بشیر میمن نے عمران خان کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا

وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن کی جانب سے عمران خان پر لگائے جانے والے حالیہ الزامات نے نہ صرف حکومت کا اپوزیشن مخالف انتقامی ایجنڈا بے نقاب کر دیا ہے بلکہ اس تاثر کو بھی تقویت دی ہے کہ وزیراعظم ہاؤس میں عوامی فلاح کے منصوبے بنانے کی بجائے مخالفین کو نشان عبرت بنانے کے اوچھے سازشی منصوبے تیار کیے جاتے ہیں۔
اپنے ایک تاز ترین انٹرویو میں ایف آئی اے کے سابق ڈی جی بشیر میمن نے الزام لگایا ہے کہ انہیں وزیر اعظم ہاؤس میں طلب کر کے عمران خان نے انہیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف مقدمہ بنانے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ بشیر میمن نے بتایا کہ عمران خان سے ملاقات کے بعد ہم تینوں یعنی میں، شہزاد اکبر اور فروغ نسیم اکتھے ہوئے تو میں نے ان پر واضح کیا کہ ایف آئی اے سپریم کورٹ کے جج کے خلاف مقدمہ دائر نہیں کرسکتی اور یہ سپریم جوڈیشل کونسل کا کام ہے۔ میرے اس مؤقف پر وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ یہ کیس میں نے لڑنا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ میں کبھی کوئی کیس نہیں ہارا۔ ہم مل کر یہ کام کر لیں گے، ایف آئی اے اور ایف بی آر مل کر یہ کام کر لیں گے۔ بشیر میمن نے بتایا کہ میں نے جسٹس فائز کے خلاف مقدمہ دائر کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ بطور ایک ادارہ میں اپنی ساکھ خراب نہیں کر سکتا۔
ایک سوال کے جواب میں سابق ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ فروغ نسیم، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف منی لانڈرنگ کا کیس بنوانا چاہتے تھے لیکن انہوں نے فروغ نسیم پر واضح کردیا تھا کہ ہم صرف سپریم جوڈیشل کونسل کی ہدایت پر تحقیقات کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کے ڈائریکٹر اشفاق احمد آمادہ تھے کہ وہ اور آیف بی آر مل کر جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف کیس کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ ایف آئی اے کے سابق ڈی جی نے کہا کہ تین سال قبل ہونے والی اس ملاقات کے بارے میں اوپن انکوائری کرالی جائے، سب کچھ واضح ہوجائے گا۔ بشیر میمن نے بتایا کہ ملاقات کے چند ماہ بعد شہزاد اکبر نے جسٹس فائز عیسیٰ اور ان کے اہلخانہ کی ٹریول ہسٹری کے بارے میں مجھ سے پوچھا تھا لیکن میں نے مثبت جواب نہیں دیا تو شہزاد اکبر نے کہا کہ آپ چھوڑ دیں، آپ سے یہ کام نہیں ہوگا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ خاص طور پر شہباز شریف اور مریم نواز کے خلاف مقدمات بنانے کے لیے بھی ان پر دباؤ ڈالا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے بیٹے اور کیپٹن (ر) صفدر سمیت دیگر مسلم لیگ (ن) رہنماؤں کے خلاف بھی ان کو مقدمات بنانے کے لیے کہا گیا۔ بشیر میمن نے کہا کہ مریم نواز کے حوالے سے تین مختلف اوقات میں دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے کا بھی کہا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ خاتون اول بشری بی بی کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر ہونے کی وجہ سے انہیں مریم نواز کے سوشل میڈیا سیل کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت ملی تھی۔
بشیر میمن نے ایک غیر ملکی ویب سائٹ فیکٹ فوکس کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان سے ہونے والی ملاقات کی روداد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس میں اعظم خان اور شہزاد اکبر بھی موجود تھے جن کی موجودگی میں وزیر اعظم نے مجھے کہا کہ آپ نے بہت ہی تگڑا کیس بنانا ہے۔ لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ کس شخص کے خلاف تگڑا کیس بنانے کی بات کی جا رہی تھی۔ بشیر احمد میمن نے بتایا کہ وزیر اعظم کے ساتھ ان کی یہ ملاقات کوئی دو یا تین منٹس کی ہی تھی جس کے بعد ہم تینوں وہاں سے اٹھے اور وزیر اعظم آفس کے اسی فلور کے سب سے آخر میں ایک کونے پر واقع شہزاد اکبر کے دفتر میں چلے گئے، شاید اس لئے کہ اعظم خان کے دفتر میں ہر وقت ایک بھیڑ لگی ہوتی تھی اور یہ لوگ مجھ سے علیحدگی میں کوئی بات کرنا چاہ رہے تھے۔ میمن نے دعویٰ کیا کہ شہزاد اکبر کے دفتر میں جاکر انہیں پہلی مرتبہ پتا چلا کہ وزیر اعظم کس شخصیت کے متعلق تحقیقات کی بات کر رہے تھے۔ جب مجھے یہ پتہ چلا تو میں نے شہزاد اکبر اور اعظم خان سے کہا کہ آپ سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کے خلاف ایف آئی اے کی تحقیقات کی بات کر رہے ہیں، آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘ تاہم جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس کافی چیزیں ہیں، ریکارڈ موجود ہے آپ بس بسم اللہ کریں‘۔
بشیر احمد میمن کے بقول انھوں نے دونوں اشخاص کو بتایا کہ ایف آئی اے اعلیٰ عدلیہ سمیت کسی جج کے خلاف تحقیقات نہیں کر سکتی۔ جب بات قانونی نقطے پر پھنسنے لگی کہ ایف آئی اے کیسے سپریم کورٹ کے ایک سینئر اور حاضر سروس جج کے خلاف تحقیقات کر سکتی ہے تو اعظم خان اور شہزاد اکبر بشیر میمن کو کہنے لگے کہ چلیں وزیر قانون کے پاس چلتے ہیں جو آپ کو مزید اس پہ بتا سکتے ہیں۔ ایف آئی اے کے سابق سربراہ کے مطابق وہ تینوں وہاں سے اٹھے اور وزیر قانون فروغ نسیم کے دفتر میں چلے گئے جہاں پر ایف بی آر کے کمشنر انکم ٹیکس اشفاق احمد بھی پہلے سے ہی موجود تھے۔ اس وقت کمرے میں ہم کل پانچ لوگ تھے۔ میمن کے مطابق وزیر قانون کے دفتر میں بیٹھتے ساتھ ہی فروغ نسیم کو بتایا گیا کہ میمن صاحب کو جسٹس قاضی فائز کے خلاف تحقیقات کرنے پہ کچھ اعتراضات ہیں۔ میں نے کہا کہ اعتراضات کی بات نہیں بھائی خدا کے لئے وزیراعظم کو سمجھائیں کہ وہ ایسا کام نہ کریں۔ ہمیں وزیر اعظم صاحب کو بتانے کی ضرورت ہے کہ ایف آئی اے معزز ججز کے خلاف تحقیقات نہیں کر سکتی کیونکہ یہ سپریم جوڈیشل کونسل کا کام ہے جو آپ ایف آئی اے سے لینا چاہتے ہیں‘ ۔
بشیر احمد میمن کے بقول حالانکہ انھوں نے اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل کا متعلقہ آرٹیکل پڑھا بھی نہیں تھا لیکن کیونکہ پولیس افسر کے طور پر ان کی ساری زندگی تفتیشوں اور انکوائریوں میں گزری ہے اس لئے انہیں پتا تھا کہ ہم عدلیہ کے خلاف تحقیقات نہیں کر سکتے۔ تاہم فروغ نسیم نے کہا کہ ہمارے پاس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ساری دستاویزات ہیں اور پھر یہ کیس میں خود لڑوں گا اور آپ کراچی میں اتنا عرصہ نوکری کرتے رہے ہیں آپ کو تو پتا ہے کہ میں آج تک کوئی کیس ہارا نہیں ہوں‘ ، بشیر احمد میمن کے مطابق فروغ نسیم انہیں یہ کہتے ہوئے مطمئن کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
بشیر میمن نے مزید بتایا کہ اس ملاقات میں موجود اشخاص کو انھوں نے پھر یاد کروایا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ کے ایک معزز جج ہیں اور ہم یہاں بیٹھ کر ان کے خلاف ایف آئی اے سے تحقیقات کروانے کی بات کر رہے ہیں؟’ کیا آپ تاریخ بدلنا چاہتے ہیں، آئین اور قانون بدلنا چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کو اب ایف آئی اے تفتیش کیا کرے گی‘۔ میمن کے بقول اعظم خان اور شہزاد اکبر کہنے لگے کہ آپ آئین اور قانون کو چھوڑیں وہ فروغ نسیم زیادہ جانتے ہیں۔
اسی ملاقات کے دوران ایف بشیر میمن کو کہا گیا کہ دیکھیں سپریم کورٹ کے جج صاحب نے فلاں کے خلاف، متحدہ کے خلاف، پی ٹی آئی کے خلاف اور دیگر کے خلاف ایسے فیصلے دیے ہیں جس پہ ان کے بقول وہ کہنے لگے کہ وہ سپریم کورٹ کے سارے فیصلے نہیں پڑھتے اس لئے انہیں نہیں پتا کہ ان فیصلوں میں کیا لکھا گیا ہے۔ یاد رہے کہ نومبر 2017 میں ایک کیس کی سماعت کے دوران جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد کے فیض آباد کے مقام پر تحریک لبیک پاکستان کے دھرنے پر سوموٹو نوٹس لیا تھا جس پر اس دو رکنی بینچ نے سماعت مکمل کرتے ہوئے فروری 2019 میں اپنا فیصلہ سنایا دیا جسے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا تھا۔ اس فیصلے کے محض تین ماہ بعد ہی یعنی مئی 2019 میں جسٹس عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس فائل ہو گیا تھا۔ میمن کی وزیر اعظم آفس اور وزارت قانون میں یہ ملاقاتیں ریفرنس فائل ہونے سے تقریباً ایک مال قبل ہوئیں۔
جب بشیر میمن سے پوچھا گیا کہ ایسی کیا وجوہات تھیں جن کی بنا پر انہیں اپنی ریٹائرمنٹ سے محض چند دن قبل استعفیٰ دے کر گھر جانا پڑا، تو انہوں نے بتایا کہ ان کی ریٹائرمنٹ میں چند ماہ رہتے تھے اور انھوں نے عمرہ ادائیگی کے لئے چھٹی لے رکھی تھی لیکن چھٹی پہ جانے سے دو روز قبل انہیں یہ پیغام ملا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ملاقات کے لئے بلایا ہے اور ایف آئی اے کے اہم کیسز پہ بات کرنی ہے۔ ’میں اس۔ملاقات میں جتنے بھی اہم کیسز تھے وہ ساتھ لے گیا اور وزیر اعظم کو بریف کیا۔ لیکن اس روز مجھے پتا چلا کہ وہ مجھ سے بہت زیادہ ناراض ہیں۔
بشیر میمن کے بقول وزیر اعظم کا خیال تھا کہ میں نے نواز شریف کے خلاف کیسز نہیں بنائے، مریم نواز کو دہشت گردی مقدمات میں چالان نہیں کیا، اورنج لائن ٹرین پہ شہباز شریف کو جیل میں نہیں ڈالا، حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز پر بھی ذیادہ کیسز نہیں بنائے، نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر، سعد رفیق، احسن اقبال، خواجہ آصف، امیر مقام، خورشید شاہ، قائم علی شاہ اور ان کی بیٹی نفیسہ شاہ، مصطفی نواز کھوکھر، رانا ثناء، جاوید لطیف، اسفند یار ولی سمیت ایسے کئی سیاستدانوں پر ان کے کہنے کے باوجود مقدمات نہیں بنائے اور یہی شاید ناراضگی کی وجہ بھی تھی۔
بشیر میمن کے مطابق میں وزیر اعظم کو یہ بار بار کہتا رہا کہ سر ہم ان سب لوگوں کے خلاف کیسز ضرور بناتے ہیں لیکن ابھی تک کوئی انکوائری بھی نہیں ہوئی، کوئی شواہد بھی تو ہوں، عدالتیں ثبوت مانگتی ہیں۔ میمن کے بقول اس بات پہ وزیر اعظم کہنے لگے کہ میرے دوستوں کے تو تم پیچھے پڑ جاتے ہو، عارف نقوی کے خلاف تم نے انکوائری کرائی اور اس کی کمپنی تم نے تباہ و برباد کردی۔ بشیر کے مطابق انھوں نے وزیر اعظم کو بتایا کہ عارف نقوی کیخلاف انکوائری میں 87 ارب روپے کا کھانچا ثابت ہوا ہے جو اب بڑھ کر سوا سو ارب ہوچکا ہے۔ تاہم عمران خان نے مجھے عارف نقوی کی کے الیکٹرک کی ملکیتی کمپنی ابراج گروپ کو کلین چٹ دینے کی ہدایت کی۔
