بشریٰ بی بی کے نئے رشتہ دار سٹور مالکان بدمعاشی پر اتر آئے

وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ کے سوتیلے بیٹوں کی بدمعاشی کے واقعات کے بعد اب خاتون اول بشریٰ بی بی کی صاحبزادی کے سسرال والوں نے بھی خود کو ہر قانون سے مبرا سمجھتے ہوئے سرکاری اداروں کے ساتھ دادا گیری شروع کر دی ہے جس کا تازہ ثبوت لاہور میں ہونے والا ایک واقعہ ہے۔ یاد رہے کہ بشریٰ بی بی کی پہلے خاوند سے بڑی بیٹی کی الفتح سٹور کے مالک کے بیٹے سے دوسری شادی ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کپتان کے نئے رشتے دار الفتح سپر سٹور والوں نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے چھاپا مارنے والی سرکاری ٹیم کو بدمعاشی کرتے ہوئے یرغمال بنالیا اور گودام میں بند کر دیا۔ فوڈ اتھارٹی چھ گھنٹے بعد پولیس کی مدد سے اپنے اہلکاروں کو بازیاب کروانے میں کامیاب ہوئی۔
خیال رہے کہ بشریٰ بی بی کے داماد محمد شیخ کے والد عرفان اقبال شیخ پاکستان کے معروف بزنس مین اور ڈیپارٹمنٹل سٹورز کی چین الفتح کے مالک ہیں۔ وہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر بھی ہیں۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق لاہور کے معروف سپر سٹور الفتح کے گودام میں فوڈ اتھاڑی ٹیم کو کارروائی کی پاداش میں یرغمال بنایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چند روز قبل لاہور کے اٹاری سٹاپ پر واقع الفتح سٹور کے گودام سے ایکسپائر امپورٹڈ شہد سمیت 8 برانڈز کی جعلی اشیاء برآمد ہوئی تھیں جس کے بعد لیبارٹری کے سیمپل فیل ہونے پر ڈی جی فوڈ اتھارٹی کی جانب الفتح سٹور پر چھاپہ مارا گیا تھا۔ لیکن ڈی جی فوڈ اتھارٹی کے گودام سے نکلتے ہی الفتح انتظامیہ کے گودام ملازمین نے فوڈ اتھارٹی کی ٹیم کو یرغمال بنا لیا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ایک اور ریڈنگ ٹیم جو باہر موجود تھی اس نے تقریباً چھ گھنٹے کی کوشش کے بعد پولیس کی مدد سے اپنے اہلکار بازیاب کروائے۔ بعد ازاں الفتح سٹور کے گودام کو سیل کر دیا گیا۔ دوسری جانب فوڈ اتھارٹی نے الفتح سٹور کی لاہور میں تمام برانچوں سے ایکسپائر اور جعلی مال اٹھوانے کے لیے کاروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے انتظامیہ کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست بھی دی گئی ہے۔ اس کارروائی کے دوران بھی فوڈ اتھارٹی کی ٹیموں کو دھمکیاں دی گئیں۔ گمان کیا جارہا ہے کہ عمران خان کے ساتھ بلواسطہ رشتے داری کی وجہ سے الفتح کی انتظامیہ ایسی حرکتوں پر اتر آئی ہے۔ تاہم ابھی تک فوڈ اتھارٹی والوں کی دادرسی کے لیے سٹور مالکان یا اس حرکت کے مرتکب افراد کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا۔اس معروف کاروباری ادارے کے مالکان کی فوڈ اتھارٹی والوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ناقدین کا کہناہے کہ وزیر اعظم عمران خان سے رشتے داری کے بعد الفتح سٹور والوں نے قانون کو گھر کی لونڈی سمجھ کر سرکاری اداروں کے ساتھ زور زبردستی شروع کر دی ہے۔ اس سے پہلے بشریٰ بی بی کے پہلے شوہر خاور فرید مانیکا اور ان کے دو بیٹے بھی زور زبردستی کے ایسے واقعات میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ایسے ہی ایک واقعے کے بعد پاکپتن کے ڈی پی او کو بھی تبدیل کرنا پڑا تھا جن کا خاور فرید مانیکا سے پنگا پڑ گیا تھا۔ تب کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس واقعے کا نوٹس لیا تھا لیکن پھر معافی تلافی ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: علیزے شاہ کی یاسر نواز اور ہمایوں سعید سے بدتمیزی
یاد رہے کہ بشریٰ بی بی کی بیٹی کا نکاح رواں سال اکتوبر میں 12ربیع الاول کو مسجد نبویﷺ میں ایک تقریب میں انجام پایا تھا جس میں خاندان کے افراد اور دوستوں نے شرکت کی تھی۔ اس نکاح کے موقع پر وزیراعظم عمران خان بھی ایک سرکاری وفد کے ہمراہ سعودی عرب میں موجود تھے۔ نکاح کے بعد جوڑے نے عمرہ بھی ادا کیا تھا۔
