انڈین ٹی وی نے ‘میرے پاس تم ہو’ کی کہانی چوری کر لی
اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت میں پاکستانی ڈرامے بہت ذیادہ دیکھے اور پسند کیے جاتے ہیں لیکن اب یہ پسند اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ہمسایہ ملک میں پاکستان کے ہٹ ڈراموں کی کہانیاں کاپی کرنے کا کام شروع کر ہو گیا ہے۔ حال ہی میں سونی ٹی وی سے نشر ہونے والے ڈرامے ’’کامنا‘‘ کو پاکستانی ڈرامے ’’میرے پاس تم ہو‘‘ کی کاپی قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ ڈرامہ ‘میرے پاس تم ہو’ نے پاکستان میں مقبولیت اور ریٹنگ کے نئے ریکارڈ قائم کیے تھے۔ یہ ڈرامہ خلیل الرحمن قمر نے لکھا تھا اور جس میں ہمایوں سعید نے اپنی بے وفا بیوی سے دھوکہ کھانے والے شوہر کا کردار ادا کیا تھا جو پیسوں کی خاطر اسے چھوڑ کر ایک امیر آدمی کے ساتھ چلی جاتی ہے۔
جیسے ہی سونی ٹی وی پر ’کامنا‘ نشر ہونا شروع ہوا لوگوں نے اسے پاکستان کے مقبول ترین ڈرامے ’میرے پاس تم ہو‘ کی کاپی قرار دے دیا۔ ڈرامہ دیکھنے والے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کر رہے ہیں کہ 25 قسطوں پر مبنی پاکستانی ڈرامے کو بھارتی ٹی وی اب 250 قسطوں میں دکھائے گے اور مال بنائے گا۔ کچھ لوگوں نے ’کامنا‘ کے ڈراما سازوں پر تنقید بھی کی اور کہا کہ جب پاکستانی ڈرامے کا بھارتی ورژن بنتا ہے تو وہ بڑھ کر 250 قسطوں تک ہو جاتا ہے۔
کچھ سوشل میڈیا صارفین نے ’کامنا‘ کو ’میرے پاس تم ہو‘ کی سستی کاپی بھی قرار دیا ہے۔ اس ڈرامے کے حوالے سے شوبز ویب سائٹ ’پنک ولا‘ نے اپنے تجزیے میں اسے انیل کپور اور سری دیوی کی مقبول فلم ’جدائی‘ کی کاپی بھی قرار دیا۔ ڈرامے کی کہانی ’کامنا‘ یعنی چاندنی شرما اور ان کے شوہر مناو یعنی ابھیشک راوت کے گرد گھومتی ہے۔
بھارتی ڈرامے ’کامنا‘ میں بے وفا بیوی کا کردار کامنا نامی لڑکی نے ادا کیا ہے۔ اسے بھی ہمایوں سعید کی بے وفا بیوی کی طرح اپنے شوہر کے دولت مند باس سے محبت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ’کامنا‘ کو دولت کی خواہش ہوتی ہے جو لالچ کی وجہ سے وفادار شوہر اور بیٹے کو بھی چھوڑ دیتی ہیں۔ یہی سب کچھ پاکستانی ڈرامہ میرے پاس تم ہو میں بھی ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: علیزے شاہ کی یاسر نواز اور ہمایوں سعید سے بدتمیزی
بھارتی ڈرامے کی طرح پاکستانی ڈرامے ’میرے پاس تم ہو‘ کی کہانی بھی مہوش یعنی عائزہ خان اور دانش یعنی ہمایوں سعید کے گرد گھومتی ہے۔ پاکستانی ڈرامے میں بھی عائزہ خان کو ایک بے وفا لالچی عوعت۔کے روپے میں دکھایا گیا تھا جو وفادار شوہر دانش کو چھوڑ دیتی ہیں۔ اس ڈرامے کو نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت سمیت دیگر ممالک میں بھی سراہا گیا تھا۔ خلیل الرحمان قمر کے لکھے ہوئے اس ڈرامے نے مقبولیت کے جو نئے ریکارڈ قائم کیے تھے وہ ابھی تک توڑے نہیں جا سکے ہے۔
