’’بلی کے فضلے سے تیار کردہ دنیا کی مہنگی ترین کافی‘‘

کافی کو دنیا کا مشہور ترین مشروب قرار دیا جاتا ہے، جس کی نمایاں اقسام میں بلیک، ایسپریسو، کیفے لائے، کیپو چینو، کیفے موچا سمیت دیگر شامل ہیں مگر یہاں اس کی جس قسم پر بات ہونے جا رہی ہے، وہ اپنے اندر بہت سی عجیب باتیں رکھتی ہے جن کے بارے میں جانتے وقت حیرت بھی ہوتی ہے اور کراہت بھی، جبکہ رونگھٹے کھڑے ہونے کیساتھ اس کی دیگر اقسام سے دل اُچاٹ ہونے کا بھی احتمال رہتا ہے۔نیشنل جیوگرافک ڈاٹ کام پر ’دنیا کی مہنگی ترین کافی کے پیچھے چھپا پریشان کُن راز‘ لوگوں کی نیندیں اڑا رہا ہے، ’’سیوٹ کیٹ‘‘ بلیوں کی ایک قسم ہے، اس کی جسامت بلی جیسی جبکہ چہرہ کسی حد تک نیولے سے مشابہہ ہوتا ہے اور ماہرین حیوانات اس کا تعلق بلی کے خاندان سے ہی جوڑتے ہیں۔سیوٹ کیٹ ایشیا اور افریقہ کے جنگلوں میں رہتی ہے یہ چیری سمیت دوسرے پھل شوق سے کھاتی ہے تاہم گوشت خور بھی ہے اس لیے کیڑے مکوڑے، مینڈک، چھوٹے سانپ اور چھپکلیاں وغیرہ چٹ کرنے میں بھی طاق ہے۔اس کو شرمیلا اور انسانوں سے دور رہنے والا جانور سمجھا جاتا ہے اور اکثر رات کے وقت شکار کے لیے نکلتا ہے، مشک بلاؤ کہلانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے سرین میں نافہ ہوتا ہے جس میں خوشبودار مادہ ہوتا ہے۔19 ویں صدی میں ڈچ ایمپائر نے انڈونیشیا میں کافی کے باغات لگائے چونکہ وہاں سیوک کیٹ بہت زیادہ تعداد میں پائی جاتی ہے، اس لیے انہوں نے کافی کے بیج کھانا شروع کیے اور فُضلہ بھی انہی باغات میں خارج کرتیں، اس کے بعد باغات اور کھیتوں سے سیوٹ کیٹ کا فضلہ تلاش کیا جانے لگا، ان کو باغات میں آنے کا زیادہ سے زیادہ موقع دیا جانے لگا اور بات کھیتوں میں کام کرنے والے مزدوروں سے عالمی کاروباری اداروں تک پہنچی۔زرعی علاقوں میں سیوک کیٹ کا فضلہ جمع کرنے کے لیے باقاعدہ کارکن رکھے جاتے ہیں جو مختلف علاقوں سے اسے اکٹھا کر کے مرکزی مقام یا گودام تک پہنچاتے ہیں جہاں اس کو دھویا جاتا ہے اور اچھی طرح صاف کرنے کے بعد دھوپ میں یا مشینوں کے ذریعے خشک کیا جاتا ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ سیوک کیٹ جو بیج کھاتی ہے ان کو پوری طرح ہضم نہیں کر پاتی اور بیجوں میں موجود پروٹینز کی ساخت تبدیل کر دیتی ہیں، جس سے ان میں پائی جانے والی تیزابیت میں کمی آتی ہے جبکہ جسم سے ایسے اجزا بھی ان میں شامل ہو جاتے ہیں جو اس کے ذائقے کو ایک خاص رخ میں تبدیل کر دیتے ہیں جس کو زیادہ تر لوگ پسند کرتے ہیں۔جرنل اینیمل ویلفیئر نام کے جریدے میں شائع کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بالی میں اس وقت کئی بلیوں کو چھوٹے چھوٹے پنجروں میں بند کر کے رکھا گیا اور ان کے سامنے کافی کے بیج ڈالے جاتے ہیں اور بلیاں صرف وہی کھانے پر مجبور ہیں۔ جس کے بعد وہ پنجروں میں ہی فضلہ خارج کرتی ہیں جن کو اکٹھا کرنے کے بعد پراسس کر کے کافی بنائی جاتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں وہی فرق ہے جو فارم پر بننے والی اور قدرتی اشیا میں ہوتا ہے یعنی غذائیت اور تاثیر مختلف ہوتی ہے تاہم زیادہ تر فروخت ہونے والی کافی پر ’جنگلی‘ کا ہی لیبل لگایا جاتا ہے، پاکستان اور انڈیا سمیت دیگر قریبی ممالک میں بھی سیوٹ کیٹ پائی جاتی ہے، اس کیٹ کو وائٹ ہائوس میں گھسنے اور عملے کی دوڑیں لگوانے پر گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

Back to top button