کیا گورنر اسٹیٹ بینک اتنی بڑی بونگی بھی مار سکتا ہے؟

روپے کی تاریخی گراوٹ اور ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کو ایک اچھا اور فائدہ مند ٹرینڈ قرار دینے جیسی بونگی مارنے کے بعد گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سدید تنقید کی زد میں ہیں۔ زیادہ تر صارفین حیرانگی کا اظہار کر رہے ہیں کہ ملکی معیشت جیسے سنجیدہ معاملے کو ڈیل کرنے والا کوئی شخص ایسی غیر سنجیدہ گفتگو بھی کر سکتا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اکانومی کے معاملات کیسے بونگے افراد کے ہاتھوں میں دے رکھے ہیں۔
یاد رہے کہ رضا باقر نے ایک حالیہ تبصرے میں کہا ہے کہ اگر ڈالر کی قیمت بڑھ رہی ہے تو اچھی بات ہے کیونکہ اس سے ان پاکستانیوں کا فائدہ ہے جو بیرون ملک سے رقم پاکستان بھجواتے ہیں، یوں اب انکے گھر والوں کو ڈالر کے مقابلے میں زیادہ روپے مل رہے ہوں گے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ رضا باقر نے ایسا بے تکا اور واحیات بیان داغ کر ان پاکستانیوں کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے جو کہ پاکستان میں مہنگائی کے طوفان سے شدید پریشان ہیں۔ خیال رہے کہ اس سے پہلے قبل خیبر پختونخوا کے وزیر شوکت یوسفزئی نے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر بڑھنے پر یہ کہہ کر خوشی کا اظہار کیا تھا کہ اس طرح ہمیں ڈالر کے بدلے زیادہ روپے ملیں گے۔ تاہم رضا باقر جیسے نام نہاد ماہر معیشت کی جانب سے ایسا بیان آنا کسی مذاق سے کم نہیں ہے۔ یاد رہے کہ رضا باقر نے برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر گرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایکسیچینج ریٹ کے اوپر جانے سے کچھ لوگوں کا نقصان ہوتا ہے لیکن کچھ لوگوں کا فائدہ بھی ہوتا ہے۔۔۔ تو جن لوگوں کو فائدہ ہوا ہے، انھیں ہمیں نہیں بھولنا چاہیے۔رضا باقر کا مزید کہنا تھا کہ اس سال میں اگر مثال کے طور پر ہماری ترسیلات زر مثال کے طور پر 30 ارب ڈالر کی ہو جاتی ہے اور اگر ہماری کرنسی کی قدر 10 فیصد بھی گرتی ہے تو یہ تین ارب ڈالر اضافی اوورسیز پاکستانیوں کے خاندانوں تک پہنچ رہے ہیں۔ پانچ سو ارب اضافی پیسہ لوگوں کو پہنچ رہا ہے۔ ہر معاشی پالیسی میں کچھ لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے کچھ کو فائدہ نہیں ہوتا ہے، تو جب آپ بات کرتے ہیں کہ جن لوگوں کو فائدہ نہیں ہوا ہے، تو جن لوگوں کو فائدہ ہوا ہے، انھیں ہمیں نہیں بھولنا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر صارفین کی اس بیان کو سننے کی دیر تھی کہ اس حوالے سے شدید تنقید شروع ہو گئی۔ اس تنقید کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حالیہ عرصے میں پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث ملکی معیشت اور اس حوالے سے کیے گئے فیصلوں پر پہلے ہی تنقید کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے اکثر سوشل میڈیا صارفین یہ سوال بھی پوچھتے دکھائی دیے کہ ‘کیا یہ مذاق ہے؟’ اس بیان کے حوالے سے جہاں اکثر صارفین معاشی اصولوں کے حساب سے اس کی منطق کے بارے میں سوال کر رہے ہیں وہیں کچھ صارفین یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ کیا پاکستان کے مرکزی بینک کے گورنر کو صرف بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور ان کے خاندانوں کا خیال ہے، اور ملک کے باقی عوام کی فکر نہیں ہے۔ صلاح الدین احمد نے رضا باقر کے اس بیان پر ایک مختلف پہلو پر زور دیا اور کہا کہ اس نظریے کی بنیاد یہ انوکھی رائے ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ترسیلات زر بھیج کر پاکستان پر احسان کرتے ہیں۔ وہ اپنے خاندان کو رقوم بھجواتے تاکہ وہ خریداری کر سکیں، وہ یہ رقم پاکستان کی حکومت کو عطیہ نہیں کرتے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ آپ یہ سوچیں کہ والمارٹ اور ایچ اینڈ ایم پاکستان کے محسن ہیں کیوںکہ وہ یہاں سے خریدی جانے والی چیزیں ڈالروں میں خریدتے ہیں۔
ماہر معاشیات عمار خان کا کہنا ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کو اپنے قانون میں ترمیم کرتے ہوئے مرکزی بینک کا نام تبدیل کر کے سٹیٹ بینک برائے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی رکھ دینا چاہیے۔ روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے کے علاوہ اس کے پاس بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو خوش رکھنے کا قانونی حق بھی ہونا چاہیے۔نورین
حیدر نامی صارف نے لکھا کہ یہ ناقابلِ یقین ہے۔ یہ شخص گورنر سٹیٹ بینک ہیں؟ یہ بہت خوفناک بات ہے۔ اگر ان کی سمجھ بوجھ کا یہ معیار ہے اور یہ آئی ایم ایف سے پاکستان کی طرف سے مذاکرات کریں گے تو پاکستان کو سخت خطرہ ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ یہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر ہیں، بیرونِ ملک پاکستانیوں کے نہیں۔ انھیں 20 کروڑ افراد کے لیے روپے کی قدر کو بہتر کرنا ہے نہ کہ کچھ ہزار افراد کے لیے اچھا ایکسچینج ریٹ یقینی بنانا۔ایک صارف اسد سلطان نے پاکستان میں مہنگائی کی طرف توجہ دلوائی۔ خیال رہے کہ پاکستان ادارہ برائے شماریات کے مطابق جنوری 2020 کے بعد سے پاکستان میں مہنگائی کی شرح 17 اعشاریہ آٹھ فیصد رہی۔ اسد سلطان نے لکھا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں ہر چیز بہت زیادہ مہنگی ہو چکی جس کا مطلب ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو زیادہ پیسے بھیجنے پڑتے ہیں۔ اس لیے اس کی حتمی نتیجہ پھر صفر ہی آتا ہے۔ ذرا سوچیں کہ آپ کے ملک کے مرکزی بینک کے گورنر کی سوچ اتنی بچگانہ ہے۔ صارف طاہر محمود چوہدری نے لکھا کہ ‘کوئی اس گورنر کو بتائے کہ۔۔۔ یہ جو فائدہ اپ بتا رہے ہیں۔۔ سارا سبزی کی ریٹری پر نکل جاتا ہے۔۔ سبزی والہ بیگن مہنگا کرنے کی وجہ ڈالر مہنگا ہونا بتاتا ہے۔۔ حد ہے ایسے ماہر معاشیات کی۔ سیاست اور معیشت پر تحقیق کرنے والے بلال غنی نے گورنر سٹیٹ بینک کے بیان کے جواب میں اعداد و شمار کی بنیاد پر دلیل دی۔ انھوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر نے کہا کہ روپے کی قدر گرنے سے لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے، بالکل ہوتا ہے لیکن صرف پانچ سے سات فیصد گھرانوں کو۔
پاکستان کی 22 کروڑ آبادی تین کروڑ گھرانوں میں تقسیم ہے، یعنی ہر گھر میں لگ بھگ سات افراد، اس طرح ان تین کروڑ خاندانوں میں سے صرف 15 لاکھ خاندان ہی اس سے مستفید ہوں گے اور دو کروڑ 85 لاکھ گھرانے متاثر ہوں گے۔ جمال عبداللہ عثمان نامی صارف نے لکھا کہ یہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں کہ چند لاکھ افراد کی خاطر 22 کروڑ عوام کو نچوڑا جا رہا ہے؟ عمران وسیم نامی صارف نے لکھا کہ رضا باقر صاحب کی منطق سے اگر اتفاق کر لیا جائے تو یہ بھی بتا دیں کہ روپیہ گرنے سے قرضوں میں کتنا اضافہ ہوتا ہے، ملک پر قرضوں کے بوجھ میں کتنا اضافہ ہوتا ہے، اگر صرف فائدہ ہی دیکھنا ہے تو روپیہ کو کنٹرول نہ کریں، گرنے دیں کیونکہ کسی کو تو فائدہ ہو گا۔ ناصر بیگ چغتائی نے لکھا کہ یہ بیرون ملک مقیم جو پیسے گھر بھیجتے ہیں وہ پاکستان میں خرچ ہوتے ہیں جو مہنگائی میں چوتھی پوزیشن پر ہے اور تیسری کے لیے برازیل سے مقابلہ کر رہا ہے۔
