بھارتی سکھوں کے حق میں بنی پاکستانی ویب سیریز سیوک

1984 میں انڈیا میں سکھوں کے خلاف ہونے والا آپریشن گولڈن ٹیمپل اور اس کے ردعمل میں اندرا گاندھی کے قتل کے واقعات بارے بنائی گئی سیوک نامی پاکستانی ’’ویب سیریز‘‘ کو بھارت میں ریلیز ہونے سے روک دیا گیا ہے، لیکن ناقدین کی جانب سے اسے تاریخ کے بوسیدہ اوراق میں نئی روح پھونکنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان سے پہلی بار کسی ڈرامہ سیریز میں انڈیا کے واقعات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ آٹھ اقساط پر مشتمل یہ ویب سیریز آر ایس ایس اور بی جے پی کی پالیسیوں اور اس کے ردعمل پر مبنی ہے۔

سیوک کی کہانی بنیادی طور پر انڈیا میں ہونے والے 1984 کے واقعات پر مبنی ہے لیکن اس کی زمین میں جڑیں بہت گہری ہیں، اس سیریز میں دکھایا گیا کہ تحریکیں جنم کیسے لیتی ہیں؟ انقلاب کی قیمت کیا ہوتی ہے؟ بھارت میں کسان تحریک نے 80 کی دہائی میں اپنی جڑیں اتنی مضبوط کر لی تھیں کہ پوری دنیا کے میڈیا پہ اس کا چرچا ہوا۔ پنجابی کسانوں کی تحریک، الگ سر سبز زمین کی بات کیونکر ہوئی کہ وہاں سکھ محفوظ کیوں نہیں رہے تھے۔ ان کا قتل عام کیوں ہونے لگا۔ یہ کہانی کچھ سوالوں کے جواب دیتی ہے تو کچھ سوال اٹھاتی ہے جیسے کہ کیا انڈیا صرف ہندوؤں کا ہے؟ کیا ان کے ہیروز صرف ہندو ہیں۔ کیا سکھوں کا بھارت پر کوئی حق نہیں؟

اس ویب سیریز کی کہانی ایک پنجابی فلم سٹار جیت سنگھ کی روڈ ایکسیڈنٹ میں موت سے شروع ہوتی ہے جو دل پریت سے شادی کرنے والا تھا لیکن دونوں ایک ٹرک کی زد میں آ کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ جیت کی کہانی اب فلیش بیک میں شروع ہو گئی ہے، یونہی ودتیا کے والد کی زندگی فلیش بیک میں چل رہی ہے۔ یہ رواں طرز کی کہانی نہیں ہے، تجریدی آرٹ ہے۔ سیریز کی کہانی مکمل توجہ کھینچ لیتی ہے، پلاٹ اتنا مضبوط ہے کہ ایک سین بھی مس ہو گیا، کہانی ادھوری رہ گئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ویب سیریز آرٹ کا ایک ایسا نادر نمونہ ہے جسے سکرین کے مناظر میں ڈھالنا اس لیے بھی دشوار تھا کہ ایک ملک کو اس کی تمام تر تہذیب سمیت دوسری زمین پر اگانا بھی تھا۔ زبان و بیان، تہذیب و ثقافت اور جغرافیہ کواتنا بھر پور دکھایا گیا ہے کہ دوری کا گمان بھی نہیں ہو رہا۔ ہمیں شاید بہت سی باتیں یاد نہ ہوں مگر بابری مسجد کا واقعہ یاد ہو گا، گولڈن ٹیمپل کا سانحہ یاد ہو گا، اندرا گاندھی کا قتل یاد ہوگا، ان واقعات کے درمیان کیا کہانی تھی مصنف نے اس کو لکھا ہے جس کے لیے کرداروں میں پیشوں کا انتخاب سب سے جاندار ہے۔

ساجی گل اس سیریز کے مصنف ہیں۔ انجم شہزاد ہدایت کار ہیں جبکہ موسیقی نوید ناشاد نے دی ہے۔ اس چونکا دینے والی سیریز کے مصنف انجم شہزاد نے بتایا کہ اس سیریز کا آئیڈیا تو ایسے آیا کہ دنیا اب گلوبل ولیج ہے۔ کہیں کچھ بھی ہوتا ہے تو اس کا اثر آپ پر آتا ہے اور انڈیا تو پھر ہمارا ہمسایہ ملک ہے جس کی تہذیب میں بھی مماثلت ہے لہٰذا مجھے لگا یہی اس کہانی کا وقت ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اس کی سب سے اہم بات وہ زبان، وہ کلچر، وہاں کی میتھالوجی کو جاننا، اور اس کے مطابق ہر شے کودیکھنے کی فلاسفی تھی۔ زبان کو صحیح معنی میں پیش کرنا اور منظر کرنا تھا۔ کچھ مجھے بچپن سے ہندی لکھنا پڑھنا آتی تھی اس نے بہت مدد دی۔ انہوں نے بتایا کہ ’تاریخ اور مذاہب بھی ان کا پسندیدہ موضوع رہا چنانچہ یہ مطالعہ اور شوق بہت کام آیا۔ ایک ماہ میں سیریز لکھنا تھی جس میں سابقہ شوق، مفصل مطالعہ اور مسلسل جو واقعات ہوتے رہتے ہیں، ان کی تفصیلات پڑھتے رہنے کی عادت بھی کام آئی، یہ سب مدد گار ثابت ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ اس سیریز کو فلمانا، انڈیا کا ماحول تخلیق کرنا بہت مشکل تھا۔ آرٹ ٹیم نے بہت اچھا کام کیا، کوئی تین چار زبانیں اس میں بولی گئی ہیں، جو ہم نہیں بولتے۔ اداکاروں کا ان کو پوری مہارت سے بولنا، کردار میں ڈھل جانا، یہ سب بہت مشکل تھا لیکن اب ہر طرف سے یہی فیڈ بیک آ رہا ہے کہ لگ رہا ہے کہ یہ انڈیا ہی ہے۔اس سیریز نے مصنف اور ہدایت کاروں کو ہی کہانی کا وسیع کینوس نہیں دیا بلکہ باذوق ناظر کو بھی اپنے ساتھ جوڑ لیا ہے۔’سیوک‘ نے تاریخ کے بوسیدہ اوراق میں روح پھونک دی ہے، جس کا چرچا بہت دور تک ہوگا۔

Back to top button