بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل کا وفاقی حکومت سے علیحدگی کا اعلان

بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل گروپ کے صدر سردار اختر مینگل نے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اتحاد سے اپنی جماعت کی علیحدگی کا اعلان کردیا۔
بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل کے صدر نے کہاکہ ایک لڑکی جس کا بھائی لاپتا تھا اس کے بازیابی کےلیے وہ چارسال لڑتی رہی، اس لڑکی نے دو دن پہلے خود کشی کر لی،اس کی ایف آئی آرکس کے خلاف کاٹی جانی چاہیے؟اختر منگل نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے، خدا کے لیے بلوچستان کو ساتھ لےکر چلنا چاہتےہیں تو ان معاہدوں پرعمل کریں۔ان کا کہنا تھا کہ ہاتھ ملایا آپ کے ساتھ، گلہ نہیں کر رہے، صدر، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، چیئرمین سینیٹ سمیت ہر موقع پر ووٹ دیا، اپوزیشن اور حکومتی بیچز کی طرف سے الزام لگایا گیا کہ 10 ارب میں ہم بک گئے؟انہوں نے کہا کہ آپ کا ایک ایک بال بلوچستان کا قرض دار نکلے گا بلوچستان آپ کا قرض دار نہیں ہو گا۔
بی این پی کے اختر مینگل کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ دو معاہدے ہوئے، 8 اگست 2018 کو پہلا معاہدہ ہوا، شاہ محمود، جہانگیرترین اور یارمحمد رند کے دستخط کیے، ہم بنی گالہ نہیں گئے بلکہ وہ کوئٹہ آئے تھے۔انہوں نے کہا کہ لا پتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے اور نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کرنےکا مطالبہ کیا تھا، ان دونوں معاہدوں میں کوئی بتادےکہ کوئی بھی ایک غیر آئینی مطالبہ ہے؟اختر مینگل نے کہا کہ کیوں آج تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ؟ یہ مائنڈ سیٹ ہے جو 1948 سے چلا آ رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر بجٹ کو عوام دوست بجٹ کہا جاتا ہے لیکن اب تک جو بجٹ آئے ہیں ان میں ہمیں کتنی فیصد عوام دوستی کی جھلک نظر آئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘یہ بجٹ ممبرا دوست ہو سکتا ہے، وزرا دوست ہو سکتا ہے، بیوروکریسی دوست ہو سکتا ہے، عکسریت دوست ہو سکتا ہے لیکن عوام دوست بجٹ آج تک نہ اس ملک میں آیا ہے اور نہ ہی کبھی آںے کے امکانات ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کے موجودہ بجٹ سے فائدہ کسے پہنچ رہا ہے ، کیا غریب کو فائدہ ملے گا، غریبوں کے لیے روزگار کے دروازے کھول دیے گئے ہیں، کیا انہی بجٹ سے عوام کی مہنگائی سے کمر چور چور نہیں ہوئیں۔
اختر مینگل نے کہا کہ اس ملک میں آج تک کسی کو انصاف نہیں ملا، کوڑیوں کے بھاؤ یہاں انصاف بکا ہے اور خریدار بھی ہم ہیں، ہم نے اس عوام کو مجبور کیا ہے کہ وہ انصاف لیں نہیں، انصاف کو خریدیں اور منڈیوں میں جس طرح انصاف بکتا ہے شاید ہی اس ملک کے علاوہ کہیں بکتا ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کہا کہ ہم لوگوں کو روزگار دیں گے، صنعتیں روز بروز بند ہوتی جا رہی ہیں، آپ کی سب سے بڑی صنعت جس کو اسٹیل مل کہا جاتا تھا، آج اس کے مزدور سراپا احتجاج ہیں، اس کی نجکاری کی جا رہی ہے، ان لوگوں کو بیروزگار کرایا جا رہا ہے، اس حلقے کے نمائندے یہاں احتجاج کرتے ہیں لیکن یہاں کوئی سننے والا نہیں ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل کے صدر نے مزید کہا کہ حکومت کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ جس دن بجٹ پیش کیا جاتا ہے تو پہلی صف بھری ہوتی ہے، جس دن بجٹ منظور کیا جاتا ہے تو صف بھری ہوتی ہے لیکن جب تجاویز پیش کی جاتی ہیں تو خوردبین سے حکومتی اراکین کو ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام اس وقت ممکن ہو سکتا ہے جب عوام کے حقیقی نمائندگی کا حق رکھنے والے فری اینڈ فیئر الیکشن کے تحت منتخب ہو کر آئیں، جن کو عوام کا درد ہو، عوام کی مجبوریوں اور مصیبتوں کا احساس ہو۔
انہوں نے کہا کہ جنہوں ننگے پاؤں ان لوگوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر سیاسی جدوجہد کی ہے، جنہوں نے اپنی، اپنے بچوں اور اپنی قوم کی جانیں گنوائی ہیں ان کو یہ احساس ہو گا کہ بجٹ کی اہمیت کیا ہے اور بجٹ سے کیا لینا چاہیے اور عوام کو کیا دینا چاہیے۔سردار ختر مینگل نے کہا کہ میں اپنی جماعت کی تحریک انصاف کی حکومت سے علیحدگی کا باضابطہ طور پر اعلان کرتا ہوں، ہم پارلیمنٹ میں رہیں گے اور مسائل پر بات کرتے رہیں گے۔
اگست 2018 میں بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل اور تحریک انصاف نے مرکز میں حکومت سے اتحاد کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔اس یادداشت کے تحت چھ نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کیا گیا جس میں لاپتہ افراد کی بازیابی، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد، وفاقی حکومت میں بلوچستان کے لیے 6فیصد کوٹا پر عملدرآمد، افغان مہاجرین کی فوری واپسی اور صوبے میں پانی کے بحران کے بحران کے حل کے لیے ڈیم کا قیام شامل تھا۔بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل نے صرف مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت سے اتحاد کیا تھا جبکہ صوبائی سطح پر پارٹی کا جمعیت علمائے اسلام(فضل) سے اتحاد جاری رہا تھا۔
خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں بی این پی مینگل کے چار ارکان ہیں جب کہ بی این پی مینگل کا سینیٹ میں ایک رکن ہے۔
