بٹ کوائنز کی آن لائن خرید آپ کو کنگال کر سکتی ہے


خبردار، ہوشیار! کرپٹو کرنسی کی آن لائن خرید و فروخت آپ کو کنگال بھی کر سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی اور آن لائن خرید وفروخت کی باریکیوں سے عدم واقفیت اور کسی پر بے جا انحصار کی صورت میں کرپٹو کرنسی یعنی بٹ کوائنز سے پیسے کمانے کی خواہش نے بہت سوں کو کنگال کردیا ہے کیونکہ پاکستان سمیت دنیا کے کسی بھی ملک میں اس حوالے سے کوئی قوانین ہی موجود نہیں ہیں لہذا اگر آپ کے ساتھ فارغ ہو جائے تو اس کا مداوا ممکن نہیں ہے۔

ماہرین کے مطابق سینٹرلائزڈ کرنسی کا روپ دھارنے والے بٹ کوائنز کی قدر میں اضافے کے ساتھ اس میں دھوکہ دہی اور نوسر بازی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ گذشتہ چند برسوں سے کرپٹو کرنسی یا بٹ کوائن آن لائن کرنسی کی خرید و فروخت دنیا بھر میں ہو رہا ہے۔ اس کام میں بیشتر افراد ایسے ہیں جو اپنے کالے دھن کو سفید کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کئی گھر بیٹھے راتوں رات امیر بننے کے خواب دیکھتے ہوئے اس کاروبار سے وابستہ ہوتے ہیں لیکن جو لوگ ٹیکنالوجی اور آں لائن خرید وفروخت کی باریکیوں کو نہیں جانتے وہ بٹ کوائن سے پیسے کمانے کی بجائے الٹا اپنا سب کچھ لٹا بیٹھتے ہیں۔ بڑا مسئلہ یہ ہے اس فراڈ کا شکار ہونے والوں کی داد رسی کے لئے قوانین بھی سرے سے موجود نہیں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو حال ہی میں نامعلوم افراد نے اسلحے کے زور پر اغوا کیا اور اس سے بٹ کوائن کی خریداری کے لیے جمع کیے گئے 2 لاکھ 50 ہزار روپے مالیت کے امریکی ڈی ٹی ایک فرضی اکاؤنٹ میں منتقل کرا لیے۔ متاثرہ شخص کے مطابق پولیس نے شکایت پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم ونگ سے رجوع کرنے کو کہا لیکن ایف آئی اے حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ ابھی تک ایسا کوئی قانون موجود نہیں جس کے ذریعے اس کی آن لائن کرنسی واپس دلوائی جاسکے۔ تاہم ادے نامعلوم افراد کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

اسی طرح کچھ عرصہ قبل بھی لاہور سے دو غیر ملکی باشندوں کو اغوا کر کے انکے پاس موجود بٹ کوائنز بھی ٹرانسفر کرا لئے گئے تھے۔ آسٹرین باشندے میگرون ماریہ سپاری کے بیٹے نے اپنے والد کے اغوا کاروں کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر 1.8 بٹ کوائنز اغوا کاروں کے بتائے گے اکاؤنٹ میں جمع کروادیے۔ ان بٹ کوائنز کی پاکستانی کرنسی میں مالیت تقریباً ایک کروڑ 41 لاکھ روپے بنتی تھی۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ آن لائن کرنسی کے ذریعے فراڈ پکڑنا ناممکن کیوں ہے؟ اس حوالے سے بٹ کوائنز کی خرید و فروخت سے وابستہ معروف اینکر پرسن وقار ذکا کہتے ہیں کہ پوری دنیا میں کرپٹو کرنسی یا بٹ کوائنز سے متعلق ہونے والے فراڈ پر قابو پانے یا آن لائن کرنسی واپس دلانے کا کوئی قانون موجود نہیں کیونکہ یہ ایسا نظام ہے کہ اس کاروبار سے وابستہ افراد کو خود ہی فراڈ سے بچنا ہوتا ہے۔وقار کے بقول دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے بھی بہت شہری اس کاروبار سے منسلک ہوچکے ہیں لیکن یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں سب سے پہلے اس کام میں دیگر کاروباروں کی طرح مہارت حاصل کرنا لازمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں بھی اتنی مہارت ہو جتنی ہارٹ سرجن کو اپنے کام کی مکمل آگاہی ہوتی ہے مسئلہ تب ہوتا ہے جب کسی اور پر انحصار کیا جائے۔ وقار ذکا نے کہا کہ بذریعہ انٹرنیٹ آن لائن ہونے والا صرف کرپٹو کرنسی کا ہی نہیں بلکہ دیگر بہت سے کاروبار ہیں جن میں رقوم کی واپسی ممکن نہیں کیونکہ اگر کوئی کسی کو لنک بھیجتا ہے اور وہ اس کو قبول کر کے اس کے ذریعے کرنسی یا کسی اعر چیز کی خریدو فروخت کرتا ہے تو اس کا کنٹرول تو لنک بھیجنے والے کے پاس ہوگا لہٰذا وہ باآسانی کسی کو بھی دھوکہ دیکر کرنسی یا کوئی بھی چیز اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کر سکتا ہے جس کی واپسی پوری دنیا میں کسی کے بس کی بات نہیں۔

وقار ذکا کے مطابق کرپٹو کرنسی سے متعلق کسی ایک ملک کی حکومت موثرحکمت عملی نہیں بنا سکتی بلکہ اس کے لیے دنیا کے دیگرممالک کو بھی یکساں نظام رائج کرنا ہوگا پہلے تو یہ طے نہیں ہوسکا کہ یہ کاروبار قانونی ہے یا غیر قانونی لہازااس میں فراڈ کرنے والوں کو کیسے پکڑا جاسکتا ہے۔ان کے مطابق ابھی تو مختلف ویب سائٹس اور کمپنیز اپنے اپنے طور پر اس کرنسی کا اجرا کر رہی ہیں۔ اس کام سے وابستہ لوگوں کو خود ہی اپنی مہارت کے ذریعے ہیکرز اور فراڈ کرنے والوں سے بچاؤ کرنا ہوتا ہے اس لیے کسی پر اعتماد کرنے کے بجائے ہر ایک کو پہلے خود مکمل طور پر اس کاروبار کی سوجھ بوجھ حاصل کرنی چاہئے۔

ایف آئی اے لاہور کے لیگل سیل کے ڈائریکٹر منعم چودھری کہتے ہیں کہ پاکستان میں آن لائن جرائم پر قابو پانے کے لیے الیکٹرانک کرائم ایکٹ میں 2016 کے دوران ترامیم کی گئی تھیں لہذا ایف آئی اے اسی قانون کے تحت آن لائن فراڈ میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے جبکہ آئے روز جدید طرز کے جرائم کی روک تھام کے لیے قوانین بھی مسلسل اپ گریڈ ہونے چاہیں۔

Back to top button