بٹ کوائن پر پابندی کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان


حکومت پاکستان کی جانب سے بٹ کوائن، لائٹ کوائن اور پاک کوائن سمیت تمام کرپٹو اور ورچول کرنسی کو غیر قانونی قرار دیئے جانے کا فیصلہ عوام کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہے اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ معروف ٹی وی میزبان اور پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے ماہر سمجھے جانے والے وقار زکا نے کہا ہے کہ بھارت اور ویت نام کے بعد پاکستان دنیا بھر میں تیسرا ملک ہے جہاں پر کرپٹو کرنسی میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری ہوئی ہے جبکہ امریکہ آٹھویں نمبر پر ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب پاکستان میں بڑی تعداد میں لوگوں نے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کی ہوئی ہے، حکومت نے کرپٹو کرنسی کو غیر قانونی قرار دے دیا یے۔ وقار زکا کا کہنا تھا کہ حکومت کو سمجھنا چاہئے کہ کرپٹو کرنسی سے پاکستان کا تمام قرضہ اتر سکتا ہے مگر حکومت بضد ہے کہ کرپٹو پر عائد پابندی نہیں ہٹائی جائے گی۔

وقار زکا نے کہا کہ اگر حکومت پاکستان نے بٹ کوائن سمیت تمام کرپٹو کرنسیز کے استعمال پرعائد پابندیاں نہ ختم کیں تو اسلام آباد کے راستوں پر ’کرپٹو مارچ‘ کیا جائے گا۔ اس وقت سماجی رابطوں کی سائٹ ٹوئٹر پر دھرنا ودھ وقار زکا ٹرینڈ کر رہا ہے۔ جب وقار زکا سے پوچھا گیا کہ کیا یہ دھرنا صرف انٹرنیٹ تک ہی محدود رہے گا یا حقیقت میں بھی کوئی احتجاج ہوگا؟ جواب میں انھوں نے کہا جلد ہی اسلام آباد کے راستوں پر بٹ کوائن سمیت تمام کرپٹو کرنسیز پر عائد پابندیوں کے خلاف کرپٹو مارچ کے نام سے احتجاج ہوگا جس میں کرپٹو کے حامی بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔

واضح رہے کہ وقار زکا کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کراچی میں سٹیٹ بینک آف پاکستان اور حکومت پاکستان کو حریف بناتے ہوئے دو الگ الگ پٹیشنز دائر کی گئی ہیں جن کی پیروی کسی وکیل کے بجائے خود وقار زکا کریں گے۔وقار نے موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان کے کس قانون کے تحت بٹ کوائن سمیت کرپٹو پر پابندی عائد کی گئی ہے؟ وقار زکا کے مطابق: ’پاکستان میں بینکس نے اپنی شاخوں میں نوٹس اور بل بورڈ آویزاں کیے ہوئے ہیں جس میں بینکس نے حوالہ اور ہنڈی، منی لانڈرنگ، دہشتگردی کے معاونت کی رقم کے ساتھ بٹ کوائن، لائٹ کوائن، پاک کوائن سمیت تمام کرپٹو اور ورچول کرنسی کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

اگر حکومت پاکستان سمجھتی ہے کہ کرپٹو کرنسی، دہشتگردی کے معاونت کے لیے استعمال ہوگی، تو پھر امریکہ جیسے ملک نے کیوں اسے اور ورچول کرنسیز کو اپنے ملک استعمال کرنے کی اجزات دی ہوئی ہے؟وقار کا کہنا ہے کہ حوالہ اور ہنڈی میں یہ پتہ نہیں لگایا جاسکتا کہ کتنی رقم بھیجی گئی، مگر کرپٹو تو آن لائن ہے جسے ٹریس کیا جاسکتا ہے۔

ان کے مطابق امریکہ اور برطانیہ میں حکومت آن لائن ٹریس کرکے لوگوں سے ٹیکس وصول کرہی ہیں کہ آپ کے پاس اتنی کرپٹو کرنسی ہے آپ ٹیکس ادا کریں۔ پاکستان میں کرپٹو کو قانونی بنانے کے بعد ٹیکس وصولی بھی کی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ وقار زکا کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں کیے گے کیس کا فیصلہ ان کے خلاف سنایا گیا تھا جس میں کہا گیا کہ کرپٹو کرنسی سے نوٹ چھاپا جائے گا جبکہ پاکستان میں نوٹ پرنٹ کرنے کی اجازت صرف سٹیٹ بینک آف پاکستان ہی کو ہے، اس لیے اسے قانونی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

وقار زکا کے مطابق یہ فیصلہ خاموشی سے سنایا گیا اور ان کو مطلع بھی نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے رواں برس مئی میں خیبر پختونخوا حکومت نے وقار زکا کو سرکاری طور پر کرپٹو ایکسپرٹ مقرر کرکے ایک ایڈوائزری کمیٹی بنائی تھی جو بقول وقار اب فعال نہیں رہی۔دوسری جانب نیشنل سینٹر برائے بیگ ڈیٹا اینڈ کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے سربراہ اور کرپٹوکرنسی کی مائننگ کی تکنیک پر کام کرنے والے محسن طارق نے بتایا کہ ’کرپٹو کرنسی کو دنیا کے کئی ممالک میں قانونی حیثت حاصل ہے۔ وہاں کے لوگ کرپٹو میں سرمایہ کاری کرکے اس سے منافع کما کر وہاں کی حکومتوں کو بھاری ٹیکس ادا کررہے ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان میں بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے بٹ کوائن سمیت مختلف کرپٹو کرنسیز میں بہت زیادہ انویسٹمنٹ کی ہوئی ہے مگر پاکستان میں اس کے متعلق کوئی قانون نہ ہونے کے باعث اگر وہ منافع بھی کماتے ہیں تو وہ ایف بی آر کو ظاہر نہیں کرسکتے ، ان کے مطابق فی الحال پاکستان میں چین اور دیگر ممالک کی ایکسچینج باہر سے کام کررہے ہیں جو کرپٹو کرنسی خریدنے اور بیچنے کا کام کرتی ہیں۔ اگر حکومت سٹاک ایکسچینج آف پاکستان کی طرح کرپٹو کرنسی کی سرکاری ایکسچینج شروع کردے تو نہ صرف قومی خزانے میں اضافہ ہوگا بلکہ اس کے ساتھ کرپٹو میں سرمایہ کاری کرنے والوں کا ڈیٹا بھی اکھٹا ہوسکے گا۔ اس کرنسی کو قانونی شکل دی جائے۔

انہوں نے بتایا کہ کرپٹو دراصل ڈیجیٹل سرمایہ کاری کا ایک طریقہ کار ہے جسے آن لائن خریدا اور فروخت کیا جاتا ہے۔ یہ آن لائن یا ڈیجیٹل کرنسی جو کسی حکومت یا بینک کے قواعد و ضوابط کی پابندیوں سے مستثنی ہوتی ہیں اور انہیں کوئی بھی خود سے بناسکتا ہے اور یہ جدید دور کی روایتی کرنسی کے متبادل طور پر کام کرتی ہے۔

ابھی تک دنیا بھر میں روایتی بینک اور کئی حکومتوں کی جانب سے اسے قانونی طور پر قبول نہ کرنے کے باعث اب تک صرف مخصوص مقامات یا مخصوص شعبوں میں ہی کرپٹو کے ذریعے خریداری کی جاسکتی ہے۔ اس وقت ویڈیو گیمز بنانے والے اور بیچنے والے، سوشل نیٹ ورکس والے اس ڈجیٹل کرنسی کو مانتے ہیں اور اسے قبول کرتے ہیں۔ اس ڈجیٹل کرنسی کا باضابطہ آغاز 3 جنوری 2009 کو بٹ کوائن سے کیا گیا تھا۔ 2013 میں دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی کی تعداد صرف 66 تھی۔ مگر اکتوبر 2021 میں یہ تعداد بڑھ کر 6800 سے تجاوز کرگئی ہے۔

Back to top button