مذاکرات میں ڈیڈ لاک: طالبان کا حملے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان


کپتان حکومت کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہو گئے ہیں جس کے بعد طالبان نے فائر بندی کے خاتمے اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف اپنی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے یکطرفہ طور پر گذشتہ ایک ماہ سے جاری جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے ان فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کیا جن پر اتفاق ہوا تھا۔
تحریک طالبان کے ترجمان محمد خراسانی کی جانب سے جنگ بندی ختم کرنے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے پچھلے ایک ماہ میں مذاکرات کی کامیابی کے لیے کوئی کوشش نہیں کی گئیں اس لیے جنگ بندی جاری رکھنا اب ممکن نہیں ہے۔دوسری جانب حکومت پاکستان کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
واضح رہے کہ تحریک طالبان سے مذاکرات کے بارے میں سب سے پہلے وزیر اعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں گفتگو کی تھی جس کے بعد یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ افغان طالبان ثالثی کا کاردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے بعد کالعدم تحریک طالبان اور حکومت پاکستان دونوں کی جانب سے مذاکرات کی تصدیق کی گئی اور گزشتہ ماہ ٹی ٹی پی نے جنگ بندی کا اعلان بھی کیا تھا۔ تحریک طالبان کی جانب سے یکطرفہ طور پر گزشتہ ایک ماہ سے جاری جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے ان فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کیا جن پر مزاکرات کے دوران اتفاق ہوا تھا۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کی جو وجوہات بیان کی گئی ہیں ان میں قیدیوں کی رہائی نہ ہونا، عسکری کارروایوں کا جاری رہنا اور حکومت پاکستان کی جانب سے رابطوں کا فقدان شامل ہیں۔
ٹی ٹی پی کی جانب سے 6 نکاتی معاہدے کی تفصیلات بھی بتائی گئی ہیں جس میں کہا گیا کہ ان کا 25 اکتوبر 2021 کو ’اسلامی اماارت افغانستان کی حمایت سے حکومت پاکستان کے ساتھ سمجھوتہ ہوا تھا‘۔ معاہدے کے مطابق فریقین نے قبول کیا تھا کہ افغان حکومت اس معاملے میں ثالث کا کردار ادا کرے گی اور دونوں فریق پانچ رکنی کمیٹیاں تشکیل دیں گے جو ثالث کی نگرانی میں آئندہ کے لائحہ عمل اور دونوں جانب کے مطالبات پر بات چیت کریں گی۔ بیان میں کہا گیا کہ فریقین نے یکم نومبر سے 30 نومبر 2021 تک ایک ماہ کی جنگ بندی، حکومت کی جانب سے 102 ’قیدی مجاہدین‘ کی رہائی، انہیں افغانستان کے ذریعے ٹی ٹی پی کے حوالے کرنے اور یکم نومبر 2021 کو جنگ بندی کے حوالے سے مشترکہ بیان جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ بیان کے مطابق حکومت نہ صرف فریقین کے درمیان طے شدہ فیصلوں پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہی بلکہ اس کے بجائے سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسمٰعیل خان، لکی مروت، سوات، باجوڑ، صوابی اور شمالی وزیرستان میں چھاپے مار کر طالبان عسکریت پسندوں کو نہ صرف ہلاک کیا بلکہ حراست میں بھی لے لیا۔ ٹی ٹی پی کا کہنا تھا کہ ’ان حالات میں جنگ بندی میں توسیع ممکن نہیں ہے‘۔
اس سے قبل ایک آڈیو میں مفتی نور ولی محسود نے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا اور اپنے جنگجوؤں سے کہا کہ وہ رات 12 بجے کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملے دوبارہ شروع کردیں۔ آڈیو میں مفتی نور کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ چونکہ ٹی ٹی پی کو ثالثوں یا حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، اس لیے نصف شب کے بعد، ان کے جنگجو جہاں بھی ہوں، دوبارہ حملے شروع کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
ٹی ٹی پی کا جنگ بندی ختم کرنے کا فیصلہ کئی دہائیوں سے ریاست کے خلاف جنگ لڑنے والے عسکریت پسندوں کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کی حکومتی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع نے ٹی ٹی پی کے اعلان پر کوئی ردعمل تو نہیں دیا لیکن یہ ضرور بتایا ہے کہ سیزفائر کے باوجود طالبان کی جانب سے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں کی شدت میں تیزی آ گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اگست کے وسط میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے فوراً بعد پاکستان کے اندر ٹی ٹی پی عسکریت پسندوں کے حملوں میں ڈرامائی طور پر اضافہ دیکھنے میں آیا تھا جس کے بعد افغان حکومت کے اصرار پر تحریک طالبان کے ساتھ امن مذاکرات شروع کیے گے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ میں پاکستان کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور
سرکاری ذرائع نے غیر سرکاری طور پر بتایا کہ مذاکرات کے نتیجے میں طالبان کے مطالبے پر 12 جنگجوؤں کو بھی رہا کیا جا چکا ہے جبکہ 100 کے قریب عسکریت پسندوں کو رہا کرنے کے معاملے پر ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ لوگ سنگین جرائم میں ملوث ہیں اس لیے ان کی رہائی کا فیصلہ نہیں ہو پایا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ غیر رسمی بات چیت کے دوران طالبان پر واضح کیا گیا ہے کہ کچھ ریڈ لائنز ہیں جن پر مذاکرات نہیں ہو سکتے، انہیں بتایا گیا ہے کہ پاکستان ایک آئینی جمہوریت ہے اور انہیں اسے قبول کرنا اور اس کی پاسداری کرنی ہوگی۔ تاہم کچھ اور ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں ڈیڈ لاک کی بنیادی وجہ طالبان کی جانب سے ریاست پاکستان کے سامنے ہتھیار نہ ڈالنے کا فیصلہ ہے۔ طالبان کی جانب سے کچھ اور ایسی شرائط بھی عائد کی گئی ہیں جو کہ حکومت پاکستان کو قابل قبول نہیں، ان میں فاٹا کے علاقوں میں شریعت کا نفاذ اور قبائلی علاقوں کو انضمام سے پہلے والی حیثیت میں بحال کرنا شامل ہیں۔

Back to top button