برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی حکومت خطرے میں

پے در پے سکینڈلز کی زد میں آنے کے بعد برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کی حکومت خطرے میں پڑ گئی ہے اور ان کے قریبی ساتھی ان کا ساتھ چھوڑنا شروع ہو گئے ہیں۔
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو حال ہی میں سامنے آنے والے سکینڈلز سے متعلق پارلیمنٹ میں سوالات کا سامنا ہے اور سینئر قانون ساز ان سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے بورس جانسن کے قریبی ساتھیوں چانسلر رشی سونک اور سیکرٹری صحت ساجد جاوید نے یہ کہتے ہوئے اپنی وزارتوں سے استعفیٰ دے دیا تھا کہ وہ بورس جانسن کی انتظامیہ کو داغدار کرنے والے حالیہ سکینڈلز کے تناظر میں حکومت میں مزید نہیں رہ سکتے۔ برطانوی وزیراعظم کی حکمران کنزرویٹو پارٹی میں قانون سازوں کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ جانسن کے لیے کھیل ختم ہو چکا ہے تاہم برطانوی وزیراعظم نے نیا وزیر خزانہ مقرر کر کے اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا عزم ظاہر کیا۔
کنزرویٹو پارٹی کے ایک قانون ساز نے بتایا کہ مجھے شک ہے کہ ہمیں بورس کو ڈاؤننگ سٹریٹ سے گھسیٹ کر نکالنا پڑے گا، اگر ہمیں ایسا کرنا پڑا تو ہم کریں گے، وزیراعظم کو کرونا وائرس کی وبا کے پیش نظر نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن قوانین کو توڑنے پر جرمانہ کیا گیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ ان کے ڈاؤننگ سٹریٹ آفس کے عہدیداروں کے رویے کے خلاف ایک قابل مذمت رپورٹ شائع ہوئی تھی جنہوں نے لاک ڈاؤن قوانین کی خلاف ورزی کی تھی، برطانوی وزیراعظم کی پالیسی میں یوٹرن بھی دیکھے گئے، لابنگ کے حوالے سے بنائے گئے قواعد توڑنے والے ایک قانون ساز کا خوامخواہ دفاع بھی ان پر تنقید کی وجہ بنا۔
بورس جانسن پر یہ تنقید بھی کی گئی ہے کہ ایندھن اور اجناس کی بڑھتی قیمتوں کا سامنا کرنے والے برطانوی عوام کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے، تازہ سکینڈل میں بورس جانسن نے ایم پی کرس پنچر کو حکومتی عہدے پر تعینات کیا جن کیخلاف جنسی بدسلوکی کی شکایات تھیں۔ اس سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد رشی سونک نے وزیر خزانہ اور ساجد جاوید نے سیکریٹری صحت کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، ساجد جاوید نے اپنے استعفے کے متن میں لکھا کہ یہ واضح ہے کہ صورتحال آپ کی قیادت میں نہیں بدلے گی، اس لیے آپ نے میرا اعتماد بھی کھو دیا ہے، انتہائی افسوس کے ساتھ مجھے آپ کو بتانا ہوگا کہ میرا ضمیر مجھے اس حکومت میں خدمات جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا، برطانوی عوام اپنی حکومت سے دیانتداری کی توقع رکھتے ہیں۔
اسی طرح رشی سونک نے اپنے استعفے میں کہا کہ عوام توقع کرتے ہیں کہ مناسب طریقے، قابلیت اور سنجیدگی سے حکومت چلائی جائے گی، ریسرچ اور ڈیٹا کا تجزیہ کرنے والی برطانوی فرم یو گوو کے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 69 فیصد برطانوی شہریوں کا خیال ہے کہ بورس جانسن کو وزیراعظم کے عہدے سے سبکدوش ہو جانا چاہئے تاہم وزارتی ٹیم کے دیگر ارکان نے ان کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے، سکاٹش سیکرٹری الیسٹر جیک نے کہا کہ میں وزیراعظم کی مکمل حمایت کرتا ہوں، مجھے اچھے ساتھیوں کو مستعفی ہوتا دیکھ کر افسوس ہوا۔
