بچے کھچے پاکستان کو بچانا ناممکن کیوں ہوتا جا رہا ہے؟

سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ آج قائد اعظم محمد علی جناح کے پاکستان میں کسی کو آئین شکنی سے روکنا ایک خطرناک عمل ہے کیونکہ جواب میں آئین کو بوٹ کی نوک پر رکھنے والے فوری طور پر آپ کو غدار قرار دے ڈالیں گے۔ انکا کہنا یے کہ 16 دسمبر 2021ء کو سقوط ڈھاکا کے پچاس برس مکمل ہو جائیں گے لیکن افسوس کے اسکے باوجود کسی نے کوئی سبق نہیں سیکھا اور بچے کچھے پاکستان کو بھی مسلسل جھوٹ اور نفرت کی آگ میں جلایا جا رہا ہے۔ وہ وارننگ دیتے ہیں کہ اگر آج یہ سلسلہ روکا نہ گیا تو پھر باقی ماندہ پاکستان کو بچائے رکھنا بھی ناممکن ہو جائے گا۔
اپنی خصوصی تحریر میں حامد میر کہتے ہیں کہ آج کے پاکستان میں کسی کو کام چوری سے روکنا بھی کافی خطرناک ہے۔ اگر کام چوری سے روکنے والا غیر مسلم ہو تو اس کے ساتھ وہی سلوک ہو سکتا ہے، جو کچھ دن پہلے سیالکوٹ میں ایک فیکٹری کے سری لنکن مینجر پریانتھا کمارا کے ساتھ ہوا۔ سری لنکن مینجر بہت ایماندار شخص تھا۔ غریبوں کی مدد کرتا تھا لیکن کام کے معاملے میں وہ رعایت نہیں دیتا تھا۔ وہ کام چوروں کے ساتھ سختی کرتا تھا بلکہ انہیں برخاست بھی کر دیتا تھا۔ ایسے ہی کچھ کام چوروں نے اسلام کی آڑ میں اس ایماندار شخص پر جھوٹا الزام لگا کر پہلے اُسے قتل کیا اور پھر اس کی لاش کو چوک میں جلا کر سیلفیاں بناتے رہے۔ بہت سارے لوگ حیران ہیں کہ اسلام تو امن اور سلامتی اور سچائی کا درس دیتا ہے تو پھر مسلمان کسی پر جھوٹا الزام لگا کر اُسے قتل کیسے کر سکتے ہیں؟
لیکن حامد میر کہتے ہیں کہ حیرانی کی کوئی بات نہیں۔ قائد اعظم کے پاکستان میں ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔پاکستان بننے سے پہلے قائد اعظم پر بھی کفر کے فتوے لگائے گئے۔ ایک مرتبہ تو انہیں انگریزوں کا ایجنٹ قرار دینے والوں نے اُن پر قاتلانہ حملہ بھی کروا دیا لیکن قائد اعظم بچ گئے۔ ان پر خنجر سے حملہ کرنے والے شخص کا نام رفیق صابر مزنگوی تھا اور اس کا تعلق خاکسار تحریک سے تھا۔
اس شخص نے 26 جولائی 1943ء کو قائد اعظم پر ممبئی میں حملہ کیا۔ حملے میں قائد اعظم کی ٹھوڑی پر زخم آیا لیکن انہوں نے حملہ آور کا وار اپنے ہاتھ سے روک لیا۔ اس سے قبل محمد علی جناح کو رفیق صابر مزنگوی کے ساتھیوں نے خطوط لکھے تھے کہ اگر انہوں نے گاندھی جی کے ساتھ اتحاد نہ کیا تو انہیں گولی مار دی جائے گی۔
گاندھی چونکہ سیکولرازم کے نام پر ہندوؤں کے مفادات کا تحفظ کر رہے تھے، اسی لیے جناح نے کانگریس چھوڑ کر آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ گاندھی سے ہاتھ نہ ملانے پر قائد اعظم کو انگریزوں کا ایجنٹ قرار دیا گیا اور کافر اعظم بھی کہا گیا۔ لیکن اس معاملے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ قائد اعظم پر قاتلانہ حملہ کرنے والا بھی ایک مسلمان تھا اور ان پر کفر کے فتوے بھی مسلمانوں نے لگائے۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ صرف قائد اعظم ہی نہیں بلکہ ڈاکٹر علامہ اقبال پر بھی کفر کے فتوے لگائے گئے کیونکہ جناح کی طرح اقبال کو بھی کچھ حاسدین انگریزوں کا ایجنٹ قرار دیتے تھے۔ ایسے ہی کسی حاسد نے 1925ء میں لاہور کی مسجد وزیر خان کے خطیب مولوی دیدار علی شاہ الوری کو اقبال کے لکھے ہوئے کچھ اشعار بھیجے۔ ان میں ایک شعر یہ بھی تھا،
غضب ہیں یہ مُرشدانِ خود بیں، خُدا تری قوم کو بچائے،
بگاڑ کر تیرے مسلموں کو یہ، اپنی عزّت بنا رہے ہیں
مولوی دیدار نے ان اشعار کی بنیاد پر شاعر کو کافر قرار دے دیا۔ سازش کرنے والے کی چالاکی دیکھیے کہ اس نے مولوی دیدار سے فتویٰ لے کر مولانا ظفر علی خان کے اخبار زمیندار کو بھجوا دیا۔ مولانا ظفر علی خان اور ان کے نائب مدیر غلام رسول مہر دونوں بیرون ملک تھے لہذا یہ فتویٰ زمیندار میں شائع ہو گیا۔ بقول حامد میر، جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے اپنی کتاب ”زندہ رود‘‘ میں مولوی دیدار کا فتویٰ من و عن شائع کیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ فتوے کی اشاعت پر علامہ اقبال کی بجائے فتوی دینے والے موصوف مولوی کی مذمت ہوئی۔
بعد ازاں 1926ء میں علامہ اقبال نے لاہور سے پنجاب اسمبلی کے لیے الیکشن لڑا تو مخالف امیدوار ملک محمد دین نے انہیں وہابی قرار دے دیا اور اہل سنت والجماعت کے نام پر ووٹ مانگنے لگا، لیکن علامہ اقبال یہ الیکشن پھر بھی جیت گئے۔ 1927ء میں ایک ہندو پبلشر راج پال نے رنگیلہ رسول کے نام سے ایک کتاب شائع کر کے ہندو مسلم نفرتوں کی آگ بھڑکا دی۔ علامہ اقبال نے پنجاب اسمبلی میں 25 جولائی 1927ء کو ایک قرارداد کے ذریعے توہین انبیاء و بزرگانِ دین کے انسداد کے لیے قانون بنانے کا مطالبہ کیا۔ چنانچہ یہ قانون بنا کر نافذ کر دیا گیا۔مسلمانوں نے اس قانون کے تحت راج پال کے خلاف مقدمہ درج کرایا لیکن اسے کوئی سزا نہ ملی۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ 1929 میں لاہور میں ایک نوجوان غازی علم دین نے راج پال کو قتل کر دیا۔ لاہور ہائی کورٹ میں غازی علم دین کا مقدمہ قائد اعظم نے لڑا لیکن غازی علم دین کو پھانسی کی سزا ملی۔ پھانسی کے بعد غازی علم دین کو لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں دفن کیا گیا اور ان کے جسد خاکی کو قبر میں علامہ اقبال اور مولوی دیدار نے مل کر اتارا۔
لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ غازی علم دین کی حمایت کرنے والے علامہ اقبال اور قائد اعظم بعد میں بھی کئی مذہبی شخصیات کے الزامات اور فتوؤں کی زد میں رہے۔ کانگریس کے حامی مسلمانوں کے پروپیگنڈا کے باعث، جب ایک مسلمان محمد علی جناح پر حملہ آور ہو گیا تو کچھ مسلمان علماء بھی کھل کر قائد اعظم اور آل انڈیا مسلم لیگ کی حمایت میں سامنے آ گئے۔ کانگریسی علماء نے گاندھی، نہرو اور سردار پٹیل کی قیادت کو شرعاﹰ جائز قرار دیا تو 1945ء میں مفتی محمد شفیح نے کانگریس کی حمایت پر کفر کا فتویٰ لگا دیا۔ مفتی رفیع عثمانی نے مفتی محمد شفیع کی زندگی پر لکھی گئی کتاب ”حیاتِ مفتی اعظم‘‘ میں وہ تفصیل بیان کی ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے کچھ علماء نے کن وجوہات کی بنیاد پر قائد اعظم کی حمایت شروع کی، جن کا تعلق ایک شیعہ خاندان سے تھا۔
حامدمیر مزید بتاتے ہیں کہ سید صابر حسین بخاری نے ”قائد اعظم کا مسلک‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی، جس میں بریلوی علماء کے ساتھ قائد کی قربت کی تفصیل موجود ہے۔ اس کتاب میں وہ فتوے بھی موجود ہیں، جو مسلم لیگ کے حامی بریلوی علماء نے کانگریس والوں کے خلاف دیے۔ ایسی کئی کتابیں موجود ہیں، جن کو پڑھ کر پتا چلتا ہے کہ تحریک پاکستان میں قائد اعظم کا مقابلہ صرف کانگریس سے نہیں بلکہ کانگریس کے حامی فتویٰ بریگیڈ سے بھی تھا اور اس فتویٰ بریگیڈ کا مقابلہ کرنے کے لیے آل انڈیا مسلم لیگ نے بھی مختلف مکاتب فکر کے علماء کا ایک فتوی بریگیڈ تیار کیا۔ اس ”فتویٰ وار‘‘ میں آخر کار مسلم لیگ جیت گئی۔ یہ بھی خیال رہے کہ پاکستان کا خواب دیکھنے والے علامہ اقبال کا تعلق ایک سنی گھرانے سے تھا جبکہ اس خواب کو حقیقت بنانے والے محمد علی جناح کا تعلق ایک شیعہ گھرانے سے تھا۔ دونوں فرقہ واریت سے دور رہنے والے سیدھے سادھے عام مسلمان تھے، جن پر کفر کے فتوے لگائے گئے۔ لیکن یہ فتوے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب:بلدیاتی انتخابات ای وی ایم سے کرانے کی منظوری
افسوس کہ قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم زیادہ عرصہ زندہ نہ رہے۔ 1948ء میں ان کی وفات کے بعد کفر کے فتوؤں اور غداری کے الزامات کا سلسلہ جاری رہا۔ بقول حامد میر، جنرل ایوب خان نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو انڈین ایجنٹ قرار دے دیا۔ پھر انہی الزامات کے تحت شیخ مجیب الرحمان کو اگرتلہ سازش کیسں میں ملوث کیا گیا۔ عدالت میں الزام ثابت نہ ہو پایا اور شیخ مجیب الرحمان بنگالیوں کے ہیرو بن گئے۔ یوں آخرکار غداری کے الزامات نے پاکستان توڑ دیا۔ 16 دسمبر 2021ء کوسقوط ڈھاکا کے پچاس سال پورے ہو جائیں گے لیکن کسی نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ بچےکچھے پاکستان کو جھوٹ اور نفرت کی آگ میں جلایا جا رہا ہے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ وہ سلسلہ، جو مولوی دیدار اور رفیق صابر مزنگوی نے قیام پاکستان سے قبل شروع کیا تھا، اسے آج روکا نہ گیا تو پاکستان کو بچائے رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔
