پاکستان مسئلہ کشمیر کے بعد افغانستان پر بھی ناکام ہو گیا


جس طرح پاکستان ماضی میں مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی قبضے کے خلاف او آئی سی کے پلیٹ فارم سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا، اب ویسی ہی ناکامی کا شکار وہ افغان مسئلے پر بھی ہونے جا رہا ہے۔ ویسے بھی ریاستوں کے سینوں میں دل نہیں ہوتے۔ ان کے فقط اپنے مفادات اور اپنی ترجیحات ہوتی ہیں اور وہ انتہائی سفاکی سے اپنی پالیسیاں ان کے تحت ہی تشکیل دیتی ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی نصرت جاوید کہتے ہیں کہ امریکہ اور یورپ والے طالبان اور پاکستان دونوں سے ناراض ہیں اس لئے افغانستان کے لئے کچھ اچھا ہونا خاصا مشکل نظر آتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے ہماری ریاست اور حکومت وقت کی فکر مندی اور بے چینی میرے ذہن کو اکثر تلملا دیتی ہے۔ ہماری شدید خواہش ہے کہ نام نہاد عالمی برادری طالبان کی کابل واپسی کے بعد قائم ہوئے حکومتی بندوبست کو فوراََ تسلیم کرے۔ امریکہ نے اس ملک کے غیر ملکی ذخائر کو فریز کر رکھا ہے۔ اس کی وجہ سے افغانستان کے بینک دیوالیہ ہونے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کاروبار میں شدید مندی ہے اور غیر جانب دار تبصرہ نگاروں کا اصرار ہے کہ طالبان کا مقاطعہ جاری رہا تو افغانستان کی آدھی آبادی فاقوں سے مرنا شروع ہوجائے گی۔ ایسا ہوا تو کم سن بچے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں زندہ نہ رہ پائیں گے۔
نصرت کے بقول افغانستان کے مستقبل کی بابت جو ہولناک خبریں آرہی ہیں انہیں کوئی پتھر دل ہی نظر ا نداز کرسکتا ہے۔ مجھ سے تو پرندوں اور جانوروں کی تکلیف بھی برداشت نہیں ہوتی اور افغانستان کے حوالے سے لاکھوں افراد کی اموات کا ذکر ہورہا ہے۔ اس کے بارے میں بے اعتنائی اختیار کرنا مجرمانہ سنگ دلی ہے۔ نصرت جاوید کہتے ہیں کہ میں آپ کو یاد دلانا بھی لازمی تصور کرتا ہوں کہ ریاستوں کے سینوں میں دل نہیں ہوتے۔ ان کے فقط مفادات و ترجیحات ہوتے ہیں اور انتہائی سفاکی سے وہ اپنی پالیسیاں ان کے تحت ہی تشکیل دیتی ہیں۔ ہماری جانب سے افغانستان کے حوالے سے نام نہاد عالمی ضمیر کو جھنجوڑنے کی لہٰذا جو کاوشیں ہو رہی ہیں مذکورہ تناظر میں کسی کام نہیں آئیں گی۔ وہ بتاتے ہیں کہ 19 دسمبر کو پاکستان اسلام آباد میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے ایک ہنگامی اجلاس کی میزبانی کرنا چاہ رہا ہے۔ ایسی کانفرنس ہم اگست 2019 میں تب بھی کرنے میں ناکام رہے جو مودی سرکار نے بزور بازو مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری ختم کرتے ہوئے اس کا سٹیٹس تبدیل کیا تھا۔ یعنی ہم تب بھی ناکام رہے تھے اور اب افغانستان کے معاملے پر بھی ناکام ہوتے نظر آتے ہیں۔
نصرت جاوید نے کہا کہ افغانستان کی بابت شور ڈالنے کو اگرچہ ہمارے برادر ملک آمادہ ہوگئے ہیں لیکن یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہے گا کہ یہ کانفرنس امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو کونسے ٹھوس اقدامات کے ذریعے افغانستان کے بارے میں نرم دلی اختیار کرنے کو مائل کرسکتی ہے۔ نصرت کہتے ہیں کہ ہمارے روایتی اور سوشل میڈیا پر چھائے ذہن سازوں نے ہمیں فروعات میں الجھا کر کنوئیں کے مینڈک بنارکھا ہے۔ 15 اگست 2021 کے دن سے امریکہ اور اس کے اتحادی جس ذلت آمیز انداز میں افغانستان سے فرار ہوئے اس نے واشنگٹن میں بیٹھی اشرافیہ کو چراغ پا کردیا۔ امریکی پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بیٹھے کئی سرکردہ اراکین نے ٹی وی سکرینوں پر براہ راست دکھائے اجلاسوں کے دوران اپنے جرنیلوں کو سخت ترین سوالات اٹھاتے ہوئے دیوار سے لگائے رکھا۔ امریکی صدر بائیڈن کی بھی اس ضمن میں مسلسل بھد اڑائی جارہی ہے۔ ایسے حالات میں فقط طالبان ہی نہیں پاکستان کو بھی ان کا سرپرست بتاتے ہوئے امریکی ذلت ورسوائی کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔ طیش و غضب کے اس عالم میں سفاک اشرافیہ انسانی مسائل پر غور کے قابل نہیں رہتی۔ امریکہ کی فیصلہ ساز اشرافیہ کی اجتماعی سوچ کا حقیقت پسندی سے جائزہ لیں تو بآسانی دریافت کیا جاسکتا ہے کہ وہ افغانستان کو اپنا درد سر تصور نہیں کرتی۔ وہ مصر ہے کہ طالبان اور ان کے حامی امریکہ کو افغانستان کا قابض ملک شمار کرتے تھے۔ اس قبضے سے نجات کے لئے 20 سال تک پھیلی جنگ ہوئی۔ اس جنگ کے دوران جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال ہوا۔ فریقین ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے بربریت کی آخری حدوں تک چلے گئے۔ لیکن بالآخر امریکہ کو ذلت ورسوا ہوکر افغانستان سے فرار ہونا پڑا۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ افغانستان سے فوجی انخلا کے بعد سے امریکی حکام کا پاکستان کے بارے میں رویہ مخاصمانہ ہے۔ طالبان کی کابل میں فاتحانہ واپسی کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ تھا کہ افغانوں نے بالآخر غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں۔ میرے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ واشنگٹن میں بیٹھے کئی اہم فیصلہ سازوں نے اس بیان کو واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیا۔
ان فیصلہ سازوں کا عمومی رویہ اب یہ ہے کہ امریکہ افغانستان کو جدید جمہوری ملک بنانے میں یقیناً ناکام رہا ہے۔ امریکی شکست کو مکارانہ انداز میں تسلیم کرنے کے بعد مگر وہ کندھے اچکا کر یہ پیغام دینے کو بھی بضد رہتے ہیں کہ افغانستان چونکہ طویل مزاحمت کے بعد آزاد وخودمختار ملک بن گیا ہے تو اب وہاں جو مسائل ابھر رہے ہیں ان کا حل فراہم کرنا بھی طالبانی بندوبست کی ذمہ داری ہے۔ طالبانی بندوبست اگر اپنے عوام کو مطمئن کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو نئی خانہ جنگی کے اثرات یقیناً افغانستان کے ہمسایہ ممالک تک بھی پہنچیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات میں ڈیڈ لاک: طالبان کا حملے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
بقول نصرت، پاکستان، ایران، ازبکستان اور تاجکستان اس ضمن میں سرفہرست ہیں۔ روس اور چین کے لئے بھی وہ تشویش کا باعث ہوں گے۔ امریکہ سات سمندر پار ہوتے ہوئے لیکن ممکنہ اثرات سے محفوظ رہے گا۔ اسے افغانستان کی بابت فکر مند ہونے کی لہٰذا ضرورت نہیں۔ اب افغانستان جانے اور اس کے ہمسائے۔ امریکہ اس کے حالات سدھارنے کے لئے مزید وقت اور سرمایہ ضائع کیوں کرے۔

Back to top button