بزدار سے ناراض MPAs کا بڑا مسئلہ ترقیاتی فنڈز ہیں

کپتان کے وسیم اکرم پلس سردار عثمان بزدار سے ناراض ممبران پنجاب اسمبلی کا بڑا گلہ انکے حلقوں کے لئے ترقیاتی فنڈز کی عدم دستیابی کا ہے۔ اراکین کی شکایت ہے کہ ’انہیں ترقیاتی فنڈز نہیں دئیے جا رہے اور ترقیاتی اسکیموں کے اجراء کے وقت ان حلقوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔‘
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ترقیاتی فنڈز ہوتے کیا ہیں اور ان کو کیسے خرچ کیا جاتا ہے۔ ترقیاتی فنڈز کی یہ رقم حکومت کے سالانہ بجٹ میں پی ایس ڈی پی یعنی عوامی شعبے کے ترقیاتی پروگرام یا سالانہ ترقیاتی پروگرام کی مد میں رکھی جاتی ہے۔ ترقیاتی فنڈز بنیادی طور پر وہ پیسے ہیں جو کسی علاقے میں ترقیاتی کاموں کےلیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں کسی علاقے میں سڑکیں بنانا، گیس، بجلی، پانی، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی یا انہیں ترقی دینا شامل ہے۔ یہ وہ رقم ہوتی ہے جو ہر حکومت ملک کے مختلف علاقوں میں ترقی اور فلاح و بہبود کی اسکیموں کےلیے مختص کرتی ہے۔ یہ رقم حکومت کے سالانہ بجٹ میں پی ایس ڈی پی یعنی عوامی شعبے کے ترقیاتی پروگرام یا سالانہ ترقیاتی پروگرام کی مد میں رکھی جاتی ہے۔
یہ فنڈز براہ راست منتخب ارکان کو جاری نہیں کیے جاتے بلکہ ان کے علاقوں کی ترقیاتی سکیموں کےلیے مختص کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر حکومت کہتی ہے کہ فلاں ایم این اے کو پانچ کروڑ اور فلاں ایم پی اے کو تین کروڑ ان کے علاقے کی ترقی کےلیے دئیے جائیں گے۔ یعنی یہ پیسہ اس رکن اسمبلی کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کےلیے جاری ہوتا ہے۔ اگر تاریخ میں ترقیاتی کاموں کا موازنہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ حکومتی ارکان کو حزبِ اختلاف کے ارکان کے مقابلے زیادہ فنڈز ملتے ہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجیس لیٹو ڈویلپمنٹ یا پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کے مطابق بعض اوقات حکومتیں ترقیاتی فنڈز کے لیے مختص رقم کے اجراء کے ساتھ شرائط بھی رکھ دیتی ہیں کہ یہ رقم کس قسم کے منصوبے کےلیے استعمال ہو گی اور اس کے لیے تعمیراتی کام کا ٹھیکہ کس کو اور کیسے دیا جائے۔’یہ بنیادی طور پر حکومت کا صوابدیدی فنڈ ہے۔ اس کے اجرا کے لیے کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں ہے۔ حکومت جسے چاہے دے، جسے چاہے نہ دے۔ لہٰذا حکومتیں اس فنڈ کو اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ کسی بھی اسمبلی کے رکن کے جو چند مسائل ہوتے ہیں ان میں ایک بڑا مسئلہ ترقیاتی فنڈز کا ہے۔ ان کے حلقے کے لوگ ان کو ووٹ دیتے وقت یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ ان کے علاقے کےلیے ترقیاتی کام کروائیں گے۔ احمد بلال محبوب کے مطابق ان کے ادارے کی جانب سے کیے جانے والے سروے وغیرہ میں بھی ‘جب لوگوں سے پوچھا جاتا ہے تو وہ بھی یہی بتاتے ہیں کہ اسمبلی میں ان کے نمائندے ان کے علاقے کی ترقی کےلیے کام کریں گے۔ایسا نہ ہو تو سیاسی طور پر ارکان اسمبلی کو نقصان ہوتا ہے اور آئندہ انتخابات میں لوگ انہیں ووٹ نہیں دیتے۔
احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر یہ مقامی حکومتوں یا بلدیاتی اداروں کا کام ہوتا ہے۔اگر لوگ ٹیکس دیتے ہیں تو بدلے میں ان کا حق ہے کہ ان کے علاقے میں ترقی بھی ہو۔
سینئر صحافی سہیل وڑائچ کے مطابق ترقیاتی فنڈز حلقے کے لوگوں کا حق ہے۔ ایسا تو نہیں کہ یہ کوئی حکومت کے اپنے پیسے ہیں۔ اگر لوگ ٹیکس دیتے ہیں تو بدلے میں ان کا حق ہے کہ ان کے علاقے میں ترقی بھی ہو۔ یہ تو ان کا اپنا پیسہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے کہ وفاقی یا صوبائی حکومتیں ایسے ترقیاتی منصوبوں پر انفرادی حیثیت میں یا اکٹھے بھی کام کرتی ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر ہونا یہ چاہیے کہ ایسے کام ضلعی حکومتوں کے ذریعے ہوں۔
احمد بلال محبوب کے خیال میں ایسا کہنا درست نہ ہو گا کیوںکہ اگر ایسا ہوتا تو تحریک انصاف کی حکومت بلدیاتی نظام ختم ہی نہ کرتی یا نیا نظام جلد لے آتی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ تاہم ترقیاتی منصوبوں پر سالانہ مختص رقم اسی سال میں استعمال ہونا ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم استعمال ہو رہی ہے لیکن وہ یا تو لوکل گورنمنٹ کے ایڈمنسٹریٹر یا پھر ممبرانِ قومی و صوبائی اسمبلی کے ذریعے ہو رہی ہے۔ ‘اور اس طرح پھر حکومت خود انتخاب کرتی ہے اور اپنی مرضی اور پسند کے ارکان کو فنڈز کا اجرا کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button