرد ہوتا ہے اور ضروری نہیں کہ جو علاج ایک کےلیے صحیح ہو، وہ دوسرے پر بھی مثبت اثر کرے۔
عارضی طور پر بہت سے لوگ میک اپ کے ذریعے ان تمام تر سفید دھبوں کو چھپا لیتے ہیں لیکن زیادہ تر لوگ کاسمیٹک سرجری کرانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ کراچی کے انکل سریا اسپتال میں ماہرِ جلد ڈاکٹر زاہد محمد کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ کاسمیٹک سرجری یا جلد مزید سفید کرنے کا علاج کروا لیتے ہیں تاکہ پوری جلد ایک سی ہو جائے۔ اس کے علاوہ الٹرا وائلٹ تھیراپی بھی کرائی جاتی ہے جس کے بارے میں دعوی کیا جاتا ہے کہ اس سے برص بہت حد تک کم ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر زاہد کہتے ہیں جن افراد کو برص ہو انہیں ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر جلد کا کوئی بھی علاج نہیں کروانا چاہیے کیوں کہ ایسا کرنا خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔
مہک کی رائے بھی اس سے مختلف نہیں اور وہ اپنے انسٹاگرام پیج پر یہی نصیحت کرتی ہیں۔ مہک نے دسمبر 2018 میں انسٹاگرام پر بغیر سامنے آئے برص سے متعلق پیغامات لوگوں تک پہنچانا شروع کیے اور کچھ عرصے بعد انہیں لگا کہ اب انہیں خود بھی سامنے آنا چاہیے۔ مہک بتاتی ہیں کہ بلاگنگ شروع ہوتے ہی کئی لوگوں نے مہک کی والدہ سے کہا کہ ’باجی، یہ تو پوری دنیا میں ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے کہ مجھے پھلبہری ہے۔ اسے روکیں۔‘ مہک نے ہنستے ہوئے کہا لیکن ظاہر ہے میں نے نہیں سنی، کیونکہ مجھے نہیں سننی تھی۔ میں یہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ لوگ سمجھیں کہ لو، آ گئیں ایک اور کیمپینر۔ میں حجاب بھی کرتی ہوں تو میں نے سوچا کیوں نہ سامنے آ کر لوگوں سے بات کی جائے لیکن بتانے کا انداز میں نے مزاحیہ اس لیے بھی رکھا ہے کیوں کہ لوگ اُکتا کر چلے جاتے ہیں۔ یعنی آپ لوگوں کو سنائیں بھی لیکن پیار سے۔ تب سمجھتے ہیں۔
مہک کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر رحیم یار خان سے ہے اور انہوں نے گریجوئیشن ملتان سے کی ہے۔ اسکول اور کالج کے دنوں میں اُن کی والدہ نے اُن پر وہ تمام تر ٹوٹکے آزما لیے تھے جو یا تو انہوں نے کہیں سے سنے تھے یا پھر انہیں بتائے گئے تھے۔ میری والدہ کو اس بات کی فکر تھی کہ جلدی سے اس کا کوئی علاج نکال لیں تاکہ آگے میری شادی کرانے میں مسئلہ نہ ہو۔ پھر انہوں نے پتا کروانا شروع کیا اور لاہور میں انہیں ایک حکیم مل گیا۔ حکیم نے مہک کی والدہ کو بتایا کہ سات دن تک علاج چلے گا جس کے بعد سات دن کا وقفہ لینے کے بعد پھر دوبارہ سات دن علاج کیا جائے گا۔ مہک کہتی ہیں علاج کیا تھا جناب، پہلے دن ایک نیم کا پتا کھانا ہے اور اس کے ساتھ ایک دیسی گھی کا چمچہ اور یہ نہیں کہ نگلنا ہے، مجھے کہا گیا کہ پتہ چبانا ضروری ہے۔ ساتویں دن سات نیم کے پتوں کے ساتھ سات چمچ دیسی گھی کے چمچے بھی ضروری تھے۔ اس دوران میری امی میرے سامنے کھڑی رہتی تھیں تاکہ میں سب کھا جاؤں اور کہیں پھینک نہ دوں۔ اس کے بعد مہک کو ایک اور ٹوٹکا آزمانے کو کہا گیا جو انہیں لاہور میں ہی ایک اور مشہور حکیم نے بتایا تھا۔ اس بار مجھے ایک ہلدی نما چیز دی گئی اور کہا گیا کہ اسے رات میں بھگو کے رکھ لو جس کے بعد اسے صبح نہار منہ کھانا تھا۔ اس کا پانی اس قدر کڑوا تھا لیکن پینا پڑتا تھا۔ پانی پینے کے بعد جو اس کا پاؤڈر بچتا تھا اسے مہک کو اپنے جسم کے ان تمام حصوں میں لگانے کا کہا جاتا تھا جہاں جہاں سفید نشانات تھے۔ ساتھ ہی مہک کے چاول کھانے اور دودھ پینے پر پابندی لگا دی گئی۔
لیکن یہ ٹوٹکا بھی نہیں چلا۔ تو اس کے بعد ان کی والدہ انھیں ڈاکٹر کے پاس لے گئیں۔ مجھے ڈاکٹر نے ایک آئنٹمنٹ دی اور کافی دیر بعد معلوم ہوا کہ درحقیقت یہ سٹیرائڈز تھے۔ اب تو ہم ہر چیز پڑھتے اور سمجھتے ہیں لیکن اس وقت میں بچی تھی تو جو کہا جا رہا تھا، کیا۔ ڈاکٹر نے مہک کو اس دوا کو ایک اور دوا کے ساتھ مِلا کر اپنے جسم پر موجود دھبوں پر لگانے کے بعد سورج میں کچھ دیر بیٹھنے کی ہدایت بھی کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ دنوں میں جہاں جہاں وہ آئنٹمنٹ لگائی تھی وہاں چھالے بن گئے۔ مجھے کالج سے دو ماہ چھٹی لینا پڑی کیوں کہ مجھ سے کچھ نہیں ہو پا رہا تھا۔ جس دوران مہک گھر تک محدود ہوگئیں اس دوران انہیں ان کی گھریلو ملازمہ نے مشورہ دیا کہ ان کے پڑوس میں بھی کسی کو ایسی بیماری ہوئی تھی۔ آپ بھی ٹرانسجینڈر (خواجہ سرا) کو گلے لگا لو، سب صحیح ہو جائے گا اور یہ دھبے مٹ جائیں گے۔ مہک نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور اپنی والدہ کو مزید ٹوٹکے سننے اور بتانے پر پابندی عائد کر دی۔
’میں نے شادی بھی اپنی مرضی سے کی اور اس دوران لڑکے کی والدہ کو صاف بتا دیا کہ میری جلد کی یہ صورت حال ہے اور یہ صحیح نہیں ہو سکتی۔ لیکن شُکر ہے کہ انہوں نے مجھ سے کچھ نہیں پوچھا اور آج میری چار سال کی بیٹی بھی ہے۔‘
جمیکن کینیڈین ماڈل وِنی ہارلو برص کو چھپانے کے بجائے اپنی اصلی جلد دکھانے کے بارے میں مہم چلاتی ہیں۔ چاہے وہ کہیں ماڈلنگ کر رہی ہوں یا گھومنے کی غرض سے باہر نکلی ہوں وہ اپنی جلد کو بغیر میک اپ سے چھپائے اپنے تمام تر کام سرانجام دیتی ہیں۔ انسٹاگرام پر تقریباً 80 لاکھ افراد انھیں فالو کرتے ہیں۔
اسی طرح برطانیہ میں بھی ایک 13 سالہ ماڈل کیڈن اسکول میں بچوں سے چھپتے رہے لیکن آج ان کی منفرد جلد کی وجہ سے ایک ماڈلنگ کمپنی نے ان کی خدمات بطور ماڈل حاصل کی ہیں۔ اُن کے مطابق ایسا کرنے سے پیغام یہی جاتا ہے کہ اپنی جلد سے مطمئن رہیں۔
پاکستان میں منظرِ عام پر فی الحال مہک ہی ایک کیمپینر ہیں جو اس مسئلے پر بات کرتی ہیں۔ اتنے سالوں میں، میں نے وٹلائیگو سے دوچار لوگوں کی میڈیا میں نمائندگی نہ ہونے کے برابر دیکھی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میڈیا میں گورے پن کو زیادہ فروغ دیا جاتا ہے لیکن میں نے سوچا ہے کہ اگر کوئی اور نمائندگی نہیں کرتا تو میں خود اپنی اور اپنے جیسے دِکھنے والوں کی نمائندگی کروں گی۔
پاکستانی کپڑوں کی برانڈ ’جنریشن‘ کی ایک کیمپین کا حوالہ دیتے ہوئے مہک نے کہا کہ اس میں ایک برص میں مبتلا لڑکی کو شامل کیا گیا تھا جسے ’دیکھ کے بہت ہی اچھا لگا۔‘ مہک کہتی ہیں کہ ’لوگوں کو یہ سمجھانا پڑے گا کہ ہم جیسے لوگ بھی ہیں دنیا میں اور ہر چیز رنگت پر منحصر نہیں ہوتی۔ تھوڑا وقت لگے گا، لیکن یہ وقت لگانا ضروری ہے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button