سری لنکا سے 41 قیدی پاکستان پہنچ گئے

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی ایک چارٹرڈ پرواز کے ذریعے سری لنکا کی جیلوں میں مختلف مقدمات میں قید کاٹنے والے 41 پاکستانی قیدیوں کو وطن واپس لایا گیا ہے۔
2004 میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان قیدیوں کے تبادلے سے متعلق دو طرفہ معاہدہ کیا گیا تھا، جس کے تحت 7 سال کے عرصے میں پہلی مرتبہ قیدیوں کا تبادلہ کیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت ان کیسز میں قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے گا جن میں 6 ماہ سے زائد قید کی سزا سنائی گئی ہو۔ اس طرح قیدی اب اپنے خاندان اور دوستوں سے قریب رہ کر اپنی باقی کی سزائیں اپنے ملک میں پوری کریں گے، پاکستان واپس لانے کے بعد ان قیدیوں کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے۔ کولمبو سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سری لنکا میں پاکستانی ہائی کمشنر میجر جنرل (ر) محمد سعد خٹک نے بندرا نائیکے انٹرنیشنل ایئرپورٹ (بی آئی اے) پر قیدیوں کو الوداع کہا۔ پاکستانی ہائی کمشنر نے وطن واپس جانے والے قیدیوں سے بات کرتے ہوئے انہیں پاکستان پہنچ کرمستقبل میں اس طرح کے جرائم سے دور رہنے کا مشورہ دیا تاکہ وہ اپنے پیاروں کے ساتھ بہتر زندگی گزار سکیں۔ قیدیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘جیل میں زندگی بالکل اطمینان بخش نہیں ہے خاص طور جب آپ اتنے طویل عرصے تک اپنے جرم کی سزا اپنے وطن، خاندان سے دور رہ کر برداشت کررہے ہوں’۔ ائیر بس اے 320 کی ایک چارٹرڈ فلائٹ پی کے-9872 کے ذریعے قیدیوں کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور نادرا کے افسران کی تحویل میں اسلام آباد پہنچایا گیا۔ جسٹس پروجیکٹ پاکستان (جے پی پی) نامی سول سوسائٹی کی تنظیم جو کہ پاکستانی اور دوسرے ملکوں کی جیلوں میں موجود کمزور اور مجبور قیدیوں کو مفت قانونی مدد فراہم کرتی ہے سری لنکا سے پاکستان آنے والے قیدیوں کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے تارکین وطن کے حقوق کے تحفظ سے متعلق کیے گئے وعدے کو قیدیوں کی وطن واپسی سے نئی جہت ملی ہے۔ تنظیم کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ سال وزیراعظم خان نے سعودی عرب کے شہزادے محمد بن سلمان سے سلطنت سے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کی درخواست کی تھی جس پر سعودی شہزادے نے 2 ہزار 107 پاکستانی قیدیوں کو چھوڑنے کا وعدہ کیا تھا تاہم یہ وعدہ اب تک پورا نہ ہوسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مختلف جرائم میں سزا یافتہ 87 پاکستانی قیدی سری لنکا مین جبکہ 11 ہزار سے زائد بیرون ملک جیلوں میں قید ہیں.
