بندوق والی مخلوق کی بغیر معاہدے قبائل میں واپسی کیسے ہوگئی؟

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ وجمعیت علما ئے اسلام ف کے امیرمولانا فضل الرحمن نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے کہا ہے کہ مذاکرات کی باتیں ہوئیں، بندوق والی مخلوق بغیر مذاکرات اورمعاہدے کے قبائل میں کیسے واپس آگئی؟
مرکزی مجلس عمومی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عوام غیر مسلح جبکہ دوسری طرف مسلح لوگ ہیں، جے یو آئی امن کے لئے تیار لیکن اپنا تحفظ بھی چاہتی ہے، ملک میں ایسی سیاسی فضا بنا دی جاتی ہے اور ایسی جماعتوں کو مسلط کردیا جاتا ہے کہ جنہیں قرآن وسنت سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، ایک وقت تھا جب پاکستان نے چین کو قرضہ دیا آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔
انکا کہنا تھاپاکستان مسلسل تنزل کی طرف جا رہا ہے اور طاقتور قوتیں سمجھتی ہیں کہ نظام ہمارے ہاتھ میں ہونا چاہیے، آئی ایم ایف نے گلے سے پکڑا ہوا ہے اپنی شرائط منوانا رہا ہے۔
مولانافضل الرحمن نے کہا عمران خان کے بارے میں پہلے سے کہا تھا کہ بیرونی ایجنٹ ہے، امریکہ اور بھارت سے پیسے ملتے ہیں، میرا جو سخت موقف تھا، ہمارے ساتھی بھی کہتے ہیں کہ فضل الرحمان غیر ضروری سختی کر رہا ہے لیکن آج سب عیاں ہوگیا، بیرونی ایجنڈے پر کمپرومائز نہیں کیا، ریاست معاشی طور پر دیوالیہ ہوجائے تب بغاوت ہوتی ہے، ہمارے صوبوں میں وہ قوتیں موجود ہیں جو اس انتظار میں ہیں کہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
