فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر بجلی کی قیمت میں پھر اضافہ

تبدیلی کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آنے والی وزیراعظم عمران خان کی حکومت تاریخی مہنگائی سے عوام کی چیخیں نکلوانے کے باوجود نہایت ڈھٹائی سے بجلی کی قیمت میں مسلسل اضافہ کیے چلی جارہی ہے اور اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ بجلی کی قیمت میں 5 روپے فی یونٹ کا تازہ اضافہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر کیا گیا ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا نے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 4 روپے 74 پیسے اضافہ کر دیا ہے۔ نیپرا کے نوٹیفیکشن میں کہا گیا ہے کہ یہ اضافہ اکتوبر 2021 کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے اور اب صارفین سے دسمبر میں بھیجے جانے والے بجلی کے بلوں میں یہ اضافی قیمت بھی وصول کی جائے گی۔ نوٹیفیکشن میں کہا گیا ہے کہ ان نئی قیمتوں کا اطلاق کراچی الیکٹرک کمپنی کے صارفین پر نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ساتھ قرضوں کے معاہدوں کے بعد سے بجلی کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جب بھی نیپرا کی جانب سے نئے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کا اعلان ہوتا ہے تو صارفین کی جانب سے ردعمل سامنے آتا ہے اورحکومت کے ناقدین اس پر بڑھ چڑھ کر تنقید کرتے ہیں۔
اس سے قبل نیپرا نے 15 اکتوبر 2021 کو بجلی کی فی یونٹ قیمت میں ایک روپے 68 پیسے اضافہ کیا تھا اور کہا تھا اس کا اطلاق یکم نومبر سے ہوگا۔ اب سوال یہ یے کہ آخر یہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز ہیں کیا؟ اس حوالے سے معاشی امور پر نگاہ رکھنے والے سینئر صحافی خلیق کیانی کا کہنا ہے کہ ’فیول کاسٹ کے حوالے سے سال کے شروع میں ہر مہینے کے حساب سے ٹیرف کاسٹ طے کر دی جاتی ہے۔‘
’فرض کریں کہ نیپرا نے یہ کہا کہ جون میں ٹیرف کاسٹ چار روپے ہو گی۔ لیکن اس میں بجلی بنانے کے لیے استعمال ہونے والے مختلف قسم کے ایندھن جیسے ایل این جی، گیس کی قیمیت اور پانی سے بجلی پیدا کرنے والے ذرائع کی صورت حال اور ڈالر کا ریٹ بھی کردار ادا کرتا ہے۔اگر پہلے سے لگائے تخمینے کے برعکس ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا تو وہ اضافی قیمت اگلے بلوں میں وصول کی جائے گی۔‘
یہ بھی پڑھیں: پاکستان مسئلہ کشمیر کے بعد افغانستان پر بھی ناکام ہو گیا
لیکن پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا نیپرا کا بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا عمل شفافیت پر مبنی ہوتا ہے؟ توانائی کے امور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی خالد مصطفیٰ نے فیول ایڈجسٹمنٹ کے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’پاکستان میں بجلی کی پیداوار کے لیے مختلف طرح کے ایندھن استعمال ہوتے ہیں۔ بجلی بنانے کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن جیسے کوئلہ، ایل این جی، ڈیزل اور فرنس آئل کی قیمت حکومت نے ماہانہ بنیادوں پر ادا کرنا ہوتی ہے۔ اب اکتوبر میں جو بجلی استعمال ہوئی، اس کے ایندھن کی قیمت زیادہ تھی۔ اکتوبر میں تقریباً 60 بلین کا فیول استعمال ہوا۔ اب ہمیں دسمبر کے بل میں وہ پیسے ادا کرنے ہوں گے۔ اسی لیے نیپرا نے 4 روپے 74 پیسے فیول ایڈجسمٹنٹ چارجز کی مد میں اعلان کیے ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ ’ایک ماہ میں یہ اضافہ عوام کے لیے بہت زیادہ ہوگا۔‘
