بھارتی عزائم سے پورے خطے کو خطرہ ہے

آزاد جموں کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر خطرناک ہتھیار نصب کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکمرانوں کے ناپاک ڈیزائنز نہ صرف پاکستان کےلیے خطرہ ہیں بلکہ یہ پورے خطے کے امن کےلیے بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔
گورنر ہاؤس کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسلام آباد گزشتہ سال 5 اگست سے کشمیر کے لیے آواز اٹھا رہا ہے اور کشمیری عوام 22 کروڑ پاکستانیوں کی اٹوٹ حمایت کےلیے ان کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے (خطے کے) جعلی اور من گھڑت نقشے جاری کیے لیکن پاکستان نے اس کا شاندار جواب دیا۔ بھارتی حکمرانوں کے ناپاک ڈیزائنز نہ صرف پاکستان کےلیے خطرہ ہیں بلکہ یہ پورے خطے کے امن کےلیے بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔
واضح رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ وادی کی اس خصوصی اور خودمختار حیثیت کا خاتمہ کردیا تھا جو 1947 سے اسے حاصل تھی۔
صدر آزاد کشمیر نے خبردار کیا کہ بھارت کا جارحانہ ڈیزائن خطے کے امن اور پورے برضغیر کی سکیورٹی کےلیے بڑا خطرہ ہے اور جنگ کی صورت میں بھارت کو مہلت نتائج کےلیے تیار رہنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم بلوچستان کے لوگوں کے بے حد شکرگزار ہیں جنہوں نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلیے پورے صوبے میں مظاہرے کیے اور ریلیاں نکالیں۔ میں کشمیری بھائیوں کی طرف سے بلوچستان کے عوام کا شکریہ ادا کرنے کےلیے کوئٹہ آیا ہوں۔
مسعود خان کا کہنا تھا کہ بھارت نے لائن آف کںٹرول پر مہلت اور خطرناک ہتھیار نصب کردیے ہیں اور ان ہتھیاروں میں سے زیادہ تر آزاد کشمیر کے معصوم عوام کے خلاف استعمال ہورہے ہیں، عالمی برادری کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے’۔
اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم اور مسلمان ممالک کی کشمیر کاز کی حمایت نہ کرنے کے بھارتی دعوے کو بے بنیاد پراپیگینڈا قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ کشمیر کے معاملے پر سمجھوتہ کرنے سے متعلق خبروں کو بھی مسترد کردیا اور اس سلسلے میں بھارت سے کسی بھی طرح کے رابطے کو بے بنیاد کہتے ہوئے اس کی واضح طور پر تردید کی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیری عوام کی رضامندی کے بغیر مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوسکے گا۔
