بھارتی حکومت گلوکار موسے والا کے بھائی کو حرامی ثابت کرنے پر کیوں تلی ہے؟



2022 میں قتل ہونے والے بھارتی پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے والد بلکور سنگھ نے پنجاب حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان کے نومولود بیٹے کی قانونی حیثیت ثابت کرنے کیلئے انہیں ہراساں کر رہی ہے۔اِس وقت سدھو موسے والا کی والدہ کی عمر 58 سال ہے، عام طور پر اس عمر میں بچے کو جنم دینا مشکل ہوتا ہے، انہوں نے بچے کو آئی وی ایف یعنی اِن وٹرو فرٹیلائزیشن تکنیک کے ذریعے جنم دیا ہے تاہم بچے کی پیدائش کے بعد نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے، سدھو موسے والا کے والد نے پنجاب حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ انہیں بچے کے جنم سے متعلق مختلف سوال کرکے انہیں پریشان کررہی ہے۔انسٹاگرام پر ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’صبح سے میں پریشان ہوں اور پھر سوچا کہ اس بات کا علم آپ لوگوں کو بھی ہونا چاہئے، پنجاب حکومت صبح سے مجھے بچے کی دستاویزات پیش کرنے کا کہہ کر پریشان کر رہی ہے، بچے کی پیدائش قانون تقاضوں کو دیکھتے ہوئے ہوئی ہے یا نہیں، اس پر حکومت مجھ سے مختلف سوالات کر رہی ہے، میں حکومت خاص طور پر وزیراعلیٰ بھگونت مان سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ پہلے بچے کا علاج مکمل ہونے کی اجازت دی جائے، جس کے بعد جہاں بھی آپ مجھے بلائیں گے، میں آؤں گا۔انہوں نے وزیراعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں آپ کو سخت الفاظ میں بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کو یو ٹرن لینے کی عادت ہے، آپ کے مشیر آپ کو ایسے مشورے دیتے ہیں کہ اس فیصلے سے پیچھے ہٹنا مشکل ہو جاتا ہے اگر آپ مجھے دھمکانے کی کوشش کر رہے ہیں تو نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں، میں یو ٹرن لینے والوں میں سے نہیں ہوں، جہاں تک قانون کا تعلق ہے میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا قانون کی پاسداری کرتے ہوئے 28 سال تک زندہ رہا۔انڈین قانون کے مطابق آئی وی ایف کے ذریعے بچے کی پیدائش کی خواہش مند خواتین کی عمر 50 سال سے کم اور مردوں کے لیے 55 سال سے کم ہونی چاہئے جبکہ سدھو کی والدہ چرن کور تقریبا 60 سال کی عمر میں آئی وی ایف کے علاج کے لیے انڈیا سے باہر گئی تھیں۔انسٹاگرام پوسٹ پر بلکور سنگھ تصویر میں وہ اپنے نومولود بیٹے کو پکڑے ہوئے ہیں اور پس منظر میں مقتول سدھو موسے والا کی تصویر رکھی ہوئی ہے جبکہ ان کے سامنے ویلکم کیک بھی رکھا ہوا ہے۔دوسری جانب پنجاب حکومت نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت سے مرکزی حکومت نے اس بارے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’دراصل مرکز کی بی جے پی حکومت نے پنجاب حکومت سے سدھو موسے والا کی والدہ سردارنی چرن کور کے آئی وی ایف علاج کی رپورٹ طلب کی ہے۔پیغام کے مطابق ’وزیراعلیٰ بھگونت مان پنجابیوں کے جذبات کا احترام کرتے ہیں، لیکن یہ دستاویزات مرکزی حکومت کی جانب سے مانگی گئی ہیں۔پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’تمام پنجابیوں اور سدھو موسے والا کے اہل خانہ کے خیر خواہوں سے درخواست ہے کہ وہ افواہوں سے دور رہیں اور ان پر کان نہ دھریں۔اس تنازع کے بعد کانگریس کے سینئر لیڈر سکھجندرسنگھ رندھاوا نے ٹویٹ کیا۔انھوں نے لکھا ’یہ کبھی توقع نہیں تھی کہ ایک وزیر اعلیٰ اس طرح کی ذاتی رنجش رکھ سکتے ہیں۔ اسی معاملے پر پنجاب پردیش کانگریس کے صدر امریندر سنگھ راجاورنگ نے اپنے فیس بک لائیو میں کہا کہ بلکور سنگھ ایک سابق فوجی ہیں جو قانون نہیں توڑ سکتے۔سدھو موسے والا کے تایا چمکور سنگھ نے بی بی سی پنجابی کو بتایا کہ بھٹنڈہ کے محکمہ صحت کے چار سے پانچ اہلکار ہسپتال آئے اور تمام ریکارڈ زبردستی لے گئے۔ان کا دعویٰ ہے کہ ہسپتال کے سی سی ٹی وی کیمرے سے اس کی تصدیق ہو سکتی ہے۔

Back to top button