بوسنیائی صدر کا دورہ پاکستان، مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط

پاکستان اور بوسنیا ہرزیگوینا کے درمیان 3 ہزار غیر قانونی مہاجرین کی واپسی کے لیے دو طرفہ معاہدے پر دستخط کر لیے گئے.
اس معاہدے پر بوسنیا ہرزیگوینیا کے ٹری پارٹائٹی پریزیڈنسی چیئرمین شفیق جعفروچ کے 2 روزہ دورے کے دوران دستخط کیے گئے، ان کے ساتھ اعلیٰ سطح کے وفد میں سیکیورٹی کے وزیر اور صدارتی مشیر بھی شامل ہیں، اس معاہدے پر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے بعد دستخط کیے گئے۔ بوسنیا ہرزیگوینا کو مہاجرین کے بحران کا سامنا رہا ہے کیونکہ برسوں سے یہ غیر قانونی ہجرت کے لیے ایک اہم راستہ رہا ہے، سرکاری دعوی کے مطابق غیر قانونی مہاجرین میں پاکستانیوں کی تعداد تقریباً 23 فیصد یا 3 ہزار کے قریب ہے۔ غیر قانونی مہاجرین کا مسئلہ دونوں ممالک میں اس وقت متنازع بنا جب رواں سال اپریل میں بوسنیا ہر زیگوینا کی جانب سے غیر قانونی مہاجرین کو ڈیپورٹ کیا گیا۔ اس معاہدے کی پیشکش بوسنیا ہر زیگوینا نے کی تھی جس پر پاکستان کی وزارتِ داخلہ اور بوسنیا ہرزیگوینا کی سیکیورٹی کی وزارت نے کی بات چیت کی تھی۔ اس معاہدہ کے ذریعے غیر قانونی پاکستانی مہاجرین کو قانونی بنیادوں پر وطن واپس لایا جائے گا، وہ واپس داخلے کے عمل سے اپنے وطن واپس آئیں گے اور پاکستانی حکام ان کو قبول کرنے پر پابند ہوں گے۔ بات چیت کے دوران دونوں جانب سے معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، سائنس و ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت اور تعلیم و ثقافت میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان اور بوسنیا ہرزیگوینیا کے ٹری پارٹائٹی پریزیڈنسی چیئرمین نے بات چیت کے بعد تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات کے دوران دوطرفہ تجارت اور تعاون پر زور دیا گیا جبکہ یورپ میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بھی بات کی۔ عمران خان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان صرف 45 لاکھ یورو کی دوطرفہ تجارت کی جاتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے تجارت کو بڑھانے پر بات کی ہے اور ہم تجارت سمیت دیگر شعبوں میں بھی تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے ملاقات کا سلسلہ جاری رکھیں گے’۔ بوسنیا ہرزیگوینیا کے پریزیڈنسی چیئرمین شفیق جعفروچ نے اپنے دورے کے دوران پاکستانی کاروباری شخصیات سے بھی ملاقات کریں گے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر بھی بات کی گئی، انہوں نے زور دیا کہ ‘کسی کو بھی آزادی اظہار رائے کی آڑ میں لاکھوں مسلمانوں کے جذبات کو تکلیف پہنچانے کا حق نہیں ہے’۔ وزیر اعظم نے بوسنیا ہرزیگوینا کے رہنماؤں کو بھارت کی وجہ خطے کی سیکیورٹی اور امن کو لاحق خطرات سے بھی آگاہ کیا اور انہیں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کی جانے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں بھی بتایا۔ دوسری جانب بوسنیا ہرزیگوینیا کے پریزیڈنسی چیئرمین شفیق جعفروچ نے انسانی حقوق کے لیے احترام کی ضرورت اور مقبوضہ کشمیر کے اقوام متحدہ کے سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل پر زور دیا اور ساتھ ہی ساتھ وزیر اعظم کی جانب سے کووڈ 19 پر قابو پانے میں مدد کی پیشکش بھی کی گئی۔ پریزیڈنسی چیئرمین شفیق جعفروچ نے وزیراعظم عمران خان کو بوسنیا اور ہرزیگوینا آنے کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد ہی بوسنیا کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کی جانب سے اسلام آباد فارن سروس اکیڈمی میں بوسنیا ہرزیگوینا کے نوجوان سفارتکاروں کو تربیت دینے کے لیے ٹریننگ پروگرام کی بھی پیشکش کی گئی۔ یہ پیشکش پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پریزیڈنسی چیئرمین شفیق جعفروچ سے ملاقات کے درمیان کی گئی۔ وزیر خارجہ نے سفارتکاری کی سطح پر تعاون کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط ہونے پر اعتماد کا اظہار کیا۔ فارن سروس اکیڈمی وزارت خارجہ سے تعلق رکھنے والے سفیروں اور دیگر عہدیداروں کو تربیت دینے سمیت دوست ممالک کے سفیروں کو بھی ان کے کیریئر سے متعلق تربیت فراہم کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button