بھارت کا پاکستان سے پہلے طالبان حکومت تسلیم کرنے کا امکان

سینئر صحافی نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس وقت بھارت میں افغان طالبان کی حکومت کے حوالے سے اعلیٰ سطح پر بحث جاری ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ بھارت افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن جائے۔ یاد رہے کہ ماضی میں پاکستان وہ پہلا ملک تھا جس نے 1996 میں ملا محمد عمر کی طالبان حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ تاہم نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ انڈیا سب سے پہلے طالبان کی حکومت کو تسلیم کر کے پاکستان پر بازی لے جانا چاہتا ہے تا کہ وہ افغانستان میں اپنی پوزیشن بحال کر سکے۔ یاد رہے کہ گذشتہ چند برسوں میں انڈین حکومت نے افغانستان میں تعمیر نو کے منصوبوں میں تقریباً تین ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ پارلیمان کی عمارت سے لے کر سڑکیں اور ڈیم بنانے تک کے کئی منصوبوں میں سینکڑوں انڈین ملازمین کام کر رہے ہیں۔ لہذا بھارت کے معاشی مفادات کا تقاضہ ہے کہ وہ افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرلے۔
اپنے تازہ وی لاگ میں تبصرہ کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ ایسا کر کے دراصل انڈیا افغان طالبان کو باور کروانا چاہتا ہے کہ تمہارا سب سے بڑا حمایتی ملک تو تمہاری حکومت کو تسلیم کرنے کی ہمت نہیں رکھتا لیکن ہم ایسا کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ بھارت پر نہ کسی ایف اے ٹی ایف کا پریشر ہے، نہ اسے آئی ایم ایف کے کسی دباؤ کا سامنا ہے، نہ اس پر پاکستان جیسا کوئی معاشی بوجھ ہے۔ نہ امریکی بھارت پر ویسے حکم چلانے کی پوزیشن میں ہیں جیسے وہ پاکستان کو ہدایات دیتے ہیں۔ بقول نجم سیٹھی اگر بھارت افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے میں پہل کر لیتا ہے تو پاکستان سفارتی فرسٹریشن کا شکار ہوجائے گا۔
نجم سیٹھی کے بقول بھارت ایسا کرتے ہوئے روس کو آگے رکھے گا اور اسے بھی طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ بھارت کی کوشش ہوگی کہ وہ اکیلا طاکبان حکومت کو تسلیم کرنے کے بجائے روس کے ساتھ مل کر افغانستان کی حکومت کو تسلیم کرے۔ نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے روس کو ایسا کرنے پر قائل کر لیا تو ماسکو بیجنگ کو بھائی اس معاملے میں اپنے ساتھ ملا لے گا۔ لیکن اگر ایسا ہوگیا تو پھر پاکستان کو بھی طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کے لیے فیس سیونگ مل جائے گی، تاہم بھارت پھر بھی بازی لے جائے گا۔
بھارتی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ افغان طالبان ایک طویل عرصے کے لیے اقتدار میں واپس آئے ہیں۔ ایسے میں سکیورٹی کے حوالے سے وسط اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں اور خاص طور پر انڈیا کے لیے یہ صورتحال کچھ بہت ہی چیلنجز سے بھرپور نظر آتی ہے۔ انڈیا کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ طالبان کی حکمرانی کو باقاعدہ اور سرکاری سطح پر تسلیم کرے یا نہیں۔ لیکن ابتدائی پس و پیش کے بعد بعد اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بھارت نے خطے میں اپنے معاشی مفادات کی خاطر افغان طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کا ذہن بنا لیا ہے۔اس تر پیش رفت کے بیچ ایک نئی قطبی طاقت کا عروج بھی دیکھا جا سکتا ہے جس میں چین، روس بھارت اور پاکستان شامل ہیں۔ چونکہ امریکہ کے ساتھ ایران کے تعلقات اچھے نہیں ہیں اس لیے بظاہر تہران بھی طالبان کو تسلیم کرنے کے حق میں نظر آ رہا ہے۔
